زند گی کے رنگ قسط ٢٣
میری زندگی ایسے موڑ پر آکر رکے گی . اس کا شک و شبہ بھی نہیں ہوا تھا . زندگی کے راستے اتنے کٹھن اور دشوار کن ہو جائیں گے اسکا مجھے کبھی علم نہیں ہوا تھا . کتنی حسین اور خوشگوار تھی میری لائف نہ بزنس کی فکر اور نہ ہی کسی گھریلو جھگڑوں کا جھنجٹ اور نہ ہی رشتوں کو ساتھ لے کے چلنے کی فکر ہر طرف خوشحالی اور محبتوں کے میلے ، ہر سو ممتا اور شفقت کے خوبصورت سہارے نہ کوئی روک نہ ٹوک نہ ڈانٹ نہ ڈپٹ اور نہ کسی کی ناراضگی اور نہ ہی بے رخی ، اب ذرا عمر نے کیا ترقی کی ہر بات میں ترقی ہوگئی ، نفرتوں میں ، بے رخی میں اور رشتوں کی بے اعتنائی میں بہرحال ہر طرف سے مجھے ایسے سایے نظر آرہے ہیں جنھیں دیکھر مجھے زندگی سے ڈر سا ہونے لگا. یہ نااتفاقیاں اور دوریاں کہیں مجھے زندگی سے موت کی ڈگر پر لے کر تو نہ جائیں گے ؟، کہیں میں بھی اچانک سے دنیا سے غائب ہونا جاؤں گا . خاص کر امی کا ایسا روپ دیکھنے سے تو بہتر ہوتا میں مر ہی جاتا ، نہ شادی نہ اولاد اور نہ یہ دن دیکھنے کو ملتے ، ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا ؟ واه رے زندگی تیرا رنگ نرالا روپ نرالا اور اب انداز بھی بہت خوب نرالا ہے کب کسے تذلیل کردے گی اور کسے عزت دو گی اور کب کون تجھ سے دھوکہ کھائے گا اور کس سے تو دھوکہ کھا ئے گی پتہ ہی کہاں چلنے والا ہے .
ان سارے مسائل کو اگر ہما کے دوبد و رکھوں گا تو میری عزت آبرو کا خاتمہ ہوہی جائے گا . ساتھ میں عزت اجداد بھی جائے گی . ان تمام باتوں کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہوسکتا ہے اور وه ہے میرا ملک بدر ہوجانا ، کیونکہ امی مجھے گھر سے بے گھر کر رہی ہیں اس کے بعدجلاوطن کررہی ہیں ، ضمیر تو ہر طرح سے مطمئن ہوگیا اس نادر فیصلہ سے لیکن دل سارے پیارے رشتوں کو الوادع کہنے سے درگزر کررہا ہے . اب کیا کیا جائے اس کا آخری فیصلہ ہما پر ہی چھوڑ دیتا ہوں .
چاہے کچھ بھی ہو جائے میں گھر جمائی بننے والا نہیں ہوں . یہ میرا مصمم اراده ہے اور آخری تجویز بھی . اب وہ جا کر بستر پر لیٹ گیا اور سکون کی نیند بھرنے لگا۔ ذہن بھی تمام تر بے کار کے لمحات کو نکال باہر کردیا .
ہماری زندگی ہوگی ہمارے ہاتھ
رنگوں کی برات سب ہمارے ساتھ
مل جاتے سب ایک دوسرے میں رنگ
ہووفا کا رنگ آنکھوں میں ہمیشہ ساتھ
( جاری ہے)( باقی آئندہ) (فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)