حلال کمائی
آج جو فیصلہ وہ کرکے نکلی وہ اٹل تھا بس اسے فیصلے سے مکرنا نہیں ہے بہت سونچ سمجهکر اس نے یہ فیصلہ لیا تھا . بہت کرلیا صبر اب اور صبر کی گنجائش نہیں جو ہوگا دیکھا جائے گا، آخر اسکی اپنی زندگی ہے اسکا اپنی زندگی پر پورا اختیار ہے کب تک وہ اس طرح سے گھٹ گھٹ کر جیے گی اسکی خوشیاں وہاں اسکی منتظر تھی . ایک خوب صورت مستقبل پھولوں بھری راہوں سے اسکا استقبال کر رہا تھا .
اس غربت کی زندگی نے اسے دیا ہی کیا ہر وقت غریب ہونے کی اذیت اور ماں کا اداس چہره جس کو دیکھر زندگی اور دنیا سے کوفت ہونے لگتی ہے بھائی کی آس اور امیدوں سے بھری آنکھیں جن میں ایک امیر بننے کے سپنے دم توڑتے نظر آتے ہیں اور جو کبھی پورے نہیں ہونے والے ہیں .
بکسے میں ماں کا سونے کا ایک تولے کا کالی پوت کا لچھا تھا جو اس نے اپنے پھٹے پرانے پوچھ میں رکھ لیا کالج بیگ میں دو جوڑے کپڑے کتابوں کی جگہ رکھ لیے اور پڑوس کی آنٹی نے پروسوں ہی ایک خوب صورت سینڈیل اور برقعہ رمضان کے موقع پر دلوایا تھا کالج کے لئے بس وہی پہن کر رخسانہ اپنے عاشق عمران کے بتائے ہوئے اڈریس پرجلد از جلد پہنچنا چاہتی تھی .
یہ راستہ اوخدا کیوں اتنا طویل لگ رہا ہے فرلانگ کی گلی اب کئی میل لا مبی نظر آرہی تھی .
پارک پہنچ کر اس نے ادھر ادھر دیکھا کوئی دیکھ تو نہیں رہا ہے ، اس چلچلاتی دھوپ میں وہاں آدم ہے نا کوئی آدم زاد وہ وہیں ایک درخت کے نیچے رک گئی اپنے موبائل کو نکال کر وقت دیکھنے لگی بتائے ہوئے وقت سے آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا وہاں تو کوئی نہیں . اور کچھ دیر رکنے کا خیال کیا اور موبائل پر باربار میسجیس چیک کرنے لگی اسکا واٹس ایپ تو بند بتارہا ہے .
قریباً دو گھنٹے گزرنے کے بعد وہ ناامیدی کی بری گھڑی لے کر گھر کی طرف مرده قدم اٹھاتے ہوئے واپس ہونے لگی .
آگئی بیٹی کالج سے ماں نے اسے دیکھکر قریب آتے ہوئے پوچھا . اچھا ذرا میرا وہ کالی پوت کا لچھا نکال کردے تو ذرا ، رقم کی ضرورت ہے مالکن سے ذکر کیا تو رہن پر رکھ لینے تیار ہوگئی آصف کی فیس جمع کرنی ہے . جب تمھیں فون کی ضرورت تھی پڑھائی میں تب بھی میں نے یہی ہار رہن پر رکھا تھا بس تمھارے ابو کی یہ پونجی بہت کام آرہی ہے حلال کمائی سے جو خریدی تھی .
رخسانہ نے کمرے میں جاکر بیگ سے ہار نکالا اور ماں کے حوالے کردیا اور ساتھ میں فون نکال کر عمران کا نمبر ڈیلٹ کر کے نمبر بلاک کر دیا .
فہمیدہ تبسم نلگنڈہ ۔
اوصاف ، حریم ادب مورخہ 9 / جولائی 2023