فیس بک

ہاتھوں میں دستانے اور پیروں میں جراب پہنتے ہوئے وہ پورے حجاب کے ساتھ اپنی امی کو اللہ حافظ کہتی ہوئی باہر آگئی . اور اپنے بیا گ سے آئی فون نکال کر فیس بک اکاونٹ چیک کرنے لگی . جس میں اسکے بائے فرینڈ کے ڈھیر سارے پیغامات موجود تھے .
الشبا ایک دین دار گھرانے کی لڑکی تھی اور ماں باپ کی بہترین تربيت میں بھی شامل تھی . شیما ہمیشہ اپنی پڑوسن رقیہ سے کہتی کہ ہر اتوار جو خواتین کا اجتماع ہوتا ہے اس میں شرکت کریں تاکہ راعنا اور رقیہ کو بھی دینی معلومات حاصل ہوں . پر رقیہ مسکراکر یہی جواب دیتی کہ اسکے شوہر ہفتہ بھر میں ایک دن ہی گھر پر رہتے ہیں اس لئے وہ نہ آنے کی معذرت چاہتی . رقیہ کے دو بچے ایک لڑکی راعنا اور لڑکا رافع بہت ہی سلجھے ہوئے بچے تھے ان کے گھر ایل۔ ای ڈی تھا پروہ نمازوں کے بھی پابند تھے .
شیما ہمیشہ سے طنزیہ ، بالواسطہ طور پر کہتی رہتی کہ آپ کا گھرانہ دین سے بے بہرہ ہو رہا ہے بچوں پر کڑی نظر رکھنا چاہیے. ساتھ ہی ساتھ اپنی الشبا کی ڈھیر ساری تعریفیں کرتی جاتی کہ ہماری لڑکی دیکھئے پردے کی پابند ہے ماشاءاللہ دین میں کافی آگے ہے . پورے حجاب سے باہر نکلتی ہے جبکہ راعنا صرف اسکارف ہی پر اکتفا کرتی ہے .
آج شيما کے گھر پر پولیس کیوں آئی ہے ؟ رقیہ نے اپنے شوہر سے پوچھا اسلم صاحب نے باہر دیکھا ! ہاں پتہ نہیں کیا بات ہے قریشی صاحب بھی ساتھ میں ہیں .
جاکر معلوم تو کریں بات کیا ہے ؟ ہاں وہ بھی باہر کو آ گئے .
کچھ دیر بعد وہ دوباره اپنے گھر میں داخل ہوتے ہیں کیا بات ہے ؟ رقیہ نے تجسس سے پوچھا
ان کی لڑکی کسی لڑکے کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے .. کیا ! ہاں پولیس میں رپورٹ درج کرائی گئی تفتیش جاری ہے . بہت شرمنده ہیں وہ اس لئے میں نے بھی زیادہ بات نہیں کی .....
فہمیدہ تبسم  نلگنڈہ، اردو پنڈت ،ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ ، حیدرآباد .
اوصاف( شامنامہ) لا تور ادبی صفحہ حریم ادب 26 / مارچ 2023

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]