بوڑھا بابا درخت

 ندی کے کنارے ایک گاؤں تھا ، اس گاؤں کے لوگوں میں بڑا خلوص قائم تھا وہ ہر آنے والے مسافر کی اچھی طرح خاطر مدارت کرتے تھے ، گاؤں کے بیچوں بیچ ایک گھنا درخت تھا جس کی جڑیں اس کی ضیعفی کی شہادت دے رہی تھیں . گاؤں کی پنچایت بھی اسی درخت کے نیچے ہوتی اور ہر اہم معاملہ جو بھی ہو اسی درخت کے نیچے ہوتا تھا .
اب مسافرين کی آمد و رفت اور انکی ضیافت بھی وہیں ہوتی سایہ دار درخت ہونے کی وجہ سے زیادہ مجموعہ بیٹھک کرسکتا تھا .
گرما کی چھٹیوں میں سارے گاؤں کے بچے یہیں آکر کھیلتے اور جھولے ڈال کر جھولتے .
انسانی زندگی کا یہ ایک بڑا وسیلہ تھا جبکہ اوپر ٹہنیوں پر پرندوں کے ڈھیر سارے گھونسلے موجود تھے .
اچانک ایک دن بیٹر کاٹنے کی گاڑی مشین لے کر آگئی اور اس درخت کو کاٹنے کی تیاری کرنے لگی . یہ بری خبر سارے گاؤں میں آگ کی طرح پھیل گئی اور سارے گاؤں والے کام کاج چھوڑ کر دوڑے دوڑے چلے آئے اور اس غلط کام کو روکنے لگے .
اب اس درخت میں وہ پہلی جیسی خاصیت نہیں ہے اس کے پتے سوکھ کر جھڑنے لگے اور جڑیں کھو کھلی ہوگئی ہیں جو دور دور تک پھیل کر زیر زمین دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اس لئے ہمیں اس درخت کو کاٹنا ضروری ہے افسر نے مجموعہ سے مخاطب ہو کر کہا .
 اچھا آپ کے گھر میں کون کون رہتا ہے سر ؟ ایک معصوم بچے نے آگے بڑھ کر افسر سے سوال کیا ، میرے گھر میں میرے ماں باپ اور ہماری فیملی ، کیوں ؟ آپ کے ماں باپ کو گھر سے نکال دیں سراب وہ کسی کام کے نہیں بوڑھے ہوگئے ہیں اور گھر کو خراب بھی کر رہے ہیں ، خبردار وہ ہمارے بزرگ ہیں ان سے گھر میں رونق ہے وہ ہمیں زندگی دیئے ہیں اور کیا بوڑھے ہونا قصور ہے ؟ ہاں سر یہی بات میں نے آپ کو سمجھنا چاہی اس درخت سے ہمارے تعلقات بہت گہرے ہیں ہم اس درخت کو نہیں کاٹنے دیں گے ، اگر اس سے کچھ دقت ہوگی تو بھی ہم سہہ لیں گے .
 یہی نہیں ہم اور درخت لگائیں گے ہمارا گاؤں کی یہ نشانی ہے ہمارے پیٹر سے پہچاننے جائے گا سر ، اور اس درخت سے نقصانات کم اور فائدے زیاده ہیں یہ ہمارا بزرگ ہے دادا ، نانا ہے سر ، اس کو کاٹ کر آپ ہمارے بزرگوں کو ختم کرنا چاه رہے ہیں ؟ اتنا چھوٹا بچہ اور اتنی سمجھ داری کی بات افسر حیران رہ گیا۔
 ٹھیک ہے اگر آپ سب کی بھی یہی رائے ہے تو ہم اپنا مشن واپس لے جاتے ہیں .
 شکریہ سر سب نے یک ساتھ کہا 
" ہمارا گاؤں ہمارا درخت " یہی ہمارا نعره ہے اور پیٹر لگاؤ زندگی بڑھاؤ سب نے قہقہہ لگایا دیا .....

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]