غزل
اتنی سی بس ہماری کہانی ہے
طبیعت میں وہی بے قراری ہے
دیدار کے لئے دل بڑا تمنائی ہے
ضبط کی حد کو پار کرنا ہے
ایسی باتوں میں ورنہ رسوائی ہے
محفل میں ہر طرف شور سا برپا ہے
اندر بسی یہ پھر کیوں تنہائی ہے
ظاہر وہ کرتا رہا خود کو مطمئن
تبسم کو پتہ ہے باطن میں اداسی ہے
فہمیدہ تبسم ۔۔۔