خیال تبسم

لفظ قربانی ميں بہت سے راز پوشیده ہیں
سب سے پہلے ایک راز فاش کریں تو مطلب یہ نکلتا ہے کہ انسان نفس اماره پر قابو پانا بہت بڑی قربانی ہے .
اپنے اصول کو کسی کی خوشنودی کی خاطر قربان کرنا بھی بڑی قربانی ہے . قربانی یہ ہے کہ اپنی پسند یده وقت کی گھڑی یا لمحہ کسی کی نظر کرنا ہے . صرف اس لئے اس کو چاہنا کہ الله ہم سے راضی ہو جائے یہ بھی تو قربانی میں آتا ہے .
والدین کا اپنی اولاد کو بہتر تربیت دینا فرض ہوگا لیکن دوسری طرف ان کی بہت بڑی قربانی ہی تو ہے کہ وقت ، صحت اور اپنی ساری خواہشات ، مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر اولاد کے بہتر مستقبل کی فکر میں لگے رہتے ہیں . اور تا حیات اولاد کو صراط مستقیم پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں جس کے لئے انھیں اپنے سارے ارادے ترک کرکے مثالی زندگی جینا پڑتا ہے یہ بھی تو قربانی میں شامل ہے ، ایک استاد کو ہر طرح کے طالب علم کے خیالات کو لیکر چلنا پڑتا ہے یہ بھی تو احساسات و جذبات کی قربانی میں شامل ہے۔ 
اگر ہم سونچیں گے تو ساری زندگی قربانی دیتے دیتے گزر جائے گی جو اگر صرف اور صرف خدا کی ذات کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہوگی اور محسوس بھی نہ ہوگا کہ ہم نے کیا کھویا ہے اور کیا پایا ہے .
شکریہ ...
  خیال تبسم ....✍️

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]