خیال تبسم
تم سے بات کرتی ہوں تو خوشی میں جھوم اٹھتی ہوں میرا انک انگ نکھر جاتا ہے .
دیکھو تم اسے محبت نہ سمجھ بیٹھنا جب تم سے بات کرتی ہوں تو دل کو سکون ملتا ہے آنکھوں میں چمک سی آجاتی ہے پھر بھی تم اسے محبت نہ سمجھنا تمھارا خيال میرے روح میں اتر جاتا ہے میرا روم روم خو شبو سے معطر ہوجاتا ہے ہاں مگر دیکھو تم اسے محبت نہ سمجھنا پل پل تمھیں سونچتی ہوں ہر لمحہ بس تمھارے لئے رکھ چھوڑ تی ہوں . تمھارے معصوم اور خوب صورت الفاظ سے محظوظ ہوتی ہوں مگر پھر بھی تم اسے محبت نہ سمجھنا ہر وقت تمہارے لئے تیار ہونے کو دل کرتا ہے تمھارے پہلو میں بیٹھنے کی چاه ہوتی ہے دل اڑ کر تمہارے پاس آنے کو کرتا ہے نادان دل کے اس بے تکے ارادے کو تم کبھی بھی محبت نہیں سمجھنا
یہ تو بس دل کی لگی ہے یا دل لگی ہے جو بھی ہے مگر تم کبھی اسے محبت نہ سمجھنا .
خیال تبسم .....
فہمیدہ تبسم نلگنڈہ