غزل

کتنے دکھ خوشی کے لئے جھیلے گئے 
 چاہت گل میں دامن کو خار دار  کرتے گئے
 
صبر سے کبھی شکر سے کام لیا
یوں زندگی کو باہوں میں لئیے چلتے گئے

نہ ہوئی کبھی شام تپتی دھوپ کی مری
 سایہ فگن کی آس میں دل کےآبلے نکلتے گئے

ساتھ رہتا کسی چاره گر کا سفرمیں
راہ آساں سے قافلے سبھی منزل پہنچتے گئے

دعا کی طرح تبسم کومانگے ہے کوئی
  دل میں ملن کی تسبیح پھر پڑھتے گئے
فہمیدہ تبسم 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]