غزل

راز دل افشا نہ ہو جائے خاموش رہنا پڑتا ہے
دل بھی کہیں سن نہ لے لبوں کو سینا پڑتا ہے

دھڑکن کی آواز اور یہ شور شرابہ اس کا
بغاوت پہ اتر نہ آئے وہ کہیں ڈرنا پڑتا ہے

بہت ہی بے درد ہوتی ہے دنیا کی روش
قدم قدم پر ہمیں دنیا داری کرنا پڑتا ہے

کوئی کسی کے لئے جان کیوں دے گا بھلا
 تماشے کے لئے سامنے سب کے مرنا پڑتا ہے

بات جب نکلتی ہے اس کی محفل میں
طرف داری میں اس کی تبسم لڑنا پڑتا ہے
فہمیدہ تبسم 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]