غزل

دل شکستہ جان شکستہ روح بے قرار ہوتی ہے
جب کسی کو کسی سے الفت و محبت ہوتی ہے

پھر اس پر کسی کی اعتنائی جب ہوتی ہے
طلب زندگی اسی کی  صحبت و فرقت ہوتی ہے

کتنا معصوم ہوتا ہے لمحہ دیدار بھی
دل بے قرار کودوبارہ چاہت و عنایت  ہوتی ہے

مل کر جو کرے وعدے وفا بہت مگر
لمحہ جدائی میں ندرت و لطافت ہوتی ہے

بندھن حقیقی ہوتو روز نکھر جاتا ہے
انجان رشتہ میں مشت و رویت ہوتی ہے

شکر ہے دل میں چاہت محفوظ رکھی ہے
آنکھوں میں مگرطلب قربت و فرقت ہوتی ہے
فہمیدہ تبسم ، نلگنڈہ 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]