غزل

کونے میں دل کے دستک ہوئی ہے
کوئی آیا ہے جو آہٹ سی ہوئی ہے

دھوکہ ہوا جو کھولا دریچہ وہاں
کوئی نہیں خوش فہمی سی ہوئی ہے

دیوار و در کو حسرت سے کبھی
دل کے دیکھ کر اداسی سی ہوئی ہے

یہ آج کل دل کو میرے یاخدا
کس مہرباں سے شناسائی سی ہوئی ہے

منزل کی خبر نہیں ، انجان راہوں میں
  چاره گر کی تبسم متلاشی سی ہوئی ہے
فہمیدہ تبسم 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]