غزل
حیراں ہے وہ میری چپ سے
بڑا معصوم ہے وہ میرا ہم دم
گھڑیاں گنتا ہوگا ملاقات کی وہ
کب آئے گی و صل کی رم جم
شب فرقت کا ہر ہر لمحہ
قیامت سے نہ کبھی ہوگا دم خم
دیدار یار کی طلب ہوتی ہے ایسی
تکتا ہو ا چاند کو کوئی عجم نجم
سجا کے تبسّم کی کلیاں لبوں پہ
تصور میں کھوجاتی ہوں گم سم
فہمیدہ تبسم