غزل
مزار پر پھول مری سجاتا ہو گا
ان کہی محبت ان کہے جذبات اور
نہ جانے آنسو کتنے سونچ کر بہاتا ہوگا
خودی روتا خودی سے ہنس کر دنیا کے
شکوے مجھ سے کہتا چلا جاتا ہوگا
چاہتا جو چند گھڑیاں اور گزارے
میری سنگت سے پھر وہ گھبراتا ہوگا
جدا ہو گئی تم تبسم مجھ سے نہ کی فکر ذرا
حیات کو اپنی جاتے ہوئے پھر کوستا ہوگا
فہمیدہ تبسم