غزل

کہنے کو تو دوست بہت ملتے ہیں
دل سے مگر رشتے بہت کم ملتے ہیں

روشن ہوا سورج جاگ اٹھا سویرا
رات ہو ایسی بھی جہاں اجالے ملتے ہیں

خار سے بھری راہیں چلنا محال ہوگیا تو کیا غم
منزل کی جستجو ہو جن کو بہار گل وه چنتے ہیں

ہو گی اک سحر ہزار راتوں کی یوں بھی تو
سجدوں سے جس کے بخشش کے خزانے کھلتے ہیں

کرتے ہیں جو صبر جمیل تبسم کے ساتھ ہمیشہ
دعاؤں کی تاثیر سے قبولیت کے فیصلے ملتے ہیں
 فہمیدہ تبسم

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]