اشعار

سبز قالین جیسے بچھا دی ہے کسی نے نیچے دور تلک

او پر غروب آفتاب جیسے سرخ گولا نظر آئے جو فلک

اس خوب صورت دنیا میں ہوں تو محسوس ہوا

پھر بھی میری دل کی دنیا کتنی ویراں سی ہے

گلے لگاتا ہوا چلا جارہا ہے یہ آسمان زمین کو

افق کے ان سایوں میں آرزو کہ خود کو چھپاؤں

بس کوئی تو آئے مخلصی کی بتائے ذرا سی جھلک
فہمیدہ تبسم 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]