فورٹ ولیم کالج
10/ جولائی 1800ء کو کلکتہ میں ایسٹ انڈیا کی زیر سرپرستی گورنر جنرل لارڈ ویلزلی کے حکم سے فورٹ ولیم کالج کا قیام عمل میں لایا گیا . انیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں یہ اردو ادب کا مرکز قرار دیا گیا .
یہ بات تو مصمم ہے کہ ہمارے ملک میں انگریزوں کے قدم جمنے کا اہم سبب مغلیہ سلطنت کا خاتمہ آہستہ آہستہ سے شروع ہونا تھا .
پہلے پہل تو ہندوستانیوں کو انگریزی تعلیم دینے کا سلسلہ اسکولوں کے آغاز سے کیا گیا تھا اور یہ اسکول ان توقعات کے ساتھ بھی وابستہ رہے کہ کمپنی اور عوام کے درمیان خوشگوار تعلقات بنے رہیں گے . اور پھر اس کے بعد فورٹ ولیم کالج کے قیام کا اعلان کیا گیا اس کے قائم کرنے کے مقصد میں مفاد شامل تھا وہ یہ کہ انگریزوں کی سیاسی مصلحت پوشیده تھی انگلستان سے آنے والے نئے کمپنی ملازمين کی صحیح اور باقاعده تربیت ، انگلستانی نوجوان ملازمین کی علمی قابلیت میں اضافہ کرنا ، یہاں کی طرز معاشرت کو قریب سے پرکھ کر اس سے واقفیت حاصل کرنا تاکہ سیاست میں اپنا سکہ جما سکے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ملازمین میں تبیلغ کا جذبہ بھی اجاگر کرنا وغیره ، اس کالج کے قائم کرنے کے مقاصد میں شامل ہے ،۔. تاہم اس کالج نے اردو زبان کے نثری ادب کی ترقی کے لئے نئی راہیں ہموار کردی یہی نہیں اردو نثر کی تاریخ میں خصوصاً یہ کالج سنگ میل کی حیثیت بھی رکھتا ہے ، ان مشنریوں نے تعلیم کے علاوہ ہندوستانی زبانوں پر عبور حاصل کرنے اور سیکھنے کے لئے اپنی طرف سے جو کوششیں کیں وہ اتنی سودمند ثابت ہوئی کہ ہندوستان کی سماجی اور لسانی تاریخ اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتی ان عیسائی مشنریوں کی تبلیغی سرگرمیوں اور ان کے ذریعہ قائم کردہ مشن اسکولوں نے براہ راست ہندوستانی ثقافت کو بھی متاثر کیا ، مغربی اثرات ہندوستانی سماج پر اس تیزی سے اثرانداز ہونے لگے کہ ہر طرف انگریزی فیشن پھیلنے لگا اور اعلی طبقوں کے زندگیوں پر ان کی تبدیلی نمایا ں نظر آنے لگی .علاوہ ازیں دوسری زبانوں کے سیکھنے کے لئے لغت اور قواعد کی کتابیں تیار کی گئی ، اور اس طرح سے پھر علماء و دانشوروں کے رائے مشوره سے نصاب کو بھی تیار کیا گیا . اس کالج میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے والوں کو " منشی " کہا جاتا تھا . ویسے تو اس کالج میں زیادہ تر عیسائی مذہب کے اصول اور تعلیمات قائم تھے اور سر زمین پاک و ہند میں یہ مغربی طرز کا پہلا تعلیمی ادارہ مانا جاتا تھا .
فورٹ ولیم کالج کو "Oxford of the East " بھی کہا جاتا ہے .
ڈاکٹر جان گل کرائسٹ جو کہ ہندوستانی زبان پر دسترس رکھتے تھے اس کالج کے منتظم اعلیٰ یعنی پروفیسر کی حیثیت سے مقرر ہوئے انھوں نے اردو ادب کی ترقی کے لیے بے حد کوشیش کیں ، 1808 کو ولیم ٹیلر اور بعد میں ولیم پرائٹس مقرر ہوئے اس طرح سے ایک قانون کو بھی نافذ کیا گیا جس کے تحت اس بات کی تصدیق کی گئی کہ انگریز افسران اگر دیگر علاقوں جیسے بنگال ، اڑیسہ اور بنارس میں اہم عہدوں پر فائز ہونے کے لئے دلچپسی رکھتے ہیں تو انھیں مقامی زبان کا امتحان کامیاب کرنا لازمی ہوگا ، فورٹ ولیم کالج میں تصنیف و تالیف کا کام ڈاکٹر جان گل کرائسٹ کی سرپرستی میں ملک کے بہترین انشا پردازوں کے ذریعہ انجام دیا جاتا رہا جس میں عام فہم اور سادہ الفاظ سیلس اور رواں عبارت کےاستعمال پر زور دیا جاتا تھا تاکہ انگریز کو یہاں کی زبان بھی سکھائی جا سکے یہی نہیں کالج کے ساتھ ساتھ ایک بڑا کتب خانہ اور پریس کا شعبہ بھی قائم کیا گیا اور ڈاکٹر جان گل کرائسٹ کی کاوشوں اور بے لوث خدمات سے اردو ادب کو جو فیض پہنچا اس کا احسان اس زبان کے قائم رہنے تک باقی رہیگا .
نصابی کتب کا کام الگ سے کیا جانے لگا کیونکہ جن کتابوں کی تصنیف و تالیف کا کام مکمل ہوا تھا وہ پڑھانے اور نصاب کے قابل نہیں ٹھری ، چنانچہ ساده اور آسان زبان میں لکھنے کا رواج قائم ہوا اور اس طرح سے اس کالج کے تصنیف و تالیف کے کام پر معمور ہونے والوں میں قابل ذکر ... جان گل کرائسٹ ، میرامن ، شیر علی افسوس ، سید حیدر بخش حیدری ، میر بہادر حسینی ، نہال چند لاہوری، بینی نارائن ، میر کاظم على جواں ، مظہر علی خاں دار ، حفیظ الدین احمد مرزا علی لطف ، اکرم علی اور للو لال جی
اس کالج سے وابستہ کتب یہ ہیں ... جان گل کرائسٹ .:-ا . انگریزی ہندوستانی لغت
2 ہندوستانی علم اللسان
3. اتالیق ہندی
4. ہندوستانی کی صرف و نحو
5 مکالمہ
6 فیض مشرق وغیرهگل کرائسٹ صدر ہونے کی حیثیت سے صرف کتابیں لکھوانے کا کام ہی نہیں کرتے تھے بلکہ خود بھی کتابیں لکھتے تھے .
سید حیدر بخش حیدری ... سید حیدر بخش حیدری دلی کی پیدائش رکھتے تھے ، اور پرورش بھی وہیں کی تھی لیکن به قسمتی سے سلطنت کی تباہی و بربادی کی وجہ سے ترک وطن کرکے پریشان حال تھے ، پھر کلکتہ پہنچے اور فورٹ ولیم کالج کے شعبہ تضيف و ترجمہ میں ملازمت اختیار کرلی۔ ان کی ترجمہ شدہ اور تصنيف شده کتب یہ ہیں .
ا ۰ قصہ لیلیٰ مجنوں( یہ امیر خسرو کی مثنوی ہے اور اردو ترجمہ ہے)
2 . گل مغفرت (اس کتاب میں اولیا اکرام اور شہدائے پاک کے حالات درج ہیں اس کی سنہ طباعت 1812 ہے)
3. آرئش محفل (ترجمہ حاتم طائی کا فارسی میں)
4. تاریخ نادری ..( یہ نادر نامہ كتاب کا فارسی ترجمہ ہے)
5. طوطا کہانی( یہ کتاب مختصر قصوں پر مشتمل ہے یہ سنسکرت سے فارسی اور پھر فارسی سے اردو میں حیدری نے ترجمہ کیا )
6. گلراز دانش( اس کتاب میں عورتوں کے مکرو فریب کے قصے درج ہیں یہ بہار دانش کا فارسی ترجمہ ہے)
میر شیر علی افسوس .... کرنل اسکاٹ نے میر شیر علی افسوس کو کلکتہ مدعو کیا ان کی یاد گار کتابوں میں ایک باغ اردو ، اور دوسری آرائش مہمل، جس میں ساده اور سلیس زبان کا استعمال کیا. اور ترجمہ میں اصل فارسی کی خوبی کو مناسب حد تک قائم رکھا ہے اور اشعار کا ترجمہ بھی اشعار کی صورت میں کیا گیا۔
مرزا لطف علی لطف ... اردو شعرا کا پہلا تذکره جس کو مولوی عبدالحق نے شائع کر وایا ، اور جس میں شعرا کے حالات اردو زبان میں لکھے گئے ہیں مرزا لطف علی لطف نے صاف اور ساده زبان میں قافیہ کی پابندی کے ساتھ اور ایسی باتیں درج کی جنکا ذکر کسی اور جگہ میسر نہیں ہے تاریخی حالات کی بہترین عکاسی کرتے ہوئے لکھا ہے .
مرزا کاظم علی جواں .... 1800 میں ان کی قابلیت کو سراہتے ہوئے کونسل اسکاٹ نے انھیں فورٹ ولیم کالج کے لئے منتخب کیا ، ویسے ان کا وطن دلی تھا پر لکھنو میں آکر رہنے لگے اس کے بعد لکھنو کو بھی خیر باد کہہ کر کلکتہ میں بس گئے ، یہ بھی کئی کتا بوں کا ترجمہ کرچکے ہیں قابل ذکر یہ ہیں .
1. شکنتلا : .( یہ مشہور ڈرامہ ہے جس کو کالی داس نے سنسکرت میں لکھا ہوا ہے ، اور نواز کشمیری نے برج بھاشا سے اردو میں منتقل کیا ہے .)
2 . تاریخ فرشتہ ...( یہ ایک مشہور تاریخی کتاب ہے جس کے ایک حصے کو کاظم علی جواں نے اردو میں ترجمہ کیا )
3. بارہ ماسہ ...( ہندوؤں اور مسلمانوں کے تہواروں کا بیان اس کتاب میں درج ہے ).
میر امن دہلوی .... 1801 میں جان گل کرائسٹ نے میر امن کو فورٹ ولیم کالج میں بخوشی جگہ عنایت کی اور قصہ چہار درویش کو آسان اور سلیس نثر میں لکھنے کی دعوت دی ، میرا من کے آباد و اجداد بادشاہ ہمایوں کے وقت سے سلطنت مغلیہ سے وابستہ تھے لیکن احمد شاہ درانی کے حملے کے بعد ان کے گھر کو بری طرح سے لوٹا گیا اور میرا من نے کلکتہ کی راہ لی ، اس عہد کے سب سے افضل و اعلیٰ اور ممتاز اہل قلم میرا من کو مانا جاتا ہے کہ جنکا کارنامہ " باغ و بہار " ہے اور چہار درویش کا اردو ترجمہ ہر عام و خاص میں مقبولیت حاصل کرچکا تھا۔ ان کو زبان پر پوری قدرت حاصل تھی . بعض جگہ نا موزوں الفاظ ، اور لغت کے لحاظ سے نامناسب الفاظ کا استعمال کیا ہے لیکن پڑھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عوام کی زبان پر رائج تھے . مجموعی طور یہ بہت اچھی کتاب ہے .
فورٹ ولیم کالج نے اردو زبان کی جوسر پرستی کی ہے اس کا مول کوئی چکا نہیں سکتا اور اس احسان کو اردو ادب کبھی فراموش نہیں کرسکتا. کیونکہ اس کالج سے انتہائی قابل قدر اہل قلم کی بیش بہا ادبی خدمات وابستہ ہیں جو کہ اردو ادب کا نایاب ذخیره مانا جاتا ہے ان میں نہ صرف قصے کہانی کی کتابیں لکھی گئیں بلکہ لغت ، علم اللسان ، مواعظ ، اخلاق ، سوانح عمری اور تاریخ پر بھی توجہ مرکوز کی گئی . اور انشا پردازوں کی ایک بڑی خوبی یہ پائی گئی کہ سیدھی سادی عبارت کے رواج کو قائم کیا بجائے مقفیٰ و مسجع عبارت آرائی کے.
دوسری اہم بات فورٹ ولیم کالج کی یہ دیکھی گئی ہے کہ فارسی اور عربی کے دقیق الفاظ کی اردو میں کمی ہونے لگی اور ساتھ ہی ساتھ ہندی اور اردو کے وہ الفاظ کام میں آنے لگے جو کم استعمال اور کم پسند کیے جاتے تھے . رفتہ رفتہ فرسودہ طریقہ یعنی رنگین اور مغلق عبارت کی جگہ سادگی کو پسند کرکے اسے اختیار کیا جارہا تھا. اس طرح سے دلی والے تو بہت جلد اس روش کو اپنانے لگے البتہ اہل لکھنو نے نزاکت اور ہچکچاہٹ سے کام لیا
اسی تناظر میں 1802 میں سید انشاء اللہ خاں نے اردو زبان کی قواعد " دریائے لطافت " لکھی اور 1823 میں مولوی محمد ابراہیم نے " انفسٹن " نامی صرف و نحو کی کتاب تحریر کی ، 1845 میں منشی کریم الدین کی قواعد المبتدی لکھی گئی اور اسی سلسلے میں "جامع القواعد " مولانا محمد حسین آزاد نے لکھ کر لاہور میں شائع کروایا .
دلی اور لکھنو کو اردو ادب کے آفتاب اور ماہتاب مانتے ہیں . لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ فورٹ ولیم کالج کا اثر سارے ملک ہندوستان پر پڑا ، اب دلی اور لکھنو کے چند ممتاز نثر نگاروں کے نام اس طرح ہیں ا ۰ ماسڑ رام چندر 2 مرزا غالب 3 . فقیر محمد خاں گویا 4 مرزا رجب علی بیگ سرور 5 . غلام غوث بیخبر 6 . غلام امام شہید .فورٹ ولیم کالج سے جدا رہ کر بھی ان نثر نگاروں نے اردو کی بے لوث خدمات انجام دی ان کے علاوہ اور بھی بہت سے ہیں .
اُردو میں مستشرقین کے نثری تراجم کا منظم آغاز فورٹ ولیم کالج سے ہی ہوا
قصہ کوتاه یہ ہے کہ ڈاکٹر جان گل کرائسٹ کی پذیرائی نہیں کی اس طرح سے وہ اپنے وطن واپس چلے گئے اور لندن میں اپنی ذاتی درسگاہ کھول لی . 1841 میں گل کرائسٹ کا انتقال ہوگیا۔ اور فورٹ ولیم کالج کی کتابیں ایشیا ٹک لائبریری بھجوا دی گئی جس میں ٹیپو سلطان لائبریری سے حاصل کرده کتابیں بھی شامل تھیں .
1854 کو فورٹ ولیم کالج کا خاتمہ ہوگیا۔