بے وفا محبت قسط نمبر٩

روز روز کی باتیں سن کر وہ  دل برداشتہ ہو چکی تھی اسے اب زندگی کا نیا موڑ لینا چاہیے تھا ، بس ہوگئی یہ دیوانی محبت اور یہ پاگل پن ، کسی کو ٹوٹ کر چاہنا بھی حماقت اور بے وقوفی کہلائی جاتی ہے یہ بات اسے اب سمجھ آگئی وہ دونوں بچیوں کو اپنے دونوں زانوں پر سلاتی ہوئی سونچنے لگی .
 ذہن کئی سوالات سے لبریز ہو رہا تھا کبھی خود کی بے وقوفی کو سوچ کر خود ہی پر لعنت ملامت بھیج رہی تھی تو کبھی اکرم کی بے رخی و بے وفائی پر رو رہی تھی. ، خیر جو ہوا وہ غلط ہوا اب یہ زندگی کا رونا دھونا چھوڑ کر کچھ ایسا کرلینا چاہیے جس سے میں اور میرے دو بچیاں سکون کی زندگی جی سکے ورنہ ہر لمحہ لمحہ موت کے گھاٹ اتارا جائے گا ہمیں ، اسی کشمکش میں صبح ہوگئی وہ اٹھ کر اللہ کے سامنے سجده ریز ہوگئی اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر خوب گڑگڑا کر رونے لگی اور رب سے مدد مانگنے لگی .
********************************************
 رب کیا چاہتا اپنے بندوں کی خوشی ان کی کامیابی اور انکی تو بہ اپنے غلط کئے پر ندامت اور پچھتاوا اور رجوع الله بس نوری کی تو بہ رب کریم نے قبول فرمالی اور وہ اپنے خالق حقیقی کی طرف لوٹ آئی اسے اللہ تعالٰی کی خوشنودی حاصل کرنا مقدم ہوگیا۔ بس ہر دن گھر کا سارا کام کاج کرتی اور نمازوں کو پابندی سے ادا کرتی اور دیگر اوقات کو اذکار میں مصروف کردیتی 
******************************************
ایک دن اپنے اسکول کا رخ کیا سب ٹیچرس اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ساتھ میں اسکے حالات سن کر افسرده بھی ہوگئے اور پوچھنے لگے کہ وہ اب ان سے کیسی مدد کی طلبگار ہے تب پیاری نے آگے تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور اوپن اسکول سے دسویں کرنے کا کہا سب نے اسے بہت سراہا اور مدد کرنے کا وعده بھی کیا اس طرح سے پیاری دسویں جماعت کا امتحان امتیازی نشانات سے کامیاب کرلیا 
اس میں اسکی بہن نوری نے بھی بہت ساتھ دیا ، اب پیاری کے سر پر ایک دھن سوار ہوگئی ادھر دین دار بننے لگی اور اُدھر عصری تعلیم میں اور آگے تعلیم حاصل کرنے کی ٹھان لی . ماں بھی اسکی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے کچھ نہ کہتی اور دونوں بھائی تو بہت خوش تھے کہ چلو بہن خود کو ایک اچھی مصروفیت میں رکھنے لگی .
********************************************
اکرم کو گئے  عرصہ بیت چکا تھا نہ کوئی فون نہ کوئی خبر اب پیاری اکرم کی یاد کو آہستہ آہستہ دل سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی دونوں بچیوں کو عربی مدرسہ میں داخل کروادیا ، اور خود بھی شام کے وقت اڑوس پڑوس کے بچوں کو عربی پڑھا کر تھوڑا بہت خود کا خرچہ نکال لے رہی تھی .
نوری کی شادی ہونے کے بعد وہ ماں کی دیکھ بھال کی ساری ذمہ داری خود لے رکھی تھی ، بھابیوں پر بوجھ بن کر رہ رہی ہوں اتنا بھی نہ کیا تو کیا ہوگا یہی خیال ہمیشہ لاکر مطمئن ہو جاتی 
********************************************
باقی آئندہ
 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]