چاہت
بٹ جائے جو وہ چاہت نہیں
چاہت کا کوئی رنگ الگ نہیں
مٹ نہ جائے کسی پر وہ چاہت نہیں
خوشبو اس کی جدا نہیں ، انداز الگ نہیں
مل جانا ہر رشتہ میں ، کتراتی نہیں
مرکر بھی مضبوطی اس کی جاتی نہیں
یہ چاہتیں بھی عجیب ہوتی ہیں
یہ زبان سے بیاں ہوتی نہیں ہیں
یہ احساس نہ ختم ہونے والا ہے
یہ رشتہ تا حیات قائم رہنے والا ہے
یہ رویوں کی زبان ہوتی ہے
یہ میٹھا احساس ہوتی ہے
یہ بندہ سے رب کو جوڑتی ہے
یہ انسان کو انسان سے جوڑتی ہے
چاہت سے جو کر جائے تو کچھ نہیں مشکل
ہو گرحقیقی چاہت وہ ہے عبادت میں شامل
جس سے جڑ جائے وہ نصیب والا ہے
چاہت کا اسکی وہ تو رکھوا لا ہے
کئی نام چاہت کے فہرست محبت ہیں
چاہت کو اسکی نام کیا دوں لب بند ہیں
جو وہ سمجھ پاتا مجھے میری چاہت ہے
سمجھ کر کہہ نا پاتا مجھے اسکی چاہت ہے
✍️ فہمیدہ تبسّم