غزل 23
آج اس کی ذرا سی یاد آنے لگی
اضطراری سی پھر چھانے لگی
مدت یوں تو گزری نہیں ملاقات کو
بے چینی پھر کیوں مجھے ستانے لگی
حسن گفتاریوں کہ خوشبو سے الفاظ
ہر بات پر اسکی بات پھر یاد آنے لگی
خموشی لبوں کی زینت اور نگاہیں شریر
نہ کہہ کر بھی سب کچھ وہ کہنے لگی
ہوتا نہیں جہاں میں ہر کوئی ہنر مند تبسم
نگاہ صنم حکمت زیست مجھے سکھانےلگی
✍️ فہمیدہ تبسّم