بدلتا سماجی منظر نامہ... ذمے دار کون ؟
اس قول سے تو ہم سبھی اچھی طرح واقف ہیں کہ بچے کی پہلی درس گاہ "ماں کی گود " ہوتی ہے یعنی بچہ اپنی پیدائش سے مدرسہ جانے تک کا جو عرصہ گھر میں گزرتا ہے وہ ماں کے زیر تربیت وزیر پرورش میں ہوتا ہے . ہاں اس میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ باپ بھی بچوں / اولاد کی تعلیم و تربیت میں برابر کا نہ سہی قدرقلیل شریک قرار دیا جاتا ہے ، خصوصاًً ماں کی اہمیت زیاده بتائی جاتی ہے . اس لئے ہر کسی کا عالی خیال یہی ہے کہ ماں ہی اپنے بچوں / اولاد کی صحیح تربیت کی ذمہ دار ہوتی ہے اور یہ بات سولہ آنے سچ بھی کبھی تھی کیونکہ اب اس قول میں رد و بدل واقع ہواہے سبب یہ ہےکہ اکثر مائیں اب رسماً ماں تو بن رہی ہیں پر اپنا زیادہ تر وقت وہ بجائے اولاد کی تعلیم و تربیت میں صرف کرنے کے اسمارٹ فون کے ساتھ بسر کررہی ہیں .
ماں کی گود کا مطلب یعنی ماں کے ساتھ گزارا ہوا وقت ہے اس مقولہ پر غور و خوص کیا جائے گا تو سمجھنے میں بڑی آسانی اور سہولت بہم پہنچےگی ماں خصوصاً بچہ کا ہر کام اپنی گود کے ذریعہ سے ہی انجام دیتی ہے .. اسی لئے بھی شائد یہ مقولہ حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ ماں بچے کو گود میں لیکر نوالہ دیتی ہے ، اپنے ہاتھوں میں بچے کہ سبک اور نازک ہاتھ لیکر دعا کرنے کا طریقہ کار گود میں بیٹھا کر ہی سکھلاتی ہے ، گود میں بیٹھا کر اسے میک اپ کرتی ہے ، کہانیاں اور " آچڑی آ دانہ کھانا پانی پی " جیسے کھیل بھی اپنی گود سے ہی بچے کو سیکھا تی ہے چھوٹی چھوٹی دعائیں اور سورتیں یاد دلواتی ہے ،بہر حال ہر ہر نکتہ آداب زندگی سے اپنے نونہال کو روشناس کرواتی ہے اس طرح سے، ماں کی گودکی خوشبو سے بچہ اچھی طرح واقفیت حاصل کر لیتا ہے تب ہی تو اسے اپنی ماں کی گود میں جو سکون اور چین محسوس ہوتا ہے وہ کہیں دوسری جگہ میسر نہیں ہوتا . بچہ کی شرارتیں ، ضد اور ناراضگی ، رضا مندی اور پسند و ناپسند ہر بات کی خبر ماں کو ہو جاتی ہے ، ماں کی نقل و حرکت بچہ اپنے ذہن میں مقید کرلیتا ہے اور اسی حرکات و سکنات سے کافی حد تک اکتساب زندگی کو حاصل کرلیتا ہے اور آداب زندگی میں مہارت حاصل کرتا ہے وہ ماں کی ہر چھوٹی بڑی جبلت کو اپنے اندر سمو کر بالکل اسی کی طرح بننے کی کوشش کرتا ہے خاص کر لڑکیاں تو اپنے آپ کو ماں کی طرح ثابت کرنے میں ایسے بہت سے کام انجام دیتی ہیں جو گھروں میں مائیں کرتی ہیں اس لئے ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ کہلاتی ہے . ایک ماں ہی نہیں بلکہ باپ بھی دنیا میں آنے والے نومولود کو اطوار زیست سکھانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ، تاکہ آئندہ بچہ اپنے اندر پائے جانے والی کمزوریوں کا سدباب کرکے ایک کامیاب انسان بن کر سماج اور دنیا میں باپ کا اور اپنا نام روشن کرسکے .
ماضی بعيد میں ہم جھانکنے کی تکلیف کرینگے تو ہمیں وہاں پر " مشترکہ خاندان " بڑا خاندان " نظر آئیں گے جو کہ ایک بچے کی بہتر سے بہتر تربیت گاہ کا کام انجام دیا کرتے تھے اور بچہ کی انفرادی نشوو نما میں اپنا قیمتی کردار نبھاتے ہوئے اپنے بيش بہا اور گراں قدر خدمات سرانجام دیتےنظر آتے ہیں ، ان دونوں خاندانوں میں " ماں " کی تربیت میں تنہا ماں نہیں ہوتی تھی بلکہ خاند ان کے بڑے بزرگ اور دیگر افراد خاندان بھی بچے کی تربیت میں خود کو کافی حد تک ذمہ دار قرار دے کر پورے انصاف کے ساتھ گھر میں آئے نئے مہمان کا خوش دلی سے استقبال کرتے ہوئے اپنی اپنی ڈیوٹی کو ایک اچھی تربیت گاہ کے زیر اہتمام انجام دیتے تھے۔ جس میں بچہ پوری طرح سے مجموعی طور پر ان تمام حقیقی رشتوں کی زیر نگرانی با ادب ، با اخلاق اور باکردار صحت مند، خوش مزاج ، خوش گفتار شخصیت کا مالک بن جاتا تھا اور بہتر معیار زندگی گزارنے کے قابل ہوتا ، جو کہ آگے چل کر خا ندان کا ہی نہیں بلکہ ملک کا ایک قابل اور باشعور شہری ثابت ہوتا تھا۔ مشترکہ خاندان اور بڑے خاندان کے رواج کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ خاندان میں کمائیوں میں برکت ہوتی ہے اور بڑے خاندان صحت مند زندگی کے ضامن ہوتے ہیں کیونکہ تناؤ سے آزاد یعنی ٹنشین فری ماحول جس میں پرابلمس سب میں تقسیم ہو جاتے ہیں کسی بھی مسلئے کو سب ملکر سلجھاتے ہیں خاص کر خاندان کے سربراہ کے شانہ بہ شانہ ہر فرد اس معاملے میں اپنی ذمہ داری کو قبول کرتا ہے . جس سے سارے مسئلے مسائل معمولی نظر آنے لگتے اور دیگر افراد خاندان اس سربراہ کی عزت و احترام بھی بجا لاتے ہیں جس سے ایک دوسرے کے تئیں رغبت کا جذبہ اجاگر ہوتا ہے کیونکہ صدر خاندان سب کو آسانیاں جو پیدا کرتا ہے . ایک دوسرے کے لئے تکریم ، احترام کا جذبہ رکھنا ایک اچھے اور مثالی خاندان کی پہچان ہے . اسی لیے ایسے خاندان میں صرف بچہ کی ہی نہیں بلکہ بڑوں کی بھی تربیت ہو جاتی ہے ، ذمہ داریاں افراد خاندان میں بانٹ لی جاتی ہیں ، جس میں خوشیاں اور مسرتیں سب کے حصے میں شامل ہو جاتی ہیں آج صرف ہم ذمہ داری سے بری الذمہ اور درکنار ہونے کی خاطر اور جوابدہی اور مواخذہ سے خود کو مستثنیٰ قرار دینے کے لئے ما باقی تمام لذیذ پھل زیست اور چھوٹی چھوٹی تقاریب وغيره سے خود کو دور رکھتے ہیں اور بڑے بزرگ سے دوری اختیار کرنے لگے جو کہ اور یہ کہنابے جا نہ ہوگا کہ سایہ دار درخت کے پھل کو چھکنے سے محروم ہو گئے ہیں . جس کی چاشنی ہماری اپنی ہی نہیں بلکہ ہماری نسلوں کی زندگی کو مٹھاس سے لبریز کر تی ہے . جوکہ ان بڑے اور سایہ دار پھل دار درختوں سے علیدگی کی وجہ سےمحرومی میں تبدیل ہو گئ ہے . اور یہاں پر اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ الله تعالٰی خود زیاده بچے والی عورت کو پسند فرماتا ہے .
بڑھتی ہوئی آبادی کے رحجانات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے بھی بڑے خاندان کے تصور کو ختم کرنے کی ضرورت محسوس کی جس کی وجہ سے "ہم دو ہمارے دو " کی پالیسی پر عمل کرنے کی ہدایات جاری کی جانے لگی۔ فیملی پلاننگ کو عام کیا گیا جس میں نارمل ڈیلیوری کو زبردستی آپریشن میں تبدیل کرکے آگے بچوں کی پیدائش پر روک لگائی جانے لگی . جس کی زد میں ہمارا مسلم معاشره بھی آچکا ہے فیملی پلاننگ شریعت میں پسندیده عمل نہیں ہے ، کسی معقول و مناسب عذرکے بغیر اس عمل کو شریعت میں پسندنہیں کیا گیا ہے لہذا اس سے پرہیز کریں، فیملی پلاننگ کی اسیکم کو کامیاب بنانے کے لئے سیاسی رہنماؤں نے حکومت کی حمایت کی اور مراعات کا لالچ دیکر اس میں کافی حد تک کامیابی کی رسائی تک پہونچ چکے ہیں .
اس طرح سے بڑے خاندان کا رواج ہمارے معاشرہ سے معدوم ہونے لگا اور بڑوں کاسایہ رحمت اور برکت ہمارے سروں سے روپوش ہونے لگی . خود ہمارے معاشرے کے افراد نے بڑے اور مشترکہ خاندان پر چھوٹے خاندان کو فوقیت و برتری دے کر اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارلینے کے مترادف و مماثل کام کیا ہے . کیونکہ جس انہونی بات کی تصدیق ان دو خاندانوں میں پوشیده تھی اس سے ہم نابلد تھے چونکہ اب جان چکے ہیں مگر بہت دیر ہوچکی، کامیاب زندگی کا راز ان ہی کی زیر سرپرستی میں مضمر ہے . آزادانہ طرز زندگی کی خواہش اور ماده پر ستی نے ہمارے سکھ اور چین کو بری طرح کرچی کرچی کرکے رکھ دیا ہے . اور ہمارے جاہلانہ تصورات نے بڑے خاندان کی جگہ چھوٹے اور خوش حال خاندان کو ترجیح دے کر اپنی اور اپنے بچوں کی زندگیوں کو دو بھر کردیا ہے . اور نتیجہ ہمارے سامنے آچکا ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں آج ہم بری طرح سے نامراد و ناکام ہو چکے ہیں ، افسوس کہ بچوں کو ہم بد اخلاق اور بے ادب اور بگڑے ہوئے بتاتے ہیں ، بد تمیز اور نہ جانے کن کن القاب سے نوازتے ہیں ، ذرا ہم پہلے خود اپنا احتساب کرلیں دیگر تمام بے جا و ضرر رساں الزام اپنے معصوموں پر لگائیں لیکن یہ بات بھی واضح ر ہے کہ یہ الزامات کہیں، بہتان تو نہ کہلائیں جائیں گے پھران
تمام باتوں کے پیچھے ذمہ دار کون ہیں؟ صرف اور صرف ہم ہی یعنی ماں باپ ہیں اور ساتھ میں معذرت کے ساتھ یہ بھی کہنا پڑ رہا ہے کہ اساتذہ کرام بھی شامل ہیں۔ بچہ گھر سے نکل کر مدرسہ کی راہ لیتا ہے جہاں پر وہ اپنا وقت سارا اپنے ہم جماعت اور اساتذہ کے ساتھ خوشگوار ماحول میں گزارنا پسند کرتا ہے ، ساتھی تو خیر جیسے بھی ہوں وہ اسکی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ تقریباً ہم عمر ہوتے ہیں مگر اساتذہ کا رویہ اسکی ذاتی زندگی پر بہت زیادہ اثر انداز کرتا ہے ، تدریسی و غیر تدریسی مشاغل کے ذریعہ وہ زندگی کے بہت سارے اصول و ضوابط اور مثبت و منفی رحجانات کو ذہن نشین کرتا چلا جاتاہے ،جہاں پر ہمارے اساتذه کرام بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا لازمی جز ہوتاہے بجائے اس کے ان سے بد زبانی اور انتہائی فحش زبانی کا استعمال کرتے ہیں جس سے بچہ سماج میں خود کو تنہا محسوس کرنے لگا ہے اور اس طرح سے اسکی زندگی اجیرن ہوگی ہے ایک طرف گھر والوں کی بے رخی بچے کی ذہنیت پر اثرانداز ہورہی ہے کہ جس میں صحیح ڈھنگ کا کوئی نظام نہیں رشتوں میں استواری ، خلوص و محبت نہیں ، میل ملاپ نہیں ،گھریلو حالات ہمیشہ سے ناساز گار ، تو دوسری جانب اسکول کا ماحول ظالمانہ اور نازیبا کلمات سے بھرپور چنانچہ انسانی رشتوں سے زیاده اسے الکڑانک مشین( موبائل فون) صحیح اور ہمدرد نظر آنے لگی ہے فیس بک ، انسٹا گرام اور دیگر بے ہودہ اپلیکیشن کی طرف بچہ کا مائل ہونا اور خونی/ حقیقی رشتوں سے نفرت کا رحجان بڑھنا عام ہورہا ہے اور مجازی یعنی غیر حقیقی رشتوں کو فوقیت دی جارہی ہے ، گوگل کو ہی اپنی ماں مان کر سارے دکھ درد اور مسائل کا حل اسی میں تلاش کررہا ہے . تب ہی وہ سارے رشتے ناطوں کو بالائے طاق رکھ کر موبائل کی دنیا سے اپنا رشتہ ناطہ جوڑ چکا ہے ذرا سونچیئے.، یہ بچے ہماری قوم کے معمار ہیں یہ ہمارے مستقبل کے روشن چراغ ہیں اور سب سے بڑی اور اہم بات انہی سے ہماری روزی اور ہمارے بچوں کی زندگی کی ترقی منسلک ہے ہمارے گھر چولہے جل رہے ہیں تو اس میں ان بچوں کی دعاؤں کا حصہ شامل ہے اور جن کی بد ولت ہماری اولاد زندگی کے مختلف شعبوں میں خود کو ثابت قدم رکھتی ہوئی روشن مستقبل کی طرف رواں دواں ہے ، پھر ان سے بیر کیوں ؟ نفرت کیوں ؟ کدورت کیوں ؟گھٹن کیوں ؟ بچوں سے پیار سے پیش آئیں انھیں یہ بتائیں کہ وہ ہمارے لیے کتنے اہم ہیں ان کو قریب کریں . ان سے خوش گفتار سے پیش آئیں اولیائے طلباء سے وقتاً فوقتاً رابطہ پیدا کریں اور اپنے طالب علموں کی کارکردگی کی رپورٹ ان کو دیتے رہیں اور ایک دوسرے میں رائے مشوره اور تبادلہ خیال راست یا بالواسطہ طور پر کرتے رہیں ، تاکہ بچے کی بہتر تعلیمی نشوو نما ہی نہیں بلکہ اخلاقی ، سماجی اور تہذیبی نشوو نما بھی ہو سکے۔، ادب اخلاق سکھائیں کیونکہ ٹیچر کی بات بچے کی نظر میں " پتھر کی لکیر " ہوتی ہے ان تمام فعال سے. آخرت میں ہم بھی سرخرو ہو جائیں گے .
"بچے جنت کے باغ کے پھول ہیں ، " ہمارے محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو دیکھ کر سلام میں پہل کیا کرتے تھے ان کے پاس جاتے اور ان کے ساتھ کھیلا کرتے تھے . ان کے سروں پر شفقت سے دست مبارک پھیرا کرتے تھے ، محبوب خدا کو بچے محبوب تھے تو ہم ان کی پرورش میں اتنے لاپرواہ کیسے ہوگئے بچپن کی تعلیم و تربیت بچہ کے دل و دماغ پر پختہ اثر کرجاتی ہے اس لئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی تعلیم و تربیت کے طرف اشاره کیا ہے ، اور کہا کہ ہر بچہ دین کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے بچے کے برے یا اچھے اخلاق کی بنیاد رکھی جانے کا یہی صحیح وقت ہوتا ہے کہاں چھوڑ آئے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اصول اور طریقے ؟( سنت) اسی وجہ سے ہم آج گمراہی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور گنا ہوں کے مرتکب قرار دیئے جارہے ہیں . اس لئے ہم اپنے بچوں کی حقیقی تربیت کی طرف راغب ہونا چاہیے .
" چھوٹا خاندان " اس کی نرالی شان " سچ میں اس کی نرالی شان ہی ہے نہ کھیلنے کوئی ساتھی ، نہ ہنسنے کے لئے کوئی دوست یا عزیزصرف "ایک بھائی ایک بہن ، شائستہ رہن سہن " کہنے کو تو ہے کہاں ہے وہ شائستہ رہن سہن کہاں دیکھائی دے گا بچہ بستر سے اٹھ کر اپنی بلا نکٹ تہہ نہیں کرتا ہے واش روم میں نہا کر اتارے گئے کپڑے نہ ہٹاتا ہے اور تو اور ماں کو کچن کی صفائی کی فرصت ہی نہیں بغیر صفائی ستھرائی کے ناشتہ تیار ہوجاتا ہے ہمارا مذہب صفائی ستھرائی کی تلقین کرتا ہے اور حديث مبارکہ ہے کہ " پا کی آدھا ایمان ہے " مگر افسوس کہ ہماری معاشرت گندگی کی عادی ہوچکی ہے جس کی وجہ سے دوسرے مذاہب ہمیں تنگ نظری اور حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں ہمیں اپنے علاقوں میں بسنے کی اجازت تک وہ نہیں دیتے ایک دو بچوں کی صفائی کا خیال ہم نہیں رکھ پاتے ہیں تو بھلا بڑے خاندان کا تصور تو آج کے دور میں اکارت مانا جائے گا ،اسلام میں کثرت اولاد مطلوب و مستحن ہے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زیاده بچے جننے والی عورت سے نکاح کی ترغیب فرمائی ہے اور فرمایا .. ". تاکہ قیامت کے دن میں تمھاری کثرت پر دیگر امتوں پر غالب رہوں " کم از کم ان دو تین بچوں کو متوازن غذا اور ورزش وغيره سے طاقتور بنا سکتے ہیں ان کی صحیح ڈھنگ سے دیکھ بھال اور پرورش نہ ہو پاتی ہے تو ہم کثرت اولاد کا تصور کرنا بے کار ہے ، یہاں حال یہ ہوتا ہے کہ رات رات بھر ماں ٹی وی اور موبائل پر مصروف رہنے کی وجہ سے صبح کبھی کبھی باہر سے ہی ناشتہ کا پارسل آجاتا ہے بجائے اس کے ہم بچوں کی پسندیدہ ڈش گھر پر تیار کریں کچھ وقت بچوں / اولاد کے ساتھ گزار کر ان کی الجهن کو دور کریں ان سے خوشگوار تعلقات اور سازگار ماحول قائم کریں اور ہنسی مذاق کریں اچھے موڈ میں انھیں لائیں ، اچھے اچھے القاب سے مخاطب کریں ان کی جانی انجانی غلطیوں کو اپنی حکمت اور مصلحت سے حل کریں ، ان پر اپنی دلچسپی ظاہر کریں ، ان کو سنیں ، وہ کیا چاہتے ہیں غور کریں ، نصحیت آموز کہانیاں سنائیں ، ماں باپ اولاد کے لیے سایہ فگن ہیں ، مہمان نوازی کو عام کریں تاکہ اپنی اولاد بھی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرسکے عزیز و اقارب کے بارے میں معلومات بہم پہنچائیں تاکہ بچوں / اولاد میں رشتہ داری کا جذبہ پیدا ہو سکے. پوری طرح سے رول ماڈل بنیں ، مگر لمحہء رواں ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ ماده پرستی اور مغربی تہذیب کی نقل میں ہماری معاشرت نہ دین کی رہی نہ دنیا کی افسوس صد افسوس کہ ہم معاشی ، مذہبی اور سماجی لحاظ سے ابتری کی انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں. چار دن کی چاندنی ہے یہ چھوٹا خاندان ، آزادانہ طرز زندگی پھر قلق کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے . اس کو عملی جامہ پہنانے کے بجائے بچوں میں مشترکہ اور بڑے خاندان کا تصور عام کریں گے تو موجب رسوائی اور موجب زوال نہ بن کر موجب برکات و موجب ثواب کے قائد بن پائیں گے .
privacy یعنی رازداری اور تنہائی پسند زندگی کو ترجیح دے کر ایک اور بہت بڑی بھول ہم نے کرڈالی ، Children bed room کے نام پر بچوں / اولاد کو خود سے علیحدہ کرکے بچوں کو آزادانہ ماحول فراہم کیا جارہا ہے جو ہماری بہت بڑی نادانی ہے کیونکہ انجانے طور پر ان کی تعلیم و تربیت میں اور بگاڑ پیدا کیا جارہا ہے آدھی آدھی رات تک بچے موبائل پر کیا دیکھ تے ہیں ماں باپ کو اس کی کچھ خبر نہیں ہوتی ، بچوں میں گراں خوابی جیسی صفات پروان چڑھ رہی ہیں سن بلوغت میں آئے بچوں کے دماغ کن واہیات خيالات کے دلدل میں پھنسے جارہے ہیں . اس بات کااندازه لگانا ممکن نہیں ہے مذہب سے دوری اور لاتعلقی نے حقیقی اور غیورکی تمیز ہٹادی اور غیر مذاہب سے ازواجی رشتوں کو جوڑنے میں یہ بچوں کے بیڈ رومس ممد و معاون ثابت ہوتے چلے آرہے ہیں . اس کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہمیں " گھر واپسی اور لو جہاد " جیسی تنظیموں کی جانب ہماری نوجوان بیٹیوں کے غلط قدم کا اٹھنا پکا ثبوت ہے ، صبر و تحمل اور بردباری جیسی صفات کا خاتمہ ہورہا ہے جس سے طلاق ثلاثہ اور آئے دن خلع و طلاق کے واقعات میں اضافہ ہوتا چلا آرہاہے
فحش ویڈیوز اور عریاں تصاویر کی نمائش نے بے پردگی کی حمایت میں اپنا کردار ادا کرکے ہماری نوجوان نسل کو مذہب ومذہبی نظریات سے دور کردیا ہے . آج بچے ایک دوسرے کو بالکل بھی برداشت نہیں کر پا رہے ہیں ان کے اندر تکبر ، غصہ اور "میں پن" جیسے منفی رحجانات نے ڈیرہ جمالیا ہے جس کی وجہ سے بچوں کے اندر منفی سونچ آگئی ہے . تنہائی پسند ہونے کے ساتھ ساتھ سوسائٹی میں اپنی صحیح پہچان نہیں بنا پارہے ہیں یہاں تک کہ بات چیت یعنی مواصلات میں بہت پیچھے ہوتے چلے جارہے ہیں خصوصاً لكنت جیسی کمزوری کا شکار ہورہے ہیں بات کرنے سے ڈرنے لگے ہیں ، کیونکہ خاموشی نے اظہارِ خیال کی آزادی چھین لی ، ڈر ، خوف اور بد اعتمادی ، اور بد گمانی جیسی برائیاں ان میں پنپ رہی ہیں یہ سب اسمارٹ فون کی دین ہے .موبائل فون کو ہی وه اپنا دوست ، ہمدرد اور سب کچھ مان چکے ہیں .
یہودیوں کی ایجاد یہ اسمارٹ فون ہے آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ خود یہودی بچوں کو اس کی لت نہیں یہاں تک کہ یہودی خواتین جب حاملہ ہو تیں ہیں تو اچھے اور معیاری کتب کا مطالعہ کرتی ہیں تا کہ پیدا ہونے والے بچے میں اسکی تاثیر پیدا ہو سکے ہمارے پاس دنیا کی سب سے اعلیٰ اور واحد ، حکمت و دانائی والی آخری آسمانی ، و بزرگ کتاب قرآن مجید موجود ہے پھر بھی ہم اپنے پیدا ہونے والے بچے کو اس سے بے بہرہ رکھتے ہیں . کیا ہی بہتر ہوتا اگر ہماری حاملہ خواتین بھی دوران حمل ہماری دنیا و آخرت کی بھلائی کا ذریعے بننےوالی اس پاک و برتر مقدس كتاب قرآن کریم کو اپنا لتیں تو آج یہ گمراہی سے سب بچوں کو نجات مل پاتی .
حال ہی میں اخبار میں یہ خبر پڑھ کر جسم کے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ ہمارے شہر حیدرآباد میں ہی یہ دردناک اور شرم ناک واقعہ پیش آیا کہ اپنی سگی بہن کے ساتھ نوجوان نے جنسی زبردستی کی . یہ خبر ہمارے مذہب سے تعلق رکھتی ہے یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن سماجی برائی تو سب پر اثر انداز کر جاتی ہے اور سب پر غالب آتی ہے اس لئے ہمیں اب آنکھیں کھولنا ضروری ہے غفلت کی نیند سے بیدار ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ ...
* ہماری نسلوں کی بقاء بماری ذمہ داری ہے
* اصلاح معاشره بماری ذمہ داری ہے .
* بچوں / اولاد کو عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم اور صحابہ کرام اور صحابیات کے واقعات سے ضرور روشناس کروانا فرض ہے
* ہمیں خود کو تبدیل کرنا پڑے گا .
* بچے چاہے کس عمر کے بھی ہوں سونے تک اپنی نظر ان پر رکھیں چاہے انجان طریقہ کار سے ہی کیوں نہ ہو . یہ ہماری قوم کے معمار ہیں .
* اپنا فرسٹیشن بچوں / اولاد پر لاگو نہ کریں . اس سے بچے ہم سے دوری اختیار کر لیتے ہیں .
* بچے آپ کے پیار کے محتاج ہیں صرف آپکی مسکراہٹ ان کی سونچ کو بدل کر رکھ دیتی ہے .
* موبائل فون سے خود بھی دور رہیں اور اپنے پیاروں کو بھی دور رکھیں ۔
* ہاں اگر استعمال ہی کرنا ہے تو مثبت پہلوؤں کے لئے استعمال میں لائیں جیسے کہ ديني معلومات اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے
* یہ صرف ایک ضرورت کی شئے ہے نا کہ بنیادی ضرورت ہے .
* اللہ کے احکام اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حکایات پر عمل پیرا ہونے کی خوب صورت شروعات کریں .
* سلام کو عام کریں یہیں سے ہماری بھلائی کی شروعات ہوگی .... ان شاء اللہ آمين
یاد رکھیں حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوتاہی برتنا رضا الہی سے محرومی کا باعث بھی بن سکتا ہے . کیونکہ دونوں ا اپنی اپنی جگہ پر مستند ہیں
روزنامہ منصف آئینہ شہر مورخہ 9 / جون 2022
✍️ فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد