١٥غزل

مجھے ان پھولوں سے کانٹے اچھے لگنے لگے
فریب نظر کے یہ حسیں بہانے اچھے لگنے لگے

رعنائی محفل دنیا کی دیکھی جب میں نے
  دل تنہائی کے مرے ویرانے اچھے لگنے لگے

باد نسیم کی وہ پاکیزه لہر آئی میرے قریب
شب غم میں سحر کے وہ ترانے اچھے لگنے لگے

تھا آشنا کوئی کبھی راز دار ایسے بھی میرا
 اسی رقیب کے اب سارے فسانے اچھے لگنے لگے

صعوبتیں جھلیتے ہیں زندگی کی تبسم يوں جو
 تو پھرسارے اپنے پرائے انھیں اچھے لگنے لگے
 ✍️ فہمیدہ تبسّم

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]