غزل٢٠

علم حاصل کر وه جو زبان قلم ہو
ورنہ تو سب بیکار جو صِرف علم ہو


کتابیں پڑھ کر تو بہت سی دنیا بنالی
کتاب وہ بھی یاد کر جو ازل معلم ہو

کردار کی خوبی وہ نہیں جو تو سمجھے
   پیکر خاک کو بنا اس طرح جو نور مجسم ہو 
   
آگاہی دین سے ہو میسر شمشیر آبرو تجھ کو
جنگ زر گری ہے تضيع اوقات تم تو امی ابو القاسم ہو
   
    چشم تر ، رخشنده جبیں اور لب تبسم ہو
       گماں قوی ،قیاس روشن وجود فنا فی القوم ہو
       ✍️ فہمیدہ تبسّم 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]