غزل ١٩

جان پر نہ بن آئے اتنا بھی نہ چاہو
چاہت کو بھی مول سے تم چاہو

ہے یہ دستور ،ریت یہاں کی پرانی
  نہیں قدرجسےچاہت کی اسے نہ کبھی چاہو

ستارہ جو ٹوٹا آسمان سے دوڑ کر
مانگ لو تم بھی دل سے جو چاہو

  عجز و انکسار سےحاجتوں کو سمیٹ لو
 ٹوٹے گی نہ تقوى کی رسی پھر جوچاہو

ظاہر سی بات ہے یہ سمجھ لوتبسم 
چاہو جو رب راضی ، تم بنده راضی چاہو
✍️ فہمیدہ تبسّم 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]