غزل١٨

اٹھ تو بھی خدمت خلقت کی نیت رکھ
دل میں جذبہ حساسیت کی عادت رکھ

مسمار کر نہ دے جذبہ عقیدت کو شعلہ بیاں
باطل ناطق پر اپنی لبیک کی گرفت رکھ

بھاگتا کیوں ہے سراب کے پیچھے ناداں
مرد مجاہد ہے جوالا مکھی کی نسبت رکھ

صبر و تحمل استقامت ہےنبی کا شریں بیاں
تو ہے امتی اپنی آن بان لاج کی شجاعت رکھ

باتوں سے خوشبو اور ہونٹوں پر تبسم ہو پنہاں 
  کوئی تری نہ اور نہ تو کسی کی شکایت رکھ
  
  ✍️ فہمیدہ تبسّم

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]