بے وفا محبت ... قسط نمبر۸
کہاں سے آیا کون تھا بس کچھ زیاده اکرم کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہوئے وہ بھی پیاری سے بے انتہا پیار کرتا تھا ، شائد اسی لیے کسی کو اس کے بارے میں انکوئری کرنا مناسب نہیں لگا۔ .
وقت ہوا کے پر لگاکر اڑنے لگا اور ایک سال میں پیاری کو گڑیا جیسی بیٹی ہوگئی دونوں بہت خوش تھے کہ ان کی چھوٹی سی دنیا میں ایک پری آگئی۔ اکرم روز کام پر جاتا اور شام میں گھر پر ہی رہتا. پیاری اپنی قسمت پر رشک کرتی کہ اسے اتنا چاہنے والا شوہر ملا ، گھر والے اس کے فیصلے سے ناخوش تھے لیکن اب سب مطمئن تھے کہ ان کی زندگی خوشحال گزر رہی ہے
******************************************
پھر آہستہ آہستہ اکرم کے رویہ میں تبدیلی آنی شروع ہوگئی۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے پیاری سے الجھنے لگا . گھر پر جتنا وقت رہتا چڑچڑ کرتا رہتا بچی میں بھی زیاده دلچسپی نہیں رہتی بات بات پر پیاری سے خفا ہو جاتا
وہ بار بار اصرار کرتی کہ پرابلم کیا ہے پر وہ کچھ نہیں بتاتا صرف جواب میں یہ کہہ دیتا کہ جان کر تم کیا کرو گی اور اگر کہہ دوں کہ تم ہی پرابلم ہو تو چلی جاؤ گی مجھے چھوڑ کر " اس کی یہ باتیں سن کر پیاری خاموشی اختیار کرلیتی اور اپنی بیٹی کے کاموں میں مگن ہو جاتی
********************************************
ادھر بڑی لڑکی شبنم ایک سال کی ہى تھی کہ پیاری پھر اُمید سے ہوگئی اب وہ ذرا فکر مند ہونے لگی کیونکہ اکرم بالکل بدل چکا تھا اسے اب ذرا احساس ہونے لگا کہ وہ زندگی کا سب سے اہم فیصلہ غلط کر بیٹھی ، مگر وہ اب کچھ نہ کرسکتی تھی کیونکہ میکے میں کوئی اس شادی سے راضی نہ تھا لہذا خود ہی خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتی .
جس انہونے ڈر کا اسے احساس ہورہا تھا وہی ہوا ، ایک دن اچانک اکرم کام سے جلد واپس آگیا اور سوٹ کیس میں کپڑے رکھنے لگا . " آپ کہاں جارہے ہیں ؟ " پیاری حیرت سے پوچھنے لگی " کہیں نہیں جان صرف دودن میں واپس آجاؤں گا " وہ اسے باہوں میں بھوتا ہوا کہنے لگا . " مگر میرا کیا ہوگا ؟ وہ آزرده سی پوچھنے لگی " اکرم اسکے گالوں کو چومتا ہوا بے حد پیار کرنے والے انداز سے اسے سمجھانے لگا بس دو دن ہی کی تو بات ہے امی کے ہاں چلی جاؤ یا انھیں یہاں بلوالو کیا حرج ہے وہ اسکی محبت میں اتنی سرشار ہورہی تھی کہ مد ہوشی سی طاری ہونے لگی او میری جان آج تمھیں جی بھر کر پیار کرونگا وہ اسے اپنی طرف لیتا ہوا کمرے کا رخ کرنے لگا . پیاری پوری طرح سے خود کو اس کے حوالے کرتی ہوئی نہال ہونے لگی .اور پھر دو دیوانے دل مچل کر ایک دوسرے میں سمانے لگے ، پتہ نہیں کیا کشش تھی اکرم کے پیار میں وہ دیوانی سی ہو جاتی اور خود کو بھول جاتی اسکے جسم کی گرمی اسے اس قدر پگھلا دیتی کہ سب کچھ بھول کر صرف اور صرف اس کی ہو جاتی اور اکرم بھی تو جب اسے پیار کرتا پوری وفا سے کرتا اسکا انگ انگ چومتا اسے اپنے پیار میں اس قدر نہلاتا اور وہ بھی خود دیوانہ ہوئے جاتا اور پیاریکے حسن میں دوبالا کردیتا
وه فرش آپ ہو کر اسے الوداع کہتا ہوا رخصت ہوگیا . اس کی آنکھوں میں انتظار دیکر نظروں سے اوجھل ہوگیا
وه فرش آپ ہو کر اسے الوداع کہتا ہوا رخصت ہوگیا .
*******************************************
بس وہی اسکی آخری چاہت تھی اس تاریخ سے آج تک اکرم کا کہیں پتہ نہ چلا دوسری لڑکی شمع بھی پیدا ہوچکی تھی وہ ہر روز انتظار کرتی فون کرتی مگر فون سوئچ آف اور انتظار بیکار ہو جاتا ماں ہردن کوستے رہتی پتہ نہیں وہ کدھر چلاگیا ؟ مجھے کیوں دھوکہ دے گیا ؟ میرا قصور کیا تھا؟ بچیاں یاد نہیں آتیں اسے ؟ میری محبت اتنی کمزور تھی کیا ؟
ایسے کئی سوالات تھے جنکا جواب خود اکرم ہی دے پائے گا مگر کب ؟ کب آئیگا وہ ؟
*******************************************
باقی آئندہ ....
فہمیدہ تبسّم