دین و دنیا میں سو فیصدی کامیابی

اپنی قسمت پہ يوں رشک ہونے لگا ہے

الہام آپﷺ پر رب کا جوہونے لگا ہے

پوچھے ذرا کوئی کہ یہ راز آخر ہے کیا؟

شكراً مولا امت محمدیہﷺ میں شمار ہونے لگا 
****************************************
****  َصلٌَی اللٌٰہ عَلَی النٌَبٍىٌٍ الاُمٌِی وَعَلیٰ ٰٰالِهٖ
َصلٌَى اللٌٰهُ عَلَيهِ وَسَلٌَمَ صَلوٰةً وٌَسَلَامً عَلَيكَ يَا رَسُولَ اللہِ!***
******************************************

   بعد نماز جمعہ مرد حضرات مساجد میں یا گھروں میں اور عورتیں گھروں ،  جمعہ کے دن فجر یا ظہر کے یا پھر بعد عصر کی نماز کے جب وقت ملے پڑھ لیں 
کم از کم دس اور زیادہ سے زیادہ سو 100 مرتبہ پڑھ لیں ۔ اس کے برکات اور فوائد بے حساب ہیں ، جس میں سے چند ....
اس کے پڑھنے والے پر اللہ تعالیٰ فوراً اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پانچ ہزار نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں ، پانچ ہزار گناہ معاف فرمائے جاتے ہیں ، اس کی پیشانی پر لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ شخص منافق نہیں ، اور لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ شخص دوزخ کی آگ سے آزاد ہے ، اسکو قیامت کے دن شہیدوں کے ساتھ رکھا جائے گا، جب تک درود میں مشغول رہے گا اللہ تعالى کےمعصوم فرشتے اس پر درود بھیجتے رہیں گے . ، اللہ تعالیٰ اس کی تین سو حاجتیں پوری فرمائے گا . 210 آخرت میں اور 90 دنیا میں ، اس کے دین میں زبردست ترقی ہوگی ، اولاد میں عالی شان برکت دے گا ، اللہ اس کو اپنا محبوب بنائے گا . ، دل میں اس کی محبت رکھے گا ، اس کا ایمان پر خاتمہ ہوگا . قبر وحشر میں پناہ میں رہے گا ، قیامت کے دن عرش کے سایہ میں ہوگا ، حضور صلی االلہ علیہ و سلم کی شفاعت اس کے لئے واجب ہوگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے روز اس کے گواہ ہوں گے . حوض کوثر پر حاضری نصیب ہوگی ، میزان میں اس کی نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا ، قیامت کی پیاس سے محفوظ رہے گا ، پل صراط پر آسانی سے گذر جائے گا، قبر میں نور ہوگا ، اور بہت ہیں مگر سب سے بڑا فائده یہ کہ الله تعالٰی اس شخص سے ہمیشہ راضی ہوگا ناراض کبھی نہ ہوگا .

****جمعہ کے دن جس گھر میں یہ درود شریف ہوگا . اس گھر پر رحمتیں ہر طرف سے نازل ہوں گی اس لیے جمعہ کے دن کم از کم پانچ منٹ کا وقت نکال کر اس کا ورد کریں .
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیکی کی توفیق دے ... آمين يا رب العالمین****
  فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]