غزل 22

ظلمت کی عمارتیں ہو نگی سب مسمار
رہنمائی کی علامت ہو جب دین کے مینار 

عروج باطل کا چرچا ہے سارے جہاں میں
  ہو گیا دین میں کنگال جو تھا دین کا معمار

  نہ کرسکے جو ادا ہم سجدے شکر و ندامت کبھی
نہ ہوگا یوں پھر قوم و ملت اورمصیبت کا سدھار

سجا کر رنگین محفل گزارا تھا اک شوخ زماں
ہوئی ختم سب عزتیں نہ رہا باقی وہ سنگھار

  فلسفہ زیست زرا غورو خوض سے پڑھنا تبسم 
  رب کی مہربانی ہے ، کرنا ہے ادا تجھےبڑا ادھار
  
  ✍️ فہمیدہ تبسّم
  
  








Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]