احساس ندامت
احساس ندامت
سوال کرتی ، وقت کیا ہوا بیٹی ؟ مجھے اسمبلی میں دیر ہونے کا ڈر لگا رہتا اور میں بہت جلدی میں ہوتی ، کیونکہ روز میری اور ندیم کی کچھ نہ کچھ جھٹ پٹ ہوہی جاتی مجھے اسکول کو دیر ہونے کا خدشہ اور ندیم کو آفس لیٹ جانے کا ڈر دونوں اپنی اپنی ضد پر اڑے رہتے بچوں کو تیار کرنے میں مدد نہ كرنے کا شکوه میرا اور سارے کام میں تعاون کرنے کا طرہ ندیم کا بس اسی حجت و تکرارمیں دونوں ایک دوسرے پر تلخ گفتاری اور نا زیبا جملوں کے وار کرتے ہوئے گھر سے نکل جاتے ، ان بزرگ خاتون کے سوال کو نظر انداز نہیں کر پاتی ، اور جواب دیتی ہوئی آگے بڑھ جاتی .
دوباره شام میں جب گھر کو واپس ہوتی تب بھی وہ یہی سوال دہراتی کہ "وقت کیا ہوا بیٹی " اور میں ذرا اطمينان سے جواب دیتی ہوئی آگے کو بڑھ جاتی ، نہ میں انہیں جانتی تھی اور نہ وہ بزرگ خاتون مجھے جانتی تھی بس ہر روز ایک سوال انکا اور ایک ہی جواب میرا ، دل چاہتا کبھی اسکول سے جاتے وقت دو گھڑی رک جاؤں ان سے خیر خیریت معلوم کرلوں لیکن مجھے بھی تھکان کا احساس ہوتا اور گھر جلدی جانے کی فکر لگی رہتی ، اور اس طرح سے جواب دیکر نکل جاتی
کبھی اس بزرگ خاتون نے مجھ سے بھی دوسرا سوال نہیں کیا جیسے کہاں رہتی ہو ؟کتنے بچے ؟ میاں کیا کام کرتے ؟ وغيره وغیره جیسا کہ عام عورتیں پوچھتی ہیں .
آج بھی میں حسب معمول اسکول جلد پہنچنے کے لئے دوڑے جانے والے انداز میں چل رہی تھی کہ پھر وہی سوال وقت کیا ہوا بیٹی میں نے بغیر گھڑی دیکھے جواب دیا اور آگے کو نکل گئی مجھے آج ذرا لیٹ ہوگئی تھی اور اسمبلی شروع ہو چکی تھی . یوں سمجھیں کہ پانچ یا چار یا پھر تین منٹ ادھر ادھر ہوگئے اور اس بات کو میں نے نظر انداز کردیا روز کی طرح ساری کلاسس لیکر میں ظہرانہ کھا چکی تھی اور وضو بنا کر نماز کے لئے کھڑی ہوگئی . پتہ نہیں کیوں مجھے یہ احساس جاگا کہ میں نے کچھ غلط کیا ! میرا دل دماغ نماز سے غافل ہو رہا تھا اور خشوع و خضوع سے نماز ادا نہیں کرپارہی تھی . باربار اس بزرگ خاتون کا سوال اور میرا دیا ہوا جواب مجھے ڈسٹرب کررہا تھا . جیسے تیسے میں نے نماز پڑھ تو لی ، اور دوپہر کے کلاسس کی طرف دھیان دینے لگی .
آج مجھے جماعت ششم میں اخلاقیات کا گھنٹہ لینا تھا اور میں نے کلاس کو اپنے طور پر پوری طرح گرفت میں لے رکھا تھا . اتفاق کی بات تھی کہ آج جھوٹ کے تعلق سے بچوں میں آگاہی پیدا کرنا تھا اور اس کے لۓ میں نے کئی امثال بچوں کے سامنے پیش کرتی ہوئی جھوٹ کے گناہ اور اس کے دنیاوی اور آخرت کے نقصانات اور اسکا ارتکاب کو تفیصل سے بيان کررہی تھی ، اتنا دلچسپ اور مفید عنوان تھا لیکن میں پوری طرح سے اپنی تدریس سے انصاف نہیں کرپارہی تھی پھر مجھے وہی خاتون اور ان کا سوال میرا جواب دماغ پر وارد ہوا جارہا تھا .
خدا خدا کرکے گھر کی بل ہو گئی اور میں آہستہ آہستہ چلتی ہوئی کچھ سونچ لیے جارہی تھی کہ ان کا دروازه قريب آگیا وقت کیا ہوا بیٹی ؟ پھر انھوں نے وہی میٹھے انداز میں مجھ سے سوال کرڈالا ، صبح سے ذہن منتشر ہو گیا تھا ، اس لئے میں نے ذرا رکنا مناسب سمجھا اور آہستہ سے ان کے قریب جاکر جواب دینے لگی . میرا جواب سن کر وہ مسکرادی پھر میں نے ہی سوال کر ڈالا " خالہ جان آپ ہر روز مجھے آتے جاتے دیکھ کر وقت کیوں پوچھتی ہیں " ؟ وہ خاموش نظروں سے مجھے دیکھنے لگی ، ان کی آنکھوں میں میں نے ڈھیر سارے سوال جواب دیکھے مجھے تعجب ہوا کہ ہر روز میں انھیں دیکھتی بھی ہوں شائد مگر آج ان کی آنکھوں میں کئی سوال بھی ہیں اور جواب بھی ، پھر میں نے ہی دوباره سوال کیا . " آپ کے پاس گھڑی موجود نہیں ہے شائد " ؟ وہ کچھ نہ بولی اچھا چھوڑیے ان سب باتوں کو میرے خیال سے آپ مجھ سے بات کرنا چاہتی ہیں شائد اس لئے مجھے ہٹکا تی رہتی ہیں ؟ وہ پھر بھی خاموش تماشائی بنی میرے سوالات کو بغور سن رہی تھی . " ٹھیک ہے خالہ جان میں پھر چلتی ہوں " یہ کہہ کر میں وہاں سے جانا مناسب سمجھا . اور دل ہی دل میں سونچا ہے چاری ہر روز مجھے مخاطب کرتی ہے دو گھڑی بات کر لینے میں کیا حرج ہے سمجھ کر میں نے بھی خالہ جان کے لقب سے نوازتے ہوئے بات کی مگر ان خاتون کا تو بہت ہی ڈمانڈ ہے ، مجھ سے بات تک کرنا گوارا نہیں کیا ! خیر جو بھی ہو مجھے ان سے کیا ندیم ابھی آفس سے آئے نہیں تھے اور ویسے ہم دونوں میں بات چیت بند تھی فہد اور زویا کو ٹیوشن بھیج دیا اور رات کے کھانے کی تیاری میں مصروف ہوگئی پر نہ جانے کیوں مجھے وہی خاتون نظروں کے سامنے آنے لگیں ، زہن کو جھٹک کر کام میں بزی ہوگئی اور تقریباً میرا کام بھی ختم ہوا اور ندیم ، بچے بھی گھر لوٹ آئے
سب نے ملکر عشائیہ کا اہتمام کیا اور پھر صبح کی ترکاری ، اور دیگر کاموں کا جائزہ لیکر سونے کے لئے روم میں آگئی ، ندیم تو ہمیشہ کی طرح گھوڑے بیج کر سورہے تھے اور ناراضگی کی وجہ سے میرے روم میں آنے تک سو جاتے میں بھی بستر پر سونے کی غرض سے لیٹ گئی ، پر ایک بے چینی اور بے قراری سی مجھ پر چھانے لگی ، ایک انہونی سی کیفیت مجھ پر طاری ہوگئی آخر کو وہ مجھ سے وقت کا سوال کیوں کرتی ہوگی ؟ یہ سوال ہی میرے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح ضرب لگا رہا تھا . کل اس سوال کا جواب میں اس خاتون سے ضرور پوچھوں گی اور میں وہاں سے جب تک نہیں ہٹو نگی تب تک وہ جواب نہ دے دے ، کچھ سکون سا مل گیا مجھے میرے اس فیصلے سے .
آج تھوڑا پہلے اسکول جانے کی غرض سے میں نےسارا کام جلد نپٹا لیا تھا ندیم میری ساری کاروائی کو غیر ارادی طور پر نوٹس کررہے تھے اور مدد کو آنا چاه رہے تھے شائد لیکن میری بے رخی کی وجہ سے محتاط رہ کر خود کو بزی کرنے لگے . گھر سے نکل چکی تھی ، مجھے جواب طلب جو کرنا تھا اس خاتون سے ، جیسے جیسے ان کا دروازه قریب آرہا تھا میرے من میں کئی سوال اور اٹھنے لگے جن کے جواب خود میں بھی نہ دے پار ہی تھی .
ارے یہ کیا ؟ آج دروازه بند ہے ؟ آج وہ وقت پوچھنے نہیں بیٹھیں چوکھٹ پر ؟ میری نظریں انھیں ادھر ادھر تلاش کرنے لگیں ، اسکول اسمبلی کے لئے اور ٹائم تھا اس لیے میں وہیں رک گئی۔ اور انتظار کرنے لگی .
کیا چاہیئے آپ کو ؟ ایک کمزور سی آواز نے مجھے چونکا دیا؛ میں نے پلٹ کر دیکھا ایک ادھیڑ عمر کی خاتون میرے مقابل تھی ، جی ! وہ یہاں ایک بزرگ خاتون ... میرے سوال کو درمیان سے ہی انھوں نے لے کر پورا کرلیا ، ہاں آپ شائد رحیم خالہ کی بات کررہی ہیں آپ اسکول ٹیچر ہیں نا ؟جی ! نئی آئی ہو کیا اسی سال تبادلہ میں ؟ ہاں ! رات ان کا انتقال ہوگیا اور ان کی تدفین شہر میں واقع مسجد کلثوم کے دائره میں ہوگی نہ جانے وہ اور کیا کیا کہے جارہی تھی میرے کان جیسے بند ہوچکے تھے اور پاؤں تلے زمین کھسکتی محسوس ہوئی ، کل شام تک تو اچھی بھلی تھی ، مسکراتی ہوئی مجھے دیکھی اور راتوں رات یہ المیہ ؟ اف میرے خدا ! اچھا ٹیچر ! میں چلتی ہوں ... نہیں ر کیے ذرا میں نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکا !اور موبائل نکال کر ہیڈ ماسٹر کو میسج رکھ دیا کہ فور نون کی چھٹی منظور کریں نوازش ہوگی ، کیونکہ مجھے آج اس خاتون کی زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنی جو تھی جس کے لئے وقت نکالنا پڑا اور آدھے دن کی چھٹی لے کر اسی خاتون سے پوچھنے لگی۔
آپ کیا لگتی ہیں ان کی ؟ جی وہ میری پڑوسن ہے میں ادھر پیچھے رہتی ہوں . اچھا .. ان کو کتنے بچے ؟ ارے بے چاری کو ایک بیٹی اور دو بیٹے . اچھا اچھا پھر وہ یہاں اکیلی کیوں ؟ اب کیا بتاؤں ٹیچر ان کی زندگی تو ساری تکالیف اور مصائب میں مبتلا تھی کم عمر میں بیوگی کا روپ خدا نے دے دیا اور تین بچوں میں ایک لڑکی رضیہ جو آپکی طرح پڑھ لکھ کر قابل ٹیچر بن گئی تھی . پھر ! میرا تجسس اور بڑھ گیا دونوں لڑکے بھی شہر میں اچھی کمائی کر لیتے ہیں . ہاں اچھا ہی ہے نا میں نے ذرا سکون کی سانس لی ، کہاں اچھا ٹیچر ! اس گاؤں میں رہ کر وہ محنت مزدوری کرکے لوئیاں سیکر جوکہ گاؤں کی عورتیں پرانی بیڈ شیٹ دے کر سلوا تی تھی اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتی رہی جب بچے قابل بن گئے تو اچھے دن کی آس لیے تھی اور بیٹی کو نوکری بھی مل گئی تھی . پھر .. پھر کیا اچھا رشتہ دیکھ کر بیاہ کردیا مگر وہ بہت چالو آدمی تھا پہلے سے شادی شده اور بچوں والا دھوکہ ہوگیا بے چاری ماں بیٹی اور بیٹوں کو اچھا . مگر رضیہ بہت سلجھی ہوئی لڑکی تھی جیسے تیسے نبهاه رہی تھی وه خبيث اسکی ساری تنخواہ لے جاتا اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ عیش کرتا کبھی کوئی اعتراض رضیہ کرتی تو خوب پٹائی کرتا میری آنکھیں آبدیده ہونے لگی . اور تو اور اسے ہر وقت ڈرا دھمکا کر رکھتا کہ اگر نوکری میں چھٹی لے گی یا تنخواه نہ دی جائے گی تو ختم کردوں گا .
پھر بھی وہ برداشت کرنے لگی بے چاری رضیہ ! ہاں تو پھر میں نے سوال کیا ہاں بتاتی ہوں اس شیطان نے ایک حربہ استعمال کیا وہ یہ کہ آہستہ آہستہ رضیہ کو نشے کی گولیاں دینے لگا رات میں گولیاں اور دن میں ہراساں اس طرح سے وہ اپنا ذہنی توازن کھو نے لگی . اللہ ! پھر ... پھر کیا تھا سب میں بدنام کردیا کہ وہ پاگل ہوگئی ہے یہ سن سن کر اچھی بھلی لڑکی سچ میں پاگل ہونے لگی اور خود کو صحت مند ثابت کرنے کے لئے ہر کسی کو کہتی کہ میں پاگل نہیں ہوں ، اور اس دنیا والوں نے ٹیچر ! اس بے چاری کو پاگل کہنا شروع کردیا اسے دماغی طور پر اذیت جو دے رہا تھا اسکا شوہر ہاں ... اس طرح سے آخرکار وہ معصوم پاگل ہوگئی اور ہر روز وہ جلدی جلدی تیار ہوتی اور رحیم خالہ سے روتی ہوئی پوچھنے لگتی امی وقت کیا ہوا ؟ وہ ہیبت زده چہرہ لیے ماں سے سوال کرتی جاتی امی وقت کیا ہوا اسکول جانا ہے ماں روتی ہوئی کہتی بہت وقت ہے بیٹی اطمینان سے تیار ہوجاؤ وہ ہینڈ بیگ کندھے پر لگائے بغیر برقعہ باہر آجاتی پھر اندر کی جانب دوڑتی امی وقت کیا ہوا ہے ... مجھے دیر ہوگی میری تنخواہ کٹ ہو جائے گی اور وہ مجھے چھوڑدیں گے ..
رحیم خالہ ہر طرح سے بیٹی کو دلاسہ دیتی مگر لا حاصل پوری طرح سے پاگل رضیہ نے ایک دن اسی پاگل پن کے دورے پڑنے پر دوڑتی ہوئی اسکول کا وقت ہو رہا ہے کہتے بھاگنے لگی اور تیز گاڑی کے سامنے آ گئی لاکھ کوشش کے باوجود اسے نہیں بچا پائے اور خالق حقیقی سے جا ملی اور نوکری ؟ میں نے روتے ہوئے سوال کیا اس شیطان کا نام لکھائی تھی نا وارث میں اسے مل گئی اور بھائی وہ دونوں ماں کی دیکھ بھال کرنے لگے اور شہر چلنے کو کہا مگر وہ نہ مانی اور کہنے لگی اس گھر میں میری بیٹی ہے میں یہیں رہوں گی . اچھا مگر اکیلی ؟ نہیں بہو رہتی تھی ساتھ میں چند برسوں سے ان کا دماغ بھی صحیح کام نہیں کر رہا تھا اور ہمیشہ ہر ایک سے ایک ہی سوال کرتی جاتی بیٹی وقت کیا ہوا؟ ہر آنے جانے والا جواب دیتا لیکن وہ دہراتی جاتی بیٹی وقت کیا ہوا؟ اور مسکراتی ہوئی دیکھ تی. آخر کو وہ بھی اس دنیا سے چل بسی یہ کہتے کہتے اس عورت نے زار و قطار رو نا شروع کردیا میں نے اسکی آنکھوں سے جاری آنسوؤں کو اپنے رومال سے صاف کیا مگر اسی گاؤں کی وہ رہنے والی تھی پھر شہر میں کیوں آخری رسومات ؟ میرے سوال پر اس نے کہا ! ان کے بیٹوں نے اس گاؤںکو منحوس مان لیا اس لئے وہ اس گاؤں کو خیر باد کہہ کر چلے گئے اورمکان کو مسجد کی کمیٹی کے حوالے کر دیا . اچھا ! میں نے فون نکال کر ہیڈ ماسٹر کو آفٹر نون کی بھی چھٹی منظور کرنے کی درخواست پیش کردی اور ندیم کو میسج رکھ دیا کہ "مجھے معاف کردیں میں ہی غلط تھی آج آفس سے جلد آجائیں " فوراً ندیم کا رپلی آیا "نہیں جان میں نے بھی تم پر زیادتی کی ہے میں بھی قصور وار ہوں مجھے معاف کردو آمنہ "
میں آنکھوں میں ندامت ، افسوس اور خوشی کے آنسوؤ لیے گھر کی راہ پر گامزن ہو گئ . اس راہ پر جہاں خلوص محبت اور ایک دوسرے کے جذبات کے لئے قربانیاں دی جاتی ہیں اور جذبات کی قدر ہوتی ہے ایک دوسرے پر اعتبار کیا جاتا ہے ، چھوٹی سی خوشی بھی بہت قیمتی ہوتی ہے . اور وہ راستہ جس پر چلکر دنیا و آخرت میں میں سرخ رو ہونا چاہتی ہوں . آج مجھے احساس ہوا کہ کسی کی چاہت ہمارے لیۓ کتنی عظیم نعمت ہوتی ہے . جس کو نظر انداز کر کے ہم در بدر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں . ندیم میرا بہت خیال کرتے پھر بھی میں انھیں کبھی کبھی طعنے دینے لگتی وہ خاموش برداشت کرتے آخر کو برداشت نہیں ہو پاتا تو ناراض ہو جاتے . اللہ میرے دل کو پاک صاف رکھ آمين . دعا کرتی ہوئی مطمئن ہوگئی
میرے گھر کو پہنچنے تک وہاں ندیم میرا مسکرا کر استقبال کررہے تھے .
فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ
روزنامہ منصف گھر آنگن مورخہ 6 / اپریل 2022