بہاریں پھر بھی آئیں گی

امی مجھے شادی کرنی ہے ! ہاے اللہ کیا بے شرموں والی بات کری ، تجھے ایسی باتیں کرتے ہوئے ذرا شرم نہیں آتی ؟ بے شرم کہیں کی ، تو بہ تو بہ کوئی اپنی شادی کی بات اس طرح سے زبان سے نکالتا ہے ، لجا شرم کہاں بیچ کرآئی ؟، چھی چھی چھی ، اگر پڑھنے سے ایسی بے حیا ہو جاتی لڑکیاں تو میں پڑھاتی نہیں تھی ، اری وہ تو اچھا ہوا تیری دو بڑی بہنوں کو نوکری نہیں ملی ورنہ ان کا بھی یہی حال ہوتا ، کیا نوکری کرنے لگی بس ہر ہفتہ دو ہفتے بعد منہ اٹھائے چلی آتی ہو "امی شادی کرنی ہے " .
اری میں پوچھتی ہوں آخر کو شادی کی ایسی عجلت کیوں ہے ؟ بتا ؟ کسی کو دیکھ لیا کیا ؟ یا پھر .... امی بس آپ مجھے جو دل میں آیا کہیں مگر خدارا میری شادی کرائیے مجھے اب اس طرح کی زندگی نہیں جینا ہے وه دونوں ہاتھ جوڑ کر ماں سے منت سماجت کرنےلگی ، اری بے غیرت ، دیکھتی نہیں تجھ سے دو بڑی بہنیں ابھی کنواری بیٹھی ہوئی ہیں اور یہ بتا کیا ڈال کر شادی رچائے گی سارا پیسہ ترے باوا کے علاج میں لگا رہی ہوں اور تو ہے کہ شادی شادی شادی کرتی پھر رہی ہے ، پہلے ان کے ہاتھ پیلے ہونے دے بے شرم جا یہاں سے جا ورنہ مجھے بہت طيش آرہا ہے پتہ نہیں اور کیا کیا کہہ دونگی.
*****************************************
 شمع آنکھوں میں آنسو لیے کمرے کا رخ کرنے لگی ، اس نے ایک اچٹی نگاه دونوں بڑی بہنوں پر ڈالی جو دس ، دس بچوں کو لیے ٹیوشن کہہ رہی تھی اور اس کے اور ماں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سنی ان سنی کرتے ہوئے خود کو مصروف بتانے کی کوشش میں تھیں .
  سارے بچے چلے گئے اور دونوں بہنیں شمع کے قریب آگئیں ، کیا ہوا ؟ امی سے کیوں الجھ رہی ہو؟ راعنا دیدی نے اس کے کاندھے پر دھیرے سے ہاتھ رکھ کر سوال کیا ، ہاں شمع تم ہر دو چار دن بعد اس نہ ہونے والی بات کو لے کر کیوں امی سے تکرار کرتی ہو ؟ حنا دیدی نے بھی راعنا کی تائید میں کہا . وہ خاموش چهت کو گھورے جا رہی تھی ان دونوں کے سوالوں کا جواب نہ دینا چاه رہی تھی اور شائد بحث میں نہ پڑھنا چاه رہی تھی ، " تم کچھ بولتی کیوں نہیں " ؟ را عنا نے دوباره اسے جھنجوڑا ، بس راعنا دیدی کچھ نہیں رہنے دیں مجھے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی ہے ، دیکھو شمع اگر کچھ پرابلم ہے تو بتاؤ ہم تمہاری مدد کریں گے حنا نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا . وہ مرده سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے دونوں کو دیکھنے لگی۔ سر میں چاندی کی تاریں جھلمل کررہی تھیں ، چہره پر جھریوں کے آثار نمایاں نظر آرہے تھے ، دونوں میں صرف سال دھیٹر سال کا فرق تھا ، جسم بھی اب پہلے جیسا توانا اور بھرا بھرا کہاں رہا کمزوری جھلک رہی تھی ، دونوں کی آنکھوں میں وہ جوانی کی روشنی کہاں باقی تھی بس ایک اداس سی لو جل رہی تھی جو زندگی سے کئی شکوے کرنا چاه رہی تھی پر اسے بھی ڈر تھا کہیں بدنامی نہ ہو جائے ، پھر زمانہ یہ نہ کہہ دے کہ آنکھ کا پانی مرگیا ہے ، گردن کو کرسی پر ٹیک کر اس نے دوبارہ چھت پر بنے آہک پاشی کے بے رنگ ہوتے نقوش کا جائزہ لینا شروع کیا ، آنکھوں کی پوروں سے بے آواز بہنے والےآنسووں کو کانوں میں داخل ہوتے ہوئے محسوس کر رہی تھی مگر انھیں ڈسٹرب نہیں کرسکی بس اندر اترتے جارہے تھے صبر کرو شمع اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے راعنا دیدی نے آہستہ سے کہا ، ہاں شمع اللہ سب سے بڑا وکیل ہے وہ بڑا انصاف کرنے والا ہے حنا دیدی نے اس کی تھوڑی کو ہاتھ لگا کر کہا ، دونوں بہنیں اس کو روتا ہوا چھوڑ کر وہاں سے ہٹ گئیں .
****************************************** * کیا کہتی وہ ! اسے کہاں شادی کا شوق ہے وہ تو ہر روز اسکول میں اس کے colleagues کے اصرار اور مذاق اڑانے سے یہاں اکر تنگ کرتی ہے ، سماج ہمیں اپنے بل بوتے پر زندگی گزارنے کی اجازت کہاں دیتا ہے وہ تو ہر وقت اس کے اشاروں پر چلنے کو کہتا ہے چاہے وہ راستہ گمراہی کا ہی کیوں نہ ہو ، اگر ہم معاشره اور سماج کی مخالف سمت جانے لگے نگے تو وہ ہماری ٹانگ اس بے دردی سے کھینچ ڈالے گا کہ ہم منہ کے بل گر پڑے نگے اور دوباره اٹھ کر سنبھلنے کی کوشش بھی رائگاں جائے گی ، وقت مقرره پر اگر شادی ہو جائے وہ بھی مشکل لڑکی کو اس طرح اکسایا جاتا کہ بس وہ یہی کہتی رہتی ہر روز کہ صحیح لوگ نہیں ملے ، ہماری قسمت خراب تھی ان جیسوں میں اللہ تعالٰی ڈال دیئے ، پہلے معلوم ہوتا تو ہرگز بھی شادی نہیں کرتی بھلے ہی کنواری ہی رہ جاتی وغيره وغيره باتیں سننے کو ملتی. سسرال والوں کی نو حہ سرائی ہوتی اور جھوٹ ، کینہ ، حسد، بغض الغرض نہ جانے کتنی ہی چھوٹی اور بڑی برائیوں میں مبتلا کیا جاتا ، شوہر کو ظالم کا خطاب دیکر اس کے خلاف سازشیں اور پلاننگ اور پھر شرکیہ عقائد کی بنیاد پر زندگی کو ڈھالنے کے طور طریقے سب سیکھائے جاتے ، شمع سونچ رہی تھی کےانھیں کس طرح سے سمجھائے کہ وہ بھی گھر کہ ذمہ داریوں میں حصہ دار ہے اسے بھی ابا کے علاج کی فکر ہے دس سال سے وہ بھی تو گھر کے حالات سے اچھی طرح واقف تھی اسے دو بہنوں کی محنت کا بہت احساس تھا مگر وہ لفظوں میں گن کر انکی قدر و قیمت کو گھٹانا نہیں چاہتی تھی . وہ ماں کو یہ احساس دلانا چاه رہی تھی کہ راعنا اور حنا دیدی کی شادیاں کردے پر امی ... کاش امی یہ سب سمجھ پاتی.
ماں تو اولاد کی خوشیاں چاہتی ہے اور اولاد کا دکھ درد سمجھتی ہے ، یہ امی کیوں نہیں سمجھتی کہ ہم تینوں بھی شادی کے قابل ہیں ، دونوں بھائی تو مالس میں نوکری کررہے ہیں اور "آمدنی اٹھنی اور خرچہ روپیا "والے محاورہ کو پورا کر رہے تھےبس ان کے عیش وہ پورے کرلیتے گھر میں خرچہ کے نام پرصرف ہزار دو ہزار دیتے ہیں ، زیاده پڑھائی بھی تو نہیں کی ان دونوں نے بس انٹر تک پڑھا اور بس کردیا نا ابا نے ان کو آگے تعلیم جاری رکھنے کو کہا اور نہ ہی امی نے فورس کیا ، وہ بھی شوقین بندے بس موبائیل میں آئے دن نئے نئے فشین دیکھتے اور فلپ کارڈ سے آڈر کروالیتے ، نہ خود کی شادیوں کی فکر اور نہ بہنوں کی شادی کی فکر ، آخر کب تک ایسا چلتا رہے گا میرے الله وه آسمان کی طرف التجا بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی۔.
***************************************
چلو شمع کھانا کھالیتے ہیں ، تقریباً دو گھنٹے گزر جانے کے بعد حنا دیدی پھر سے اس کے قریب آگئی ، آخر کیا سوچ رہی ہو ، وه خیالوں کے بھنور سے باہر نکلتی ہوئی سیدھی ہوکر بیٹھ گئی 
کچھ نہیں حنا دیدی آپ چلئے میں ابھی آتی ہوں ٹھیک ہے پر جلدی آنا ، ابا کو غصہ آجائے گا وہ تنبیہہ کرتی ہوئی چلی گئی ، اس نے آئینہ میں اپنا سراپا دیکھا ، ڈر ہے کہیں میں بھی بوڑھی نہ ہو جاؤں ان دونوں کی طرح وہ خود سے سوال کرنے لگی ، پھر .. پھر کیا ہوگا اب امی ابا الحمد للہ با حیات ہیں کل کو کچھ ناگہانی ہوگی تو اللہ نہ کرے وه پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی آخر امی اس بات کو سمجھتی کیوں نہیں ؟ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال بار بار آرہا تھا اور وه یہ کہ آخر کو شادیاں کب ہو نگئیں .
****************************************
 مختار صاحب ٹھیلا جس پر کڈس وئیر (چھوٹے بچوں کے کپڑے) بیچتے تھے ، وہ ترکاری کی مارکٹ میں ٹھیلا لگاتے بس روز کی آمدنی تین لڑکیاں راعنا ، حنا اور شمع اور دو لڑکے سلمان اور عمران جو خود کو حقیقی ہیروز کی طرح پوز کرنے میں لگے رہتے نہ باپ کی مشقت کی پرواہ اور نہ بہنوں کی فکر بس جو کچھ کماتے اپنے عیش پورے کر لیتے . اب وہ بزنس بھی ختم ہو چکا تھا کیونکہ ایک دن رات نیند میں ابا کو بلڈ پریشر ہائی ہوگیا اور نیند میں ہی ایک ہاتھ اور ایک پیر کام کرنا بند ہوگئے ، صبح جب بیدار ہوئے تو اٹھ نہ سکے بس پھر کیا تھا جو تھوڑا بہت کما لیتے تھے وہ بھی ختم ہوگیا اب ساری ذمہ داری راعنا اور حنا پر آگئی بھائی تو دونوں سے چھوٹے تھے پھر شمع وه اور چھوٹی ، اسکول میں پڑھانا اور پھر گھر پر ٹیوشنس دونوں بہنوں نے گھر کو سنبھالا، ابا کا علاج اور ہم تینوں کی پڑھائی یہ سب انھیں کے نازک کا ند ھوں پر پڑ گیا . ایسے میں امی جو شروع ہی سے جاہل مزاج کی تھی اور چڑچڑ سی ہوگی اور شادی کے بارے میں پوچھنا کیا سوچنا بھی گناہ تصور ہونے لگا ، گھریلو حالات ایسے ہونے کی وجہ سےراعنا کو اپنی شادی کا ذکر کرنا بہت بڑا جرم محسوس ہونے لگا .
****************************************** لڑکیوں نے کافی محنت کرکے سرکاری اسکولس سے اعلیٰ درجہ کی کامیابیاں حاصل کیں اور راعنا ، حنا بی اے ،**لڑکیوں نے کافی محنت کرکے سرکاری اسکولس سے اعلیٰ درجہ کی کامیابیاں حاصل کیں اور راعنا ، حنا بی اے ، بی ایڈ کئے پر گورنمنٹ ملازمت نہیں مل سکی اس لئے صبح پرائیوٹ اسکول میں پڑھا لیتی شام میں ٹیو شنس کرلیتی ، شمع لکی تھی کیونکہ انٹر کے بعد ٹی ٹی سی کیا اور سرکاری نوکری لگ گئی . نوکری ہوئے اسے دس سال کا عرصہ گزر چکا تھا پر نہ ہی دو بڑے بہنوں کا بیاہ ہوا اور نہ ہی اس کے بارے میں گھر میں کوئی چرچہ ہر ماہ پوری تنخواه وه ماں کو لاکر دیتی اور ماں نے بھی کبھی کسی بات کا ذکر تک نہیں کیا ، جیسے سونا لیا ، یا چاندی لی ، یا کراکری ، اسے یہ سب سنے نے کی بڑی چاه رہتی کیونکہ اسٹاف میں ساتھی اساتذہ اسے ہر روز کسی نہ کسی بہانے یہ بتانے کی کوشش کرتے کہ اب شادی کرلو اس طرح سے کب تک ساری تنخواه گھر والوں کو دوگی یہ سب بھائیوں کی ذمہ داری ہے لڑکیوں کی نہیں، اور امی بس ساری تنخواه گھر کے خرچوں میں لگادیتی اور بھائیوں کے سامنے تو کبھی کوئی ذکر تک نہیں کرتیں بس ان کی آؤ بھگت میں لگی رہتی ، یہ سب سونچ کر اسے تو چکر سی آنے لگی۔
*******************************************
 دستر خوان پر وہ خاموش بیٹھی نوالے حلق میں اتار رہی تھی . امی ابا اور وہ تینوں تھیں دو بھائی تو آدھی رات کو آتے ، کیا بات ہے بیٹے خاموش ہو ؟ ابا نے سوال کیا اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتی امی پھر سے شروع ہوگئی ، شادی ہونا بول ری آپ کی لاڈلی بے شرم ، دیکھو کوئی تو بی ہے تو کرکے دے دینگے بلا جاتی کماری نا بہت نخرے دیکھا ری ، تنخواہ دے ری نا حساب مانگ ری ، اری جو کھاری وہ کہاں سے آرا پھو گٹ کے نوالے ڈالنا کیا ؟ اس کے حلق سے نوالے اندر کے بجائے باہر کو آرہے تھے ، تم ذرا خاموش بیٹھو گی ؟ ابا نے ہاتھ کے اشارے سے امی کی بک بک کو روکا ۔ کیوں بیٹا آپ کو اس گھرمیں کوئی تکلیف ہے کیا؟ وہ اس طرح کے سوال کے لئے تیار نہیں تھی ، میں تم سے پوچھ رہا ہوں شمع! جی وہ آنسو جو پلیٹ میں سجارہی تھی گردن اوپر کرکے باپ پر نظر ڈالی ، ہاں بتاؤ آپ تینوں کو کوئی تکلیف ہے کیا ہمارے ہاں ـ اب وہ کیا کہتی سب نے چھپ سادھ لی ، کیا ہمارے لاڈ پیار میں کوئی کمی ہے ؟ تو پھر گھر میں یہ روز روز کا تماشہ کیوں ؟ یہ تکلیف دہ باتیں کیوں ؟ وہ خفا ہو کر دستر خوان سے اٹھ کر جانے لگے ، جلدی میں اٹھ نہ سکے اور زمین پر بری طرح سے گر پڑے ابا تینوں نے شیخ مار کر سہارا دیا سر پر چوٹ لگی تھی فوراً اسپتال منتقل کیا گیا ، مرہم پٹی کے بعد گھر واپس آگئے پر شمع بہت رو رہی تھی اس کی وجہ سے ابا گرپڑے .
*****************************************
ارے طاہرہ باجی آئیے ! آج بھول کر ہمارے گھر کا رخ کر لیا کیا ؟ نہیں رضیہ جان بوجھ کر آئی ہوں اچھا اچھا بیٹھیے رضیہ بیگم پلنگ پر بچھی بیڈ شیٹ کو درست کرتی ہوئی اشاره کرنے لگی .
میں دراصل راعنا کے لئے رشتہ لے کر آئی ، اچھا اچھا کیا کرتا ہے لڑکا؟ لڑکا نہیں شادی شده ہے دو بچے ہیں بیوی کا انتقال ہوگیا عقد ثانی کے لئے اچھی لڑکی کی تلاش میں ہے مجھے خیال آیا آپ کی راعنا پڑھی لکھی ہے اور اچھے اخلاق کی ہے بڑی بات یہ کہ بچوں کو سنبھالنے میں کافی مہارت رکھتی ہے اسکول اور ٹیوشن میں دیکھا میں نے اس لئے .... دیکھو رضیہ بہن اب آپ کی لڑکیوں کی عمریں وہ نہیں رہی کہ کنوارے لڑکوں کے رشتے آئے انھیں عقد ثانی کا رشتہ ہی قبول کرنا پڑے گا .
رضیہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا وہ ایک نہ دو بس طاہرہ باجی کو تکے جارہی تھی .
آدمی شریف ہے سرکاری ملازمت ہے بچے بھی اچھے اخلاق کے ہیں ایک دسویں اور ایک آٹھویں میں ہے ، غور کرو بھائی صاحب سے مشوره کرکے ہی جواب دینا کوئی جلدی نہیں ہے دین لین کچھ نہیں ہے ، اچھا میں چلتی ہوں وہ شربت کا گلاس رضیہ بیگم کے ہاتھ میں تھما تی ہوئی اٹھ کر جانے لگی .
 راعنا جو باورچی خانے میں پکوان کررہی تھی ، دونوں کی باتیں سن لی . پر زبان پر تالا ڈالے کام میں مصروف ہوگئی وہ ماں کی تیز طبیعت سے خوب واقف تھی اگر کچھ بھی ردعمل کا مظاہرہ کرتی تو بری طرح سے نوازے جاتی ، اسے اچھی طرح یاد ہے جب وہ اسکول میں پڑھانے کے لئے انٹرویو دینے گئی تھی وہیں پر ٹیچنگ کرنے والے احمر کا رشتہ آیا تھا مگر امی نے یہ کہہ کر ریجکٹ کردیا تھا کہ اتنی کم تنخواہ میں وہ کیا پالے گا اور ویسے بھی ابھی میری بچی کی عمر ہی کیا ہے ، نہ راعنا سے اس رشتے کے بارے میں رائے پوچھی گئی اور نہ ہی ذکر ہوا باہر سے ہی ہٹا دیا گیا .
 اب رضیہ بیگم کو عادت سی ہوگئی تھی ہر رشتہ میں عیب نکال کر رد کردینا چاہے وہ راعنا کو آئے یا حنا کو ، آہستہ آہستہ رشتوں کی آمد رکنے لگی اور لڑکیوں کی عمریں بڑھنے لگی .
راعنا نےکبھی یہ نہ کہا کہ امی مجھے وہ رشتہ منظور ہے ہاں کردیں کیونکہ ایک بار ہمت کرکے وہ کسی رشتہ کے لئے حامی بھرلی تو ماں نے اسے بہت برا بھلا کہا اور ساتھ میں وارننگ بھی دی کہ گھر کو دیکھنا اب اس کی ذمہ داری ہے، بالکل اسی طرح جس طرح سے اب شمع کو کہا تھا جب شمع ابھی اتنی شعور والی کہاں تھی ، اور وہ گھر پر بھی نہیں تھی اس لیے سنی نہیں 
ہر پرپوزل کو نام رکھ کر وہ ہٹا دیتی اب انہیں کون سمجھائے کہ عمر ڈھل رہی ہے پھر اچھے پرپوزلس نہیں آئیں گے . وه دن تھا بس آج کا دن پھر اس نے شادی کی بات منہ سے نہیں نکالی اب تو اسے اس بات سے لگاؤ ہی ختم ہوگیا اس عمر میں کیا آرزوئیں ، کیا امنگیں ، کیا دل کا مچلنا بس ہر چیز دم توڑتی ہوئی نظر آرہی تھی . ابا کی کمائی ختم ہوچکی تھی ، اب گھر کا تقریباً آدھانظام وہ دیکھنے لگی .
******************************************  بڑی آئی رشتہ لانے والی کیا سمجھ رکھا ہے میری بچیوں کو بوڑھی نانی ؟ عقد ثانی کا رشتہ لے کر آئی ہے ، ہوں ں ۔ وہ بڑبڑاتی ہوئی ترکاری کاٹنے لگی . اتنی پڑھی لکھی قابل اور خوب صورت بچیوں کو میں عقد ثانی میں دے دوں . وه زور زور سے کہہ رہی تھی تاکہ راعنا کے گوش گزار ہو سکے .
******************************************
  ا جی سنتے ہو رضیہ بیگم مختار صاحب کی بیڈ کے قریب بیٹھتی ہوئی آواز دینے لگی ، ہاں کیا ہوا بولو ! وہ طاہرہ باجی آئی تھی اچھا ! اپنی راعنا کو عقد ثانی کا رشتہ لے کر ،اچھا ! پھر کیا کہا تم نے کچھ نہیں ، راعنا سے پوچھ لو اگر وہ راضی ہو جائے تو کردینگے ، مختار صاحب نے کہا ! اگر راعنا بیاہ کر چلی گئی تو گھر کا خرچ کیسے پورا ہوگا ؟ آپ تو بستر پر ہیں اور لڑکے تو زیاده کچھ دینے والے نہیں لے دے کہ تین بچیوں کی کمائیاں ہی سارے اخراجات اور علاج کو پورا کررہی ہیں ایسے میں اب اس کی شادی؟ ..... اور شادی کے سارے اخراجات کہاں سے ہوگا یہ سب ؟ رضیہ آخر کو بچی کی شادی کرنی ہی پڑے گی تم کب تک ٹالتی رہو گی اس طرح سے ان کے ارمانوں کا خون کیوں کر رہی ہو اگر مجھے کچھ ہوجائے اور خدا ناخواستہ تمھیں بھی کچھ ہو جائے پھر تین بچیوں کو کون سہارا دے گا وہ تمہارے لوفر بیٹے ؟ جو میرے جیتے جی گھر کو نہ دیکھ سکے مرنے کے بعد کیا خاک دیکھیں گے . اب راعنا کی عمر پیتالیس کے قریب کو ہے اور اس کے لئے عقد ثانی کا رشتہ ہی آئے گا ، چلو اچھا ہے سرکاری ملازمت والا ہے میری طرح کوئی خانگی کاروبار نہیں ہے ، تم طاہرہ باجی سے فوٹو اور تفصیلات منگوالو پھر راعنا سے پوچھتے ہیں . ٹھیک ہے ! وہ اٹھ کر چلی گئی ، مختار صاحب کے آنکھوں میں آنسو آگئے جن بچیوں کو کنوارے شہزادے ملنا تھا آج میری وجہ سے وہ عقد ثانی کے لائق ہوگئے کاش اللہ تعالٰی مجھے اچھی کمائی کرنے والا بناتا یا پھر لڑکیاں نہ دیتا یا تو سلیقہ شعار بیوی دیتا بس خدایا آس ہے تجھ سے ہی امید ہے !میری بچیوں کی زندگی سنوار دے مالک وہ دل سے دعا دینے لگے۔
*****************************************
 وہ بستر پر سونے کی نیت سے لیٹ گئی پر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ، آج نہ جانے کیوں اسے احمر یاد آگیا وہ اسکول کا ساتھی ٹیچر جو اسے دل سے چاہتا تھا پر عزت کی پرواہ کئے خاموش رہتا اسے بھی شائد وہ چاہنے لگی مگر گھریلو حالات اسے محبت کرنے سے منع کرتے تھے وہاں ڈھیر سارے مسائل اور تو محبت کے حسین وادیوں میں یہ ناممکن سی بات ہے راعنا ! حالات اسے محبت کرنے کی اجازت نہیں دیتے ، شرافت ، عزت اور شرم و حیا نے اس کی زبان کو تالا لگادیا تھا ، کس طرح سے وہ یہ کہہ دے کہ وہ احمر کو چاہتی ہے اسی سے بياه کرے گی ، اسے ڈر تھا کہیں ابا کو معلوم ہو جائے گا تو وہ ان کی نظروں میں گر جائے گی اور امی ... امی تو تیز مزاج کی کچھ بھی کہہ دیں نگی ان کو دلوں کے جذبات کی پرواہ کہاں رہتی بس ہر وقت لڑکیاں ہونے پر کوستے اور طعنے دیتے رہتی اور ایک قلیل کمائی والا شوہر ملا ہے ، یہ قسمت کا رونا روتے رہتی 
پھر احمر کا رشتہ اسے آیا پر امی نے انکار کردیا ، اسکول میں سب ساتھی اساتذہ نے اسے بہت سمجھایا اچھے اخلاق کا لڑکا ہے معیاری لوگ ہیں وہ کیا کہتی وہاں سارا زور امی کا چلتا ، بس خاموش رہی پھر احمر اس اسکول سے نکل گئے اور کسی دوسرے اسکول میں جاب کرنے لگے ، ایک دن اسٹاف میں احمر کی شادی کا کارڈ تھا اس کا دل اس وقت بہت رویا بہت رویا پر خاموش آنسو نہ کسی نے دیکھے نہ محسوس کئے کاش امی سمجھ پاتی اور احمر سے میرا رشتہ طے کر دیتی بس اس دن سے اس نے احمر کی محبت کو دل سے نکال دیا یا پھر یوں کہنا چاہیے کہ دل میں محبت کو دبا دیا .. ارے یہ کیا فجر کی اذان ہورہی ہے وہ ساری رات جاگتی رہی .
*************************************راعنا او راعنا جی امی وه دھلے ہوئے کپڑے الماری میں رکھ رہی تھی ماں کی آواز پر ان کی طرف متوجہ ہوئی یہ آدمی کی بیوی مرچکی ہے دو بچے ہیں گورنمنٹ ٹیچر ہے اگر تم ہاں کردو تو پھر سادگی سے نکاح ہو جائے گا ویسے تمھارے ابا نے حامی بھرلی اور مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں اچھا ہی ہے نا !اسکے چہره کو دیکھا نہ جواب طلب کیا فوٹو پلنگ پر رکھ کر وہ باہر نکل گئی 
 اب شادی کی کیا ضرورت؟ اس نے خود سے سوال کیا ابا بیمار اور میری عمر بھی شادی کرنے کی کہاں رہی مجھے بس اسی طرح سے گھر والوں کی خدمت کرلينا چاہیے ہاں اگر حنا اس رشتے کو پسند کرلے گی تو اچھا رہے گا اس نے یہی سونچا اس فوٹو کو لفافے سے نہیں نکالی ۔
 وہ سیدھی حنا کے ہاں چلی گئی اور اسے بہت منایا کہ اس رشتے کو ہاں کردے میں امی ابا سے بات کرلونگی ، حنا نے رضا مندی ظاہر کردی آپ بھی تصویر دیکھ لو دیدی حنا نے کہا ! نہیں جب وہ تمھیں دیکھنے آئیں گے میں خود بات کرونگی ٹھیک ہے ! ہاں ٹھیک ہے .. امی میرے بجائے حنا کے ساتھ یہ رشتہ طے کردیں تو بہتر ہوگا وہ بہت ہمت جٹا کر رضیہ بیگم سے کہنے لگی ، کیوں تمہیں پسند نہیں ہے کیا؟ نہیں ویسی بات نہیں بس مجھے آپ لوگوں کے ساتھ رہنا ہے ، جیسی تمہاری مرضی ، ٹھیک ہے طاہرہ باجی سے کہہ دونگی.
*****************************************
  آج حنا کو دیکھنے باپ بچے آرہے تھے وہ بھی بہت خوش تھی چلو بہن کی عقد ثانی ہی سہی کسی سے شادی تو ہورہی ہے .
 وه بڑے اہتمام سے ٹرے سجائے حنا کے ساتھ دیوان خانے میں داخل ہوگئی ، سامنے بیٹھے شخص کو دیکھکر اس کے ہاتھوں سے کشتی چھوٹ جاتی اگر حنا جلدی سے سہارا نہ دیتی وہ وہ کوئی اور نہیں احمر تھا . اس کے منہ سے چیخ نکلنا باقی تھا . احمر نے اسے دیکھ لیا وہ حنا کو بیٹھا کر دوڑے جانے والے انداز میں اندر آگئی .
کاش میں تصویر دیکھ لیتی یا اللہ میں نے احمر کو دوباره کھو دیا ، اللہ میری قسمت سے وہ دو بار میری زندگی میں آئے اور میں نے دوسری دفعہ بھی انھیں کھو دیا وہ پلنگ پر گرکر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی . اب فائدہ کیا ہے میں نے خود حنا کو راضی کروایا ... وہ اٹھ کر جلدی سے منہ پر پانی کے چھنیٹے مارنے لگی . ، مجھے ہمت سے کام لینا چاہئیے اگر کسی کو اس بات کا پتہ چل جائے گا تو بڑی بے عزتی ہو جائے گی 
*****************************************
. آئیے احمر بھائی آئیے نا حنا احمر کو ساتھ لیکر را عنا کے کمرے تک آئی . یہ کیا ہے حنا ! وه تعجب خیز نگاہوں سے حنا کو دیکھنے لگی ، کچھ نہیں راعنا دیدی یہ آپ کے ہونے والے شوہر اور ہمارے جیجو ہیں . کیا ؟ ہاں ! وہ تو اچھا ہوا کہ احمر بھائی نے آپ کو بڑھاپے میں بھی پہچان لیا اور مجھے سب بتادیا حنا ہنستی ہوئی کہنے لگی اور احمر مسکراتے ہوئے راعنا کو دیکھنے لگے اب تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہے نا راعنا آپ کے امی ابا راضی ہیں احمر نے سنجیدگی سے کہا ؛ پھر کیا ،وہ شرماتی ہوئی دوسرے کمرے میں چلی گئی۔
  قسمت میں لکھا ضرور ملے گا بس کسی حال کسی طریقے اور کسی بھی روپ میں . راعنا کی ماں باپ سے ساری شکایتیں ختم ہوگئی وہ بہت خوش اور مطمئن تھی اپنی رندگی سے 
****************************************
 شمع کو دیکھنے آج لوگ آرہے ہیں ، لیکن وہ اس رشتے کو نا پسند کرتی ہے .مجھے یہ رشتہ پسند نہیں ہے امی ، اچھا ! شادی شادی کرتی رہتی تھی اب رشتہ آیا تو کیوں ٹھکرا رہی ہو ، وہ تین چار سال پہلے والی بات کو لے کر آپ مجھے نہ کہیں اب تو حنا دیدی کے بارے میں سونچنا چاہیے ان کی عمر بھی کافی بڑھ گئی ہے . اب تو ! مجھے بتائے گی کہ کس کی عمر بڑھی اور کس کی شادی کرنی ہے ؟ رضیہ بیگم کو شمع سے جیسے نفرت سی ہونے لگی تھی ادھر. مختار صاحب اور کمزور اور بہت ہی ناتواں ہوگے تھے ، سلمان نے اپنی گرل فرینڈ سے شادی کرلی اور الگ ہی گھر لے کر رکھا اچھے کھاتے پیتے گھرانے کی لڑکی تھی سب سکون سے چل رہا تھا .
******************************************   امی یہ رشتہ حنا دیدی کو جم جائے گا تو بہتر ہوگا ، اری پاگل لڑکی وہ احمر کے جان پہچان کے لوگ ہیں اور سرکاری نوکری والی لڑکی کی تلاش میں تھے ، وه تو اچھا ہوا جو احمر نے ہمارے بارے میں بتایا لین دین کچھ نہیں چاہیے اور کیا اس سے بہتر کوئی رشتہ ہوگا اب تو کہتی ہے کہ حنا دیدی کو کرو ، اسکی سرکاری نوکری تھوڑی ہے ؟ اچھا امی لڑکا کیا کرتا ہے ؟ شمع نے ماں سے دریافت کیا ، کچھ نہیں ! کیا ؟ ہاں کچھ نہیں ، پھر شادی کرکے وہ مجھے کس طرح رکھے گا ؟ تو تو کما رہی ہے نا اور کیا ؟ یعنی میری ہی تنخواہ پر گزارا ؟ ہاں اور کیا ... رضیہ بیگم نے جواب دیا ، امی بھلے ہی وہ نہ کمائے کچھ فرق نہیں پڑتا لیکن خالی رہنا بہت بڑی پریشانی کی بات ہے ، وہ کیوں اب وہ بھی بیٹی کو سنجیدگی سے سننے لگی ، وہ اس لئے کہ "خالی دماغ شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے" اب تو حنا دیدی کے لئے بھی یہ نا مناسب ہے آپ "نا " کردیں 
********************************************
شمع آپ سے کچھ بات کرنی ہے آج وہ اسکول جاتے ہی ہیڈ ماسٹر صاحب نے اسے مخاطب کیا ! جی سر؛ کہیے! وہ معدبانہ انداز میں کھڑی رہی ، ارے آپ بیھٹے ذرا میں اسٹاف کی رپورٹ لے کر آتا ہوں پھر بات کرتے ہیں، جی
ہاں تو شمع میں آپ سے اپنے بڑے بھائی کے بارے میں بات کرنا چاه رہا تھا ! اچھا سر ، وه سعودی میں مقیم تھے فیملی کے ساتھ صرف ایک لڑکا ہے انھیں جی ، ہمارے امی کی طبعیت ناساز ہونے کی وجہ سے وہ بھا بھی اور بچے کو یہیں چھوڑ کر چلے گے تھے ، اب شمع کیا کہوں میں کہ بھابھی اپنے میکے چلی گئی اور ضد کرنے لگی کہ خلع لے گی ، کیوں ؟ اس لۓ کہ وہ ساتھ میں نہیں لے گئے ، تو پھر بلوا لیں تو بہتر ہوگا نا سر وہ بھی دلچسپی سے کہنے لگی ، ہاں ہم سب نے انھیں یہی کہا پر بات خلع کی زبان سے کیسے نکلی وہ اس بات کو لے کر پلٹ گئے ، اچھا پھر کیا ہوا ، ہونا کیا تھا بھابھی نے سمجھا ڈر کر بلوا لیں گے مگر بھیا نے خلع کے کاغذات پر دستخط کرکے بھیج دیا ، یا اللہ ! پھر ؟ پھر کیا بچہ ساتویں جماعت میں ہے . اب ان کے لئے کوئی اچھی سی لڑکی کی تلاش ہے ہمارے اسٹاف سے معلوم ہوا کہ آپ کی ایک بڑی بہن ہے اگر برا نہ مانو تو اس رشتہ کے بارے میں گھر والوں سے بات کرکے مجھے بتادو گی کیا . ٹھیک ہے سر میں والدین سے بات کرلونگی ، شکریہ بہت شکریہ شمع مجھے بڑی فکر ہوری تھی تم نے حامی بھر کر آدھی کم کردی 
********************************************
حنا دیدی آپ سے ایک بات کرنی تھی اگر آپ فری ہیں تو بتائے ، ہاں بولو شمع کیا بات ہے ، شمع نے ساری تفصیلات بتادی اور حنا سے رضا مندی پوچھی وہ مسکرا کر ہاں کردی ، پھر جاکر مختار صاحب اور رضیہ بیگم سے کہا دونوں نے حامی بھرلی لیکن ساری تفصیلات لانے کو کہا اس نے سر کا فون نمبر دے دیا اور مختار صاحب نے بات کرلی 
دوسرے دن سر کو گھر مدعو کیا گیا انھوں نے اپنے بھائی کی ساری تفصیلات مختار صاحب تک پہچائی اور ایک ہفتے میں ان کے بڑے بھائی آنے والے تھے ، اس کے بعد دیگر معاملات ہوں گے . کہا
ایک ہفتہ گزر گیا اور نصیر صاحب سعودي سے آگئے اور حنا کو پسند کرلیا بس مسجد میں نکاح اور سادگی سے وداعی ہوگئی .. وہ بہت خوش تھی اتنی آسان ہو جاتی ہیں مشکلات ، ہاں جب اللہ کی رضا شامل ہوگی اور وہ دینے لگے گا تو بے حساب دے گا ہر مشکل کو آسانی میں بدل دے گا . اذیتوں کو مسرتوں میں بدل دے گا حنا بہت خوش تھی بہت ہی سلجھے ہوئے انسان تھے نصیر صاحب .
********************************************
بس اور کیا تھا اب صرف شمع اور عمران کی شادی رہ گئی ، عمران نے ماڈلنگ ٹسٹ میں اول درجہ سے کامیابی حاصل کی وہ آکر بہت خوشی سے بتانے لگا ، مختار صاحب اور رضیہ بیگم بہت خوش ہوگئے ، اب وہ ان دونوں کو اپنے ذاتی فلیٹ میں لے جانا چاه رہا تھا کیونکہ کئی کمپنیاں اسے اڈوانس بک کرچکے تھے .یہ مکان کرایہ پردے کر تینوں کو وہ اپنے فلیٹ میں شفٹ کر لینا چاه رہا تھا . اور چند دنوں میں وہ عمران کے ذاتی فلیٹ میں شفٹ ہوگئے 
پڑوس میں رہنے والے خان صاحب کا لڑکا بینک میں ملازم ہے بس اور کیا تھا انھوں نے شمع کے لئے رشتہ بھیجا حالانکہ وہ عمر میں بڑی تھی پھر بھی انھیں شمع اتنی پسند آگئی کہ عمر والی بات کو وہ نظر انداز کرگئے اور مظفر سے شمع کی نسبت طے ہوگئی وہ بہت خوش تھی اللہ کا بڑا احسان ہے اس نے سب بہنوں کو اچھے سے اچھے گھرانوں میں بھیج دیا .
چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوگیا شمع کو دیکھ کر سب عش عش کرنے لگے وا ہ قسمت والی ہے بہت شمع ہر کوئی یہی کہتا .
جو اپنے گھر اور اپنے والدین کی خدمت میں اپنی زندگیوں کو لگا دیتے ہیں تو کیا کائنات کا مالک انھیں یوں ہی چھوڑ دے گا ... ماں باپ کی دعا ان کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ رہے گی ... اور
ہاں جیسے الله رکھے تواسے کون چکھے .....
✍️ فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد 
روز نامہ منصف ... گھر آنگن مورخہ 15 / جون 2022

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]