اردو ڈرامہ کل آج اور کل
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اودے اودے ،نیلے نیلے، پیلے پیلےپیرہن ( علامہ اقبال)
۳۰۴ صفحات پر مشتمل تحقیقی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ بعنوان "اردو ڈرامہ کل آج اور کل " کے تحت ایک بار پھر ہمارے سامنے ڈاکٹر محمد خلیل الدین صدیقی قاضی صاحب کی رونق افروز پیش کش ...
یوں تو ڈاکٹر صاحب گا م بہ گا م اردو داں طبقہ کی خدمت میں کچھ نہ کچھ کتب کو شائع کرتے آرہے ہیں ، اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی بائیسویں ( 22 ) کتاب کو قارئین اکرام کے سامنے پیش کیا ہے . " ویرانوں میں دن رات رہا کرتے ہیں لیکن ؛ آباد علاقوں میں تو سادھو نہیں رکتے " .( برگ صحرا ، ڈاکٹر خلیل صدیقی) ..
یہ صرف کتاب نہیں بلکہ اس کو ہم جامع کتاب کہنا بے ضرر نہ ہوگا ، کیونکہ موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ انتہائی خوبصورت انداز و بیان میں کیا گیا ہے
اس کتاب کو دیکھ کر ہمیں پروفیسر مجيد بیدار صاحب ، حیدر آباد کا یہ قول جو کہ موصوف کے حق میں کہا گیا تھا ، پورا اترتا نظر آتا ہے کہ " ڈاکٹر خلیل صدیقی کی تحریر میں برجستگی ہے اور وہ جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں اس کے نکات اور ابھار کا حق ادا کرتے ہیں . ان کے اسلوبمیں شائستگی اور بے جا تکرار سے پرہیز کا وصف پایا جاتا ہے " . سچ ہی کہا ،"آنکھ کو بیدار کردے وعده دیدار سے ؛ زنده کردے دل کو سوز جوہر گفتار سے "( علامہ اقبال)
ویسے ڈاکٹر خلیل صدیقی صاحب کی شخصیت کوئی تعارف کی محتاج نہیں لیکن پھر بھی ہمارا فرض بنتا ہے کہ نئے قلمکاروں اور قارئین اکرام کے سامنےتھوڑا سا موصوف کا تعارف پیش کردیں ،
: ڈاکٹر محمد خلیل الدين صدیقی قاضی ولد قاضی محمد قائم الدین صدیقی اور تخلص ، قاضی رکھتے ہیں جبکہ قلمی نام ڈاکٹر خلیل صدیقی اپنایا ہے ، ڈاکٹر صاحب کی تعلیمی قابلیت پر ایک نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ وہ کس قدر تعلیمی لیاقت سے مزین ہیں ڈبل پی جی ، ایم ایڈ ساتھ میں بیچلر آف جرنلزم اینڈ میڈیا سائنس ، اور ڈاکٹریٹ دکنی ادب میں کئے ہیں یہی نہیں وہ دینی علوم میں بھی مہارت رکھتے ہیں کیونکہ فاضل دینیات دیوبند ہیں ، اردو کے ساتھ ساتھ ہندی میں بھی آپ کی قابلیت قابل تحسین ہے .
گذشتہ پچیس سال سے اردو صحافت، اردو درس و تدریس ، اردو کے فروغ اور ہمہ جہت خدمات انجام دیتے آرہے ہیں بقول افتخار عابد صاحب ، حیدر آباد کے " ڈاکٹر خلیل صدیقی تخلیق ، تحقیق ، تالیف ، ترجمہ اور صحافت کے میدان کارزار میں ثابت قدمی سے گامزن ہیں " . ڈاکٹر صاحب کی اب تک اکیس کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں چار کتابیں بچوں یعنی ادب اطفال سے تعلق رکھتی ہیں ، جبکہ آٹھ کتابیں تحقیق و تنقید سے متعلق ہیں اور چار شعری مجموعے اور دیگر زبانوں کا دیکھا جائے تو ہندی اور مراٹھی سے تراجم شده دو کتابیں شامل ہیں ، ڈاکٹر صاحب ایک عدیم المفرصت کے مالک ہیں بقول خان حسنین عاقب پو سد صاحب کے " ڈاکٹر خلیل صدیقی ، ایک کثیر الابعاد شخصیت کے مالک ہیں " . اتنا سب کچھ کافی نہیں ہے وہ مہاراشٹر ا اردو ساہتہ پریشد کے جزل سیکریڑی کی حیثیت سے کئی برسوں سے فروغ اردو کے لئے قومی و بین الاقوامى سینیمار و وبينار کے ذریعہ منہمک رہتے آرہے ہیں . ہفت روزه " اوصاف " ماہنامہ تعلیمی سفر " ، سہ ماہی " قرطاس و قلم " کے مدیر کی حیثیت سے وہ معاشرہ میں فروغ علم و ادب و تحقیقی و تخلیقی کارہائے نمایاں انجام دینے میں اپنا فرض اولين سمجھتے ہیں، اور خود کو ایک معمولی انسان کی پہچان بنائے رکھنے میں انھوں نےکوئی کسر نہیں چھوڑی بقول ڈاکٹر فرحت انصاری جهار کھنڈ " ڈاکٹر خلیل صدیقی ، نہایت با اخلاق ، مخلص ، محنتی ، نیک سیرت و نیک صفت انسان ہیں " . اسکی بہترین مثال غیر اردو داں طبقہ کے لیے اردو کی کلاسس اور رہنمائی کا کام انجام دیا جانا ہے ، ذاتی مصروفیات کے باوجود اپنے پیشہ ورانہ خدمات کو شاندار طریقہ کار سے انجام دینے میں ڈاکٹر صاحب کا کوئی ثانی نہیں باوجود ہزار ہا مصروفیات کے وہ اردو طلبہ اور اساتذہ کے لیے مسلسل ورکشاپ اور سیمینار منعقد کرتے آرہے ہیں . " پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں ؛ کہ شاہین بناتا نہیں آشیانہ "( علامہ اقبال)
ایسی ہمہ جہت شخصیت بقول ڈاکٹر نسرین ایمن ، سہارنپور کے " ڈاکٹر خلیل صدیقی آل راؤنڈر قلم کار ہیں اور کسی بھی صنف ادب پر قلم اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں " . ڈاکٹر صاحب کو ہم کتنا ہی خراج تحسین پیش کریں کم ہی ہوگا ، یہ ہمارے لئے قدرت کا ایک انمول تحفہ ہیں جن کی بدولت سماج اور معاشرہ میں ابھی سچائی صداقت اور امانت دار ی جیسی صفات قائم و دائم ہیں .
جناب ڈاکٹر خلیل صدیقی صاحب کو مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے دو درجن سے زائد انعامات و اعزازات حاصل ہوئے ہیں ، علاوه ازیں اردو اکیڈمی آندھرا پردیش و مہاراشٹرا کی جانب سے چار کتابوں پر انعامات حاصل ہوئے ہیں ، حکومت مہاراشٹرا کے وزارت اقلیتی فلاح و بہبود کی جانب سے بیسٹ ٹیچر ایوارڈ بھی حاصل ہوا ہے . حال ہی میں مہاراشٹرا ا سٹیٹ اردو اکیڈمی کے خصوصی ایوارڈ 2019 - 2020 کے لئے منتخب کئے گئے ہیں . جو ہم سب کے لئے انتہائی مسرت کا مقام ہے بقول ڈاکٹر یوسف صابر ، اورنگ آباد کے " ڈاکٹر خلیل صدیقی کے کام کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے جو کام چار پانچ قلم کار بھی نہیں کرسکتے وہ اکیلے کردیتے ہیں ، انھوں نے کم عرصے میں بہت طویل فاصلہ طئے کیا ہے " .
آگے چلتے ہیں اور بات کرتے ہیں " اردو ڈرامہ کل آج اور کل " کتاب ماشاء اللہ قابل تعریف ہے سرورق پر ڈرامہ کی منظر کشی کی گئی ہے یعنی اسٹیج کی تصویر کشی کی گئی ہے ورق دبیز اور سفید رنگ سے مزین ہے اور طبعی اعتبار سے کتاب کافی جاذب نظر ہے. اور سب سے اعلیٰ اور اہم بات یہ ہے کہ ISBN No کے ساتھ اشاعت عمل میں لائی گئی ہے ، ویسے ڈاکٹر خلیل صدیقی صاحب کی ہر کتابISBN No کے ساتھ منظر عام پر آتی ہے تاکہ ریسرچ اسکالر کو سہولت مہیا ہوسکے . یہ انکی دور اندیشی ہے جو ہر ایک کا خیال ذہن میں رکھ کر کتاب کو چھاپتے ہیں " دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت يا رب ؛ میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں "( حیفظ جالندھری) ،اندرونی صفحات پر سب سے پہلے کتاب کی اشاعت و ترتیب و تزئین کی جانکاری مہیا کی گئی ہے . جس میں اردو ساہتیہ پر یشد لاتور مہاراشٹرا ( انڈیا) اور بزم فروغ اردو مسقط( عمان) کی جانب سے ۳۰ / مارچ ۲۰۲۲ ء کو منعقدہ انٹر نیشنل و بینار میں پڑھے گئے مقالوں کا مجموعہ اور ترتیب و تزئین ڈاکٹر محمد خلیل صدیقی صاحب کی ہے .
انتساب : ... یہاں پر ڈاکٹر صاحب نے جو پیغام دیا وہ تمام قلمکاروں کی محبتوں کو پوری طرح سے اپنے حق میں کر لیا ہے کیونکہ کسی تصنیف یا تالیف کو کسی کے نام سے معنون کرنا یہ اپنے حساب سے بہت بڑا اعزاز مانا جاتا ہے اور ڈاکٹر صاحب نے تمام قلمکاروں کے نام سے منسوب کیا جو کہ اس کتاب میں اپنے مضامین کے ساتھ شامل ہیں . یہ انتساب کی ایک خوب صورت شکل ہے جو کہ ہمیں کہیں اور دیکھائی نہیں دے گی . " اندھیرا وقت کے سانچے میں ڈھلنے والا ہے ؛ وہاں بھی شمع جلادو جہاں اُجالا ہے "( برگ صحرا ، خلیل صدیقی)
فہرست : ... جیسا کہ کتاب کی اشاعت کا اہم ترین حصہ اور کتاب کا سارا نچوڑفہرست ہوتی ہے بالکل اسی طرز پر ڈرامہ کل آج اور کل کی فہرست بھی(٦٥) 65 مضامين معہ قلم کاروں کے نام اور صفحہ نمبر کے ساتھ درج کی گئی ہے .
مقدمہ : ... ا سےدیباچہ کتاب یا پیش لفظ بھی کہا جاسکتا ہے جس میں ڈاکٹر خلیل صدیقی صاحب نے کتاب کا مختصر و مفید تعارف بیان کرتے ہوئے اس کتاب کی اشاعت کا عین مقصد بیان کیا ہے اور ساتھ میں تمام 65 قلمکاروں کا مختصر و جامع تعارف پیش کیا ہے یہ قاری کو آسانی فراہم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہی نہیں ہوگا بلکہ ساتھ میں قلم کاروں کی پیشہ ورانہ و تعلیمی قابلیت اور بہت سی فعال شخصیات کی ادبی خدمات کو اجاگر کرنے میں بھی بہتر سے بہتر وسیلہ ثابت ہو ا ہے . اور تقریبا سارے ملک کے مقالہ نگار اس میں شامل ہیں .
آخر میں ڈاکٹر صاحب نے ان تمام احباب کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کیا کہ جھنوں نے اس کتاب کے لئے اپنے زرین مشوروں سے نوازا ہے . اور قارئین سے امید ظاہر کی کہ اپنی قیمتی آراء سے ضرور بہ ضرور آگاه فرمائیں .
" دل سے اندھیرے ہوگئے سب دور یا خدا
امداد میری ہوگئی بھرپور یا خدا
قاضی کے ساتھ ذکر میں مشغول ہیں سبھی
ہر چیز اس لئے بھی ہے پُر نور یا خدا "(تنویر حمد ، خلیل صدیقی)
اس کے بعد مقالہ نگاروں کے بیش بہا مقالوں کا سلسلہ شروع کیا ہے جو کچھ اس طرح سے ہیں .
ا ۰ اردو ڈرامہ کی تعریف اور اس کے اقسام .. ڈاکٹر سید تاج الہدی محمد یوسف
2. اُردو ڈرامہ کا ابتدائی سفر ... نازنین ہرے کنمبی ، بنکا پور
3 . اردو ڈرامہ کا ابتدائی سفر .. برکت حسین ، کشمیر سری نگر
4 ڈرامہ - تعریف و توضیح مع اقسام .. حارث حمزه لون، کشمیر
5. اردو ڈرامہ ۔ آغاز و ارتقاء .. مسرت حمزه لون کشمیر
6 اردو ڈرامہ کا تعارف اور اس کے اقسام ... شبنم آپی ، عثمان آباد
7 . اردو ڈرامہ میں فن کردار نگاری ... قریشی شیخ سلطان صلاح الدین ، پونہ
8 . ممبی میں اردو ڈرامہ کی صورتحال ... آصف شیخ ممبئی
9 . لکھنو میں اردو ڈرامہ .. مختصر جائزہ ... سفیان احمد انصاری ، لکھنو
10 . شولا پور کے بچوں کے ڈرامہ نگار ... ڈاکٹر ہارون رشید ، شولا پور
11 . اردو ڈرامہ روایت فن اور تجربہ ... محبوب احمد خواجہ ، پٹیالہ
12 . اردو ڈرامے پر تقسیم ہند کے اثرات ... ڈاکٹر محمد امین نجار، کشمیر
13 . ڈراموں میں حب الوطنی کے عناصر ... فرحت انجم کریم نگر ، تلنگانہ
14 . اردو ڈرامہ اور نئی حسیت ... بشری چشتی ، حیدر آباد
15 . اردو ڈرامے کا فنی اور تہذیبی پس منظر ... شیخ محمد سراج الدين ، حیدرآباد
16 . ہندوستان کی آزادی میں اردو ڈرامہ ... ایم ۔ ریحانہ پروین ، کڑپہ
17 . اردو ڈرامہ کی تعریف اور روایت ... آسیہ چودھری ، جموں کشمیر
18 . بچوں کے ڈرامے ... محمد شفیع ڈار ، راجستھان
19. اردو ادب کے اہم ڈرامہ نگار ... غوثیہ کوثر ، جئے پور
20 . اردو ڈرامہ نگاری میں امیتاز علی تاج ... مکیش کمار ، جئے پور
21 . اردو ڈرامہ میں طنز و مزاح ... نثار احمد ڈار ، جموں کشمیر
22 . اردو ڈرامہ میں لکھنوی تہذیب و ثقافت ... عقیل احمد ، لکھنو
23 . دور حاضر کے ڈرامہ نگار .. جاوید دانش ... فہمیدہ تبسّم ، حیدر آباد
24 . ڈرامہ دروازے کھول دو اور قومی یکجہتی ... ڈاکٹر کے ایچ کلیم اللہ ، تمل ناڈو
25 . اردو کا پہلا عوامی ڈرامہ "اندر سبھا " ... رشید انساء محمد یوسف ، اورنگ آباد
26 . ڈرامہ " انار کلی " کا تنقیدی جائزہ ... شاہینہ ناز ، جمشید پور
27 . ڈرامہ " آگره بازار" کا تجزیاتی مطالعہ ... عابد سلمی ، چنیگری
28. محترمہ قمر جمالی کی ڈرامہ نگاری ... فریده بیگم حیدرآباد
29 . صادقہ نواب سحر کے ڈراموں میں ... صبیحہ خاتون ، مغربی بنگال
30 . حمید شیخ اور طرفہ طما شہ ... ڈاکٹر مبين نذیر، مالیگاؤں
31 . ڈاکٹر رشید جہاں ۔ بیباک ڈرامہ نگار ... ڈاکٹر شاہدہ مناف ، بلڈ انہ
32 . ڈاکٹر بانو سرتاج کے ڈرامے ... پی ۔ محمد جعفر ، تامل ناڈو
33. کرشن چندر کا ڈرامہ " دروازے کھول دو " آصف پرویز ، کولکاتہ
34 . ڈرامہ "انار کلی " کا تنقیدی جائزہ ... ڈاکٹر عائشہ عبد العزیز پٹھان ، شولا پور
35. ڈرامہ " خواب پتھر میں " کا تجزیاتی مطالعہ ... سید امتیاز احمد ، کڑپہ
36. ڈرامہ " یہودی کی لڑکی " ایک تنقیدی مطالعہ ... شاه نواز عالم ، مدھے پوره
37 . اردو کا پہلا عوامی ڈرامہ " اندر سبھا " ... آفرين محبوب دلال ، پونہ
38. اردو ڈرامہ اور آغا حشر کاشمیری ... سید آصف علی ، حیدر آباد
39. امانت لکھنوی کی ڈرامہ نگاری ... ڈاکٹر ر جینہ ۔ سی ، کیرالا
40 . اردو ڈرامے کا معمار اعظم : واجد علی شاہ ... عرفان امین گنا ئی ، کشمیر
41 . کرتار سنگھ بحیثیت ڈرامہ نگار ... محمد اشرف ، جموں
42 . اردو ڈرامے کی ایک تاریخ ساز شخصیت ... شاہ وید میر ، پٹیالہ
43 . کمال احمد کی ڈرامہ نگاری ... سیده فاطمہ انساء اسماء ، تلنگانہ
44. اردو ڈرامے کا آغاز و ارتقاء اور امانت ... ریحانہ پروین ، بودھ گیا
45 . يو سف صفی کے ڈراموں کا مختصر تعارف .... ڈاکٹر شیخ خواجہ پیر ، کڑپہ
46 . راجپوتانہ میں اردو ناٹک ... فخر انساء بانو، راجستھان
47. آغا حشر کی ڈرامہ نگاری " سفید خون " ... زہرہ بانو مغربی بنگال
48 . کرشن چندر کا ڈرامہ " دروازه کھول دو " ... ڈاکٹر قمر انساء ، کیرالہ
49 . تھیٹر اور ریڈیو ڈرامہ کا فن ... جی ۔ راکعہ نازنین ، میلوشارم
50 . جاوید دانش کی ڈرامہ نگاری ... فردوس سلطانہ كريم نگر
51. ادبی ڈراموں کی روایات ... ڈاکٹر نجمہ سلطانہ ، حیدر آباد
52. "دروازے کھول دو " کی کردار نگاری ... صدف آرا محمد شفیع چوبدار ، شولا پور
53 . بانو قدسیہ کی ڈرامہ نگاری ...... تبسم آرا ء ، حیدر آباد
54. يوسف صفی کے ڈراموں میں نسوانی مسائل ... ڈاکٹر شاہ جہاں بیگم گوہر ، کرنولی
55. آغا حشر کے ڈراموں میں شعریت .... محمد فہیم احمد ، راجستھان
56 . محمد حسن بحیثیت ڈرامہ نگار ... ڈاکٹر نصرت مینو ، کامٹی
57 . ڈرامہ دروازه کھول دو کا تنقیده جائزہ ... عبد العزيز کے کیرالا
58 . اردو ڈرامے میں حب الوطنی کے عناصر ... ڈاکٹر عبدالرحم ملا ، وجئے پور
59 . اردو ڈرامے کا تاریخی و تنقیدی پس منظر ... الطاف احمد ، کشمیر سری نگر
60. اردو ڈرامے کے اہم ستون ... نور بانو ، آ دئے پور
61. بانو سر تاج بحیثیت ڈرامہ نگار .... ڈاکٹر شیبا حیدر ، اُ دئے پور
62. ڈرامہ " آگره بازار" کا تنقیدی جائزہ ... نجمہ سی کے۔ کیرلہ
63 . شمیم حنفی کے ڈراموں پر ایک نظر ... ڈاکٹر اسود گوہر ، اورنگ آباد
64. اقبال نیازی کی ڈرامہ نگاری ... ڈاکٹر طیب خرادی چینئی
65. اردو ڈرامہ آزادی کے بعد .... وڈو تسنیم بانو مرتضٰی ، شولا پور .
مجموعی طور پر یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ اردو ڈرامہ کل ، آج اور کل ایک مکمل اور جامع مواد ہے جو آئندہ آنے والے ریسرچ اسکالر س کو ایک بہترین گائیڈ یعنی رہنما کا ساساتھ دے گی .."ز میں میں بو کے اجالے ؛ نیا سورج اگا نا چاہتا ہوں " " آپ اپنی الفت کو بانٹتے پھرو قاضی ؛ زندگی زمانے میں خود جگہ بنالے گی " .( برگ صحرا ، ڈاکٹر خلیل صدیقی) . اور مستقبل کے تمام اردو داں طبقہ کے لئے ایک بہترین تحفہ ثابت ہوگی آخر میں ڈاکٹر علامہ اقبال کے چند اشعار سے میں اپنی بات ختم کرتی ہوں ... جو کہ جناب ڈاکٹر محمد خلیل الدین صدیقی صاحب کی شخصیت پر پورا اترتے ہیں
"کوئی عروج دے نہ زوال دے
مجھے صرف اتنا کمال دے
مجھے اپنی ره میں ڈال دے
کہ زمانہ میری مثال دے ...
فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد