غزل

دل میں بھڑکتے شعلے جذبات کی شکل ہے
چشم تر آنسو نہیں احساس کی شکل ہے

در پہ حاضر ہوا خدا کے بنده پرور 
بندگی عاجز و انکسار کی شکل ہے

دے جو دھوکہ کوئی کچھ غم نہ کر
یہ بھی تو ظرف اخلاق کی شکل ہے

کج خلقی روایات دنیا ہے شک نہیں
اک تری رواداری اسلاف کی شکل ہے

جب تک رہے جسم میں جاں باقی تبسم
مسکرانا دکھ میں صبر و تحمل کی شکل ہے

فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]