غزل ١٧
جگر ودل چاک و تار تار کرگیا
رفوگر تھا پھر دو کو رفو کر گیا
فتور کے ناز یونہی نہ اٹھائے ہم نے
دہائی ایماں کی دے کربے ایماں کرگیا
وصل کی شب آخری پھر نہ آؤں گا کبھی
جاتے ہوئے ملنے کا دوباره وعده وه کرگیا
چاند سے چہرے نگاہوں میں ٹہرنے لگے
اپنی چھاپ ہر اک چہره پہ یوں وه دےگیا
رنگت گل جیسی ہونٹوں کےتبسم پہ چھائی
خبر یہ آئی کہ وہ ہونٹوں کی چهاپ دے گیا
فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ