غزل
خوب صورت سی اک نئی غزل لکھوں
قافیہ تو کبھی تمھیں ردیف غزل لکھوں
شعر کہوں یا تو حسين بحر تم کو لکھوں
مطلع تم ہی ہو مقطع بھی تم کو لکھوں
اشارے میں تشبیہہ کے قیس تم کو لکھوں
مثل استعارے میں زلیخا یوسف ہم کو لکھوں
تمہی کہو کیسی پھر تم پہ میں غزل لکھوں
چھوڑ کر سب نیا نیا سا پیارا پیارا سا لکھوں
چاہت کا رنگ و انداز ہےبدلا بدلا سالکھوں
یا پھر سجائی ہے محبت کی دنیا نئی لکھوں
ہجر کی بے حساب راتوں کا حساب لکھوں
پھر یوں کہو آنے کی حسين ساعتیں لکھوں
چپ ہو جاتی ہوں سجائے ہونٹوں پہ تبسم
غزل تو ہوں میں پیارا قصیدہ تمھیں لکھوں
فہمیدہ تبسّم