بے وفا محبت قسط نمبر٧

ساری دنیا اسے ہیچ نظر آرہی تھی آج وہ اکرم کی جو ہونے والی تھی ، اکرم پر وہ ایسا اعتماد کربیٹھی کہ اس کے تعلق سے ہمیشہ اچھا ہی سونچنے لگی . شاید یہی محبت ہے ، آنکھوں پر پردے پڑجاتے ہیں اور عقل کام کرنا بند کردیتی ہے دن رات اسی کے خیالات آنے لگتے ہیں کسی کام  میں دل نہیں لگتا اف یہ محبت بھی کتنی عجیب ہوتی ہے بس ایک دلفریب احساس ایک جادوئی دنیا اور ایک شہزاده پتہ نہیں کیا کرے گی یہ محبت آخر کو ...
******************************************

دو دلوں کا ملن ہو رہا ہے دو انجانے دو دیوانے ،شدت محبت ! اگر پر ہوتے ابھی کہ ابھی اڑکر وہ اس کے پہلو جاکر بیٹھ جاتی ... اور ادھر اکرم اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں اس نے تو خوابوں خیالوں میں اسے حاصل کیا تھا اب دلربا حقیقت میں اس کی ہوگی ہائے کیا چیز ہے وہ ! اسے دل قابو کرنے میں پریشانی سی ہورہی تھی ارے یار یہ سب رسمیں ختم کرو اور مجھے اس سے ملنے دو پتہ نہیں آج کیا قیامت ڈھا رہی ہوگی -
********************************************
اسلام عليكم وہ اس کے قریب آتا ہوا فرشی سلام کرنے لگا. وہ تو چھوئی موئی کی طرح سمٹنے لگی ، کیا بات کرے اس کی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ملاقاتیں کم اور نظریں زياده ملیں وہ تو بہت خوبرو لگ رہا تھا اسے آنکھ بھر دیکھنا چاه رہی تھی دیوانی جو ہوگئی تھی اس کی محبت میں وہ تو ایک حور پری جیسی لگ رہی تھی پر اسے اپنی خبر کہاں ...
آپ نے ہمارے سلام کا جواب نہیں دیا وہ قریب آتا ہوا پوچھنے لگا ، اپنی مرمری ہاتھوں سے اشاره میں وہ جواب دے گی پر یہ کیا اس کے ہاتھ تو تھام لیے گئے جھکی جھکی جھیل سینگاہیں اس نے اٹھائی اُف ماشاء اللہ کیا قیامت ڈھا رہی ہو یہ خمار بھری آنکھوں میں صرف اور صرف آج رات کی کہانی نظر آرہی  ہے اب زیاده نہ تڑپاؤ جانم مجھے باہوں میں بھر لو وہ اس کے سینے سے لگنے کو تڑپ رہا تھا 
پیاری جو دلہن بن کر بہت بہت پیاری لگ رہی تھی اس کی پیاس بجھانے کے لیے وہ بھی مچھلی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی . یہ محبت اور چاہت کی گرمی یہ عشق اور حسن کی تپش اف اسکا سینہ ابھر کر آریا تھا اور اکرم اس کی سانسوں کی خوبشو سے وہ مست ہوئے جارہی تھی اس کا بدن جوکہ کیوڑے کا بن لگ رہا تھا اکرم کو مد ہوش کئے جارہا تھا بس پھر کیا تھا دنیا سے بے خبر دو محبت بھرے دل ایک دوسرے میں اس طرح سماگئے جیسے پھول پر بھنورا جیسے شمع اور پروانہ وہ پوری طرح سے خود کو اکرم کے حوالے کرچکی تھی اسے خود کا ہوش کہاں اس کی جوانی آج صرف اور صرف اکرم کے لئے تڑپ رہی تھی اور اکرم اس نازک پھول کا رس آہستگی سے چوس رہا تھا کہیں پھول مرجھا نہ جائے اس کو باہوں میں بھر کر وہ ساری محبتیں نچھاور کر رہا تھا جس کی تڑپ پیاری کو ستائے جارہی تھی ہائے رات بس اسی طرح تھم جائے کبھی صبح نہ ہونے پائے ابھی ہماری پیاس کہاں بجھی ہے جانم ترے حسن نے مجھے پاگل کردیا وہ اس کے جسم کو چومتا ہوا سر شار ہونے لگا ، وہ بھی تو مست ناگن کی طرح اس کے پیار میں کھو سی گئ  تھی . ہاں میری بھی یہی آرزو ہے بس اسی طرح پیار کرو مجھے میرا انگ انگ تمہارا ہے بس !وہ تڑپ کر کہنے لگی 
باقی آئنده.
********************************************



Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]