غزل

مت پوچھو مجھے کیا کیا مل گیا ہے
دل وجاں کو سکون و چین مل گیا ہے

نرم مخملی سایے اس قدر مہرباں کیوں آج
آنکھوں کی چلمن خس کا جوسایہ مل گیا ہے

یہ کس آمد بہار کی گفتگو چمن میں چلی پھر
حسن جاناں کی خرامہ چال کا نشانہ مل گیا ہے

اظہار مدعا کر نہ سکا دل تو برا کیا کیا ہے
زخم باطل جو دل کو اس بہانہ مل گیا ہے

بے رخی پہ دل نالاں کی تبسم خاموش ہے
زیست کا اک موڑ اسے صوفیانہ مل گیا ہے

  فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]