حرمت بندگی
بانو آپا کچھ کام سیما سے بھی کروائیے آپ صبح سے شام تک کام کام اور صرف کام ہی کرتی رہوگی کیا ؟
میں نے پڑوس کے بانو آپا کو کام میں مصروف پایا تو بادل ناخواستہ کہہ دیا ویسے ان کے نجی معاملات میں مداخلت کرنا غلط حرکت ہے پر مجھے ان سے ہمدردی ہے اس لے میں نے یہ بات کہہ دی، اور انھیں برا بھی نہیں لگتا وہ بے چاری پڑھی لکھی نہیں تھی اور کسی قصبے سے بیاہ کر لائی گئی تھی ، اور ہمیں اتنا تو علم ہے ہی کہ گاؤں اور قصبے کے لوگ اپنے کام کو ہی عبادت مانتے ہیں اور انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دیتے ہیں کہ نا پیشانی پر بل اور نہ زبان سے کبھی شکایت ـ بس کچھ اسی طرح کی نیک بخت تھی بانو آپا بھی
میں انھیں بہت عرصہ سے جانتی ہوں مگر کبھی بھی گفتار میں وہ حدود پار نہیں کرگئی جس سے کہ انھیں یہ احساس ہو کہ وہ ان پڑھ اور گنوار ہے . جبکہ وہ چہره سے بالکل بھی ان پڑھ گنوار نظر نہیں آتی .
ہم دونوں کے مکانوں کے درمیان صرف ایک دیوار ہی تھی اور چھت کے درمیان بھی فاصلہ کم تھا . شوہر مجیب الرحمٰن شریف اور مخلص انسان تھے سب سے بڑی اور نکتہ کامل ایمان والی بات ان میں یہ تھی کہ ماں نے جس لڑکی کو ان کے لے پسند فرمایا انھوں نے بلا چوں چرا کئے نکاح کرلیا ، دیکھنے میں ماشاء اللہ مجیب الرحمٰن صاحب بھی خوبرو اور لحیم شحیم آدمی تھے اور دين سے وقفیت اور دنیا کی رعنائیوں سے بھی بے خبر نہیں بس انھیں ماں کا حكم ماننا تھا اس لیے گاؤں کی گوری کو اپنی شریک حیات بنانے میں کوئی قباحت نہیں سمجھی .
جب تک بانو آپا کی ساس یعنی مجيب الرحمن صاحب کی والدہ محترمہ بخیر حیات تھیں بانو آپا ساس کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اللہ میاں کی نیک بندی تھی ڈھیر ساری دعاؤں سے بیٹے اور بہو کو نواز تی ، ہر گھڑی ہر لمحہ زبان پر صبر اور شکر کے کلمات جاری و ساری رہتے بڑی بی بہت ہی دور اندیش حکمت والی ثابت ہوئی تبھی تو بیٹے کو سکھ اور چین والی زندگی مہیا کرگئی .
بس ایک لڑکی سیما جو بہت ہی مخالف اطوار کی مالک نہ کام کرتی اور نہ کسی سے سیدھے منہ بات کرتی اکلوتے پن کا فائده اٹھا کر ماں باپ سے سارے لاڈ پیار جتاتی رہتی .
اتوار کو جب کبھی حال احوال کی خبر لینے میں ان کے گھر چلی جاتی ، وہ میری بڑی عزت کرتی کیونکہ میں ایک پڑھی لکھی عورت جو تھی اور موجوده دور کے سارے نت نئے اصول و ضوابط اور خرافات سے بہت اچھی طرح واقف بھی تھی . لوگوں کے بدلتے نظریات اور رشتوں میں آنے والی خلش وغیره اور معاشره کی ترقی کے نام پر لاگو ہونے والے واہیات فیشن میں اچھی طرح جانتی تھی ، اپنے سارے احوال وه مجھ سے شئیر کرتی ساتھ میں دبے لفظوں میں یہ بھی بیان کرتی کہ سیما کو آپ ہی سمجھائیں وہ میری کہاں سنتی ہے .
اس وقت مجھے ان کی بے بسی پر بہت افسوس ہوتا اور سونچتی کہ ماں اور بیٹی میں کتنا فرق ہے ایک ان پڑھ ماں اور پڑھی لکھی بیٹی میں زمین و آسمان کا فرق پایا گیا . اس میں غلطی کس کی ہے کہ سیما کی صحیح تربیت نہیں ہوئی بانو آپاکی یا آج کی تعلیم کی جو سیما حاصل کررہی ہے .
میں نے سیما کو ایک دو مرتبہ سمجھایا بھی کہ وہ گھر کے کام کاج میں ماں کی مدد کرے وہ سن کر یہی کہنے لگی آنٹی کام ہوتا ہی کتنا ہے جو میں امی کی مدد کروں وہ تو بہت سلو کرتی ہیں اور ویسے مجھے پڑھائی کرنی ہوتی ہے یہ کام وام مجھ سے نہیں ہوگا وہ شروع سے اسی فیلڈ میں رہ کر آئی ہیں اس لے انہیں کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی بلکہ مزه آتا ہے . اس طرح کی گفتگو سے میرے اندر ایک نفرت کا جذبہ پیدا ہوتا لیکن میں خاموش ہو جاتی اس لڑکی کے منہ لگنے سے بہتر یہی ہے کہ خاموشی اختیار کر لی جائے
با نو آپا بھی شائد سیما کی زبان درازی سے ڈر کر چپ رہتی میں سونچتی مجیب الرحمٰن صاحب بھی کبھی کبھار بیٹی کی خبر گیری کیوں نہیں کر لیتے کیونکہ باپ کا ڈر بھی بچیوں پر قائم رہنا لازمی ہے .
صبح فجر کی نماز ادا کرتی ہوئی وہ اپنے روز مرہ کے معمولات میں مصروف ہو جاتی جھاڑو ، برتن ، کپڑے دھونا پھر پکوان اس کے بعد سارے گھر کی صفائی . ، نمازوں کی پابند تلاوت قرآن کریم بھی کر لیتی ، ادھر
میں نے متعدد جگہ ملازمت کے لئے درخواستیں ڈال رکھی تھی کیونکہ میرے شوہر کی کمائی زیادہ نہیں تھی اور ویسےمجھے ایک لڑکا اور ایک لڑکی ، دونوں کو اچھی تعلیم ہی نہیں برایٹ فیوچر فراہم کرنا میرا مقصد تھا . اب چھوٹی نوکری میں یہ سارے سپنے کہاں پورے ہو پاتے لہذا پڑھائی کس دن کام آئے گی یہی سب سوچ کر میں نے بھی جاب کے لئے اپلائ کر رکھا تھا .
اشہر جو میرے شوہر تھے ذرا طبیعت کے تیز لیکن بہت سے اچھی عادتوں کے مالک تھے اس لیے بھی شائد ہم ماں بچے ہر وقت خود کو پرفیکٹ کرنے میں لگے رہتے ورنہ سب کو باتیں سننی پڑتی ، اشہر کے آفس سے واپسی تک ہم تینوں مل کر ہر کام کو مکمل کرلیتے تاکہ انھیں چڑچڑا ہٹ نہ ہو اور سارا آفس کا فر سٹیشن ہم پر نہ نکال لیں ؛
میرے بچے کلاس میں اول درجہ کی کامیابی حاصل کرتے ہیں مگر کبھی سیما کی طرح خود کو پر اوڈ فیل نہیں کرتے ، حالانکہ میں نے انھیں کبھی کوئی ایسی تربیت بھی نہیں دی جس سے وہ یہ سب کام انجام دینے لگے ہوں
اور نہ ہی اشہر کو اتنی فرصت کہ وہ بچوں کو بیٹھا کر دو چار نصیحت آموز کہانیاں ہی سنادیا کریں ہاں ان سے کبھی خوشگوار موڈ میں باتیں ضرور کرلیتے اور فوری طور پر دو چار حکم صادر کرکے سوجاتے اسی میں بچے بھی خوش ہو جاتے . ا شہر کی گھر میں موجودگی ہی ایک معنوں میں بچوں کی تربیت سمجھی جاسکتی ہے .
آخر ایک دن وہ حسين گھڑی آگئی کہ مجھے جاب کا لیٹر موصول ہوگیا گھر میں سب خوش تھے بشمول اشہر کے ؛ چلو کچھ ہاتھ کی تنگی دور ہو جائے گی اور سارے اخراجات بھی پورے ہو جائیں گے ہم سب نے الله کا شکر ادا کیا اور میں بھی خود کو اور زیادہ چست و تندرست بنانے کے منصوبے ڈالنے لگی آخر کو جاب اور گھر دونوں کا کام جو کرنا تھا مجھے .
آہستہ آہستہ سے گھر میں آرام و آسائش کا سامان آنے لگا ہمیں بھی سکون اور خوشی و مسرت اور اچھے دنوں کے سپنے پورے ہوتے دکھا ئی دینے لگے .
پھر ایک دن بانو آپا ہمارے ہاں آئیں ساتھ میں سیما بھی تھی . میں دونوں ماں بیٹی کو بیٹھا کر شربت بنانے لگی " آنٹی بہت بہت مبارک آپ کو جاب لگ گئ ہے " سیما کہنے لگی . شکریہ سیما میں نے رسماً جواب دیا . يو آر ٹو لیٹ کہہ کر میں نے مسکراتے ہوئے شائستگی سے جواب دیا ! اگر امی بھی پڑھی لکھی ہوتی تو انھیں بھی کوئی نہ کوئی جاب ضرور مل ہی جاتی " ہے نا آنٹی ؟ وہ مجھ سے سوال کرنے لگی .
میں نے مسکراتے ہوئے بانو آپا کو دیکھا انکی آنکھوں میں آج پہلی بار ندامت اور رسوائی کے آنسو میں نے دیکھے میں نے فوراً جواب دیا آپ کی امی کو جاب کرنے کی کیا ضرورت ہے وہ تو گھر والوں کو ہر طرح کا سکھ اور آرام دے رہی ہیں ، پیسوں کی بچت ہی بچت اور کیا ؟ ٹائم پر ہر چیز حاضر خدمت ہے آپ کے اور مجیب بھائی کے ! وہ ڈبل جاب کرنے کے برابر کام کررہی ہیں .
ایک لحاظ سے آپ شائد ٹھیک بھی کہہ رہی ہو سیما اگر بانو آپا ایمپلائ ہوتی تو ٹھاٹ سے رہتی سب ان کے آگے پیچھے خدمت گزار بن کر رہ جاتے ہے ناں ؟
میری بات سن کر سیما کو جیسے شاک لگ گیا یا سانپ سونگھ گیا وہ اٹھ کر جانے لگی ارے شربت تو پیتی جاؤ ، وه کھڑے کھڑے شربت کو تیزی سے حلق میں اتارنے لگی ، اور گھر کا راستہ ناپ لیا ، شائد وہ ناراض ہوگئی میری باتوں سے میں نے بانو آپا کو اداس لہجے میں کہا. وہ چپ چاپ شربت پی کر جانے لگی .
عرشی ایک بات بتاؤ کیا پڑھی لکھی عورت کو ہی شوہر اور بچے عزت اور وقار کی نظر سے دیکھتے ہیں سماج میں اچھا مقام حاصل ہوتا ہے ؟ ورنہ اسکی کوئی قدر نہیں ہوتی ؟ اک لمحہ کو وہ رک کر مجھ سے پوچھنے لگی .
ارے ایسا کس نے کہا آپ کو آپ تو ماشاء اللہ ایک پڑھی لکھی عورت سے زیادہ شعور رکھتی ہیں آپ بہت سلیقہ مند ہیں. میں نے ان کو پورےاعتماد کے ساتھ کہا ، نہیں عرشی تم مجھے جھوٹی تسلی دے رہی ہو اچھا ایک بات بتاؤ اگر آپ کے بچے انصر اور عروسہ نے کبھی اشہر بھائی کے سامنے آپ سے بد تمیزی کی اس وقت ان کا کیا ردعل ہوگا ؟وه تو بچوں کو بہت ڈانٹتے ہیں ماں سے اس طرح بات نہیں کرتے کہتے ، کیوں ؟ بس وہ بچوں کی تربیت میں اس طرح کہہ دیتے ہیں اور کیا. کیا آپ کی انکی نظروں میں کوئی اہمیت نہیں ؟ کیوں نہیں ، ہر رشتہ اسکی اہمیت برابر رکھتا ہے بانو آپا میں نے ہنس کر کہا ، ہم ایک دوسرے کو مضبوط رشتوں میں جوڑ کر رکھنا چاہتے ہیں تو یہ بھی جتانا ضروری ہے کہ وہ ہمارے لئے کتنے اہم ہیں تب ہی خلوص اور محبت سچائی اور رشتوں کی اہمیت جیسے اخلاقی اقدار ایک دوسرے میں اجاگر ہو پائیں گے اور بڑوں کے ذریعہ سے ہی یہ سب عادتیں بچوں میں منتقل ہوتی ہیں.
آپ بیٹھیے تو سہی ! نہیں پھر آؤنگی وہ چلی گئی .
اس رات میں نے بانو آپا کے بارے میں ہی سونچا ، مجھے شک ہونے لگا کہ کہیں مجیب بھائی کا رویہ ان کے تئیں کچھ ٹھیک تو نہیں رہتا ، شائد یہی وجہ ہوگی جو سیما بھی اس طرح کا برتاؤ کرتی ہے . اور آج بانو آپا نے بھی اشہر کے تعلق سے ہی سوال کیا
وقت کب کس کا انتظار کرتا ہے ہم سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہوگئے کبھی کبھار سلام علیک ہو جاتا اڑوس پڑوس سے میرا بس .
اشہر اس وقت گھر پر موجود تھے بانو آپا دوڑتی ہوئی آئی اور روتے ہوئے کہنے لگی کہ شوہر کو سینے میں شدید درد ہو رہا ہے ، میں اور اشہر دونوں بانو آپا کے ہمراہ گئے مجیب بھائی واقعی درد سے کراه رہے تھے . اسپتال منتقل کرنے کے لئے ا شہر نے گاڑی نکالی اور سب نے سہارا دے کر انھیں گاڑی میں لیٹا دیا
راستے میں میں بانو آپا کو چپ کرانے لگی ، وه زار و قطار روے جارہی تھی . مجیب الرحمٰن صاحب نے بیوی کو روتے ہوئے دیکھا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر کراہتے ہوئے کہنے لگے بانو ! میں نے ساری زندگی تمھارے ساتھ ناانصافی کی مجھے معاف کردو وہ اور رونے لگی ، ہاں سچ مجھے معاف کردو میری اب آخری سانسیں چل رہی ہیں میرے گنا ہوں کی تلافی ضروری ہے بانو ! میں نے تم پر بہت بڑا ظلم کیا ہے تمھیں وہ درجہ نہیں دیا جس کی تم حق دار ہو ، میرے ظلم اور گندے خیالات کی سزا تم نے ہنستے ہوئے سہہ لی ، تم ان پڑھ گنوار ہو یہ خیال دل میں رکھ کر تم سے ہمیشہ نفرت ہی کرتا رہا مگر تمھاری اعلیٰ ظرفی دیکھو کبھی میری برائی کسی کے سامنے بیان نہیں کی نہ بچی سے نہ اڑوس پڑوس سے ، میرے برتاؤ کی وجہ سے بچی سیما بھی تم سے ایسا ہی رویہ اختیار کرگئی شائد اسکا گنہگار بھی میں ہی ہوں غلط تربيت جو دیا ہوں . میں نے ماں کی بات مان تو لی مگر اس پر سچا عمل نہیں کرپایا میری خواہش تھی کہ ایک حسین پڑھی لکھی لڑکی میری شریک حیات بنے پر ماں نے تمھیں میرے لئے منتخب کیا ، بچپن میں ہی باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کی وجہ سے یتیمی کی زندگی گزاری تھی میں نے !ماں نے مجھے کبھی کسی چیز کی کوئی کمی محسوس نہیں ہونے دی یہی وہ احسان تھا شائد جو میں ماں کے خلاف نہ جاسکا۔ مگر میری ماں دیکھو میرے لئیے دوسری ماں کا انتظام کرگئی میں کتنا بد نصیب ہوں جو قدر نہ کر سکا کبھی زندگی میں تم نے مجھے تکلیف نہ پہنچائی ، ہر وقت میرا خیال رکھا یہ میری کم ظرفی جو تمھیں ہر پل کم نظری اور حقارت بھری نگاہوں سے دیکھتا رہا اور خود کو ہمیشہ ایک انتہائی قابل اور ماڈل انسان سمجھ کر خدمت لیتا رہا ، تمھیں اپنے پہلو میں بیٹھا کر کبھی دوچار پیار محبت کی باتیں نہیں کی ، کبھی تمھاری پسند نہ پسند معلوم نہیں کی اور تو اور کبھی باہر سیر و تفریح کو تک لے کر نہیں گیا ! وہ رونے لگے ،
اب تو بہت دیر ہوگئی بانو میری سزا تو اللہ نے شائد مقرر کردی ہوگی مگر حقوق العباد کا تقاضہ ہے کہ تم مجھے دل سے معاف کردو اور دعا کرو کہ خالق حقیقی بھی مجھے آخرت میں سرخرو کردے . اور نہ جانے کیا کیا کہے جارہے تھے مجیب الرحمٰن پر میرے کانوں میں جیسے کسی نے سیسہ پگھلا کر انڈیل دیا ہو ایسامحسوس ہونے لگا .
میں نے بانو آپا کی طرف حمایت و آس بھری نظروں سے دیکھا ، وہ شوہر کے کانپتے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے رورہی تھی میں آہستگی سے بانو آپا کے کاندھوں پر اپنا ہاتھ رکھا وه چونک کر میری طرف دیکھنے لگی ، پھر مجیب الرحمٰن سے کہنے لگی آپ نے آج میری ساری زندگی کی کمائی ہوئی نیکیاں چھین لی میری زندگی اور آخرت کا سرمایہ میری پونجی آپ نے یہ باتیں کرکے اکارت کردی ، آپ نے ایسا کیوں کیا وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی . میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا ایک طرف نادم شوہر تو دوسری طرف و فا شعار بیوی واہ تری قدرت میرے مولا . بانو تم نے مجھے جواب نہیں دیا کافی دیر ہونے پر مجیب بھائی نے دوبارہ سوال کیا ، وہ اپنے ہاتھوں میں شوہر کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی .
میں نے آہستہ سے بانو آپا کے کاندھے کو جنبش دی !اللہ ! .. یہ کیا ہوگیا وه میرے پہلو میں ڈھلک گئی آپا میں نے زور کی چیخ ماری .... اشہر نے زور کا بریک لگایا کیا ہوا دیکھئے بانو آپا کچھ بولتی نہیں وہ گاڑی کو تیز رفتار سے دوڑا کر دواخانے کے اندر لے گئے
دونوں کو ای ۔ سی ۔ یو میں لیجایا گیا ؛ مگر افسوس مجیب الرحمٰن بھائی کو آپریشن تھیٹر میں شفٹ کردیا گیا کیونکہ دل کا پہلا دورہ تھا اور بانو آپا اپنے معبود حقیقی کی طرف رخت سفر باندھ چکی تھی . ان کا ہارٹ فیل ہوگیا تھا بانو آپا آپ کی حرمت کو سلام .
مجيب بھائی کا اصل روپ کچھ اور تھا پر کسی نے دیکھا نہیں سوائے بانو آپا اور سیما کے، آج دنیا میں ایسے کئی افراد ہمیں نظر آتے ہیں جو دوہرا روپ لیے سماج میں بہروپیہ کے نام سے موجود ہیں بس ضرورت اس بات کی ہے کہ انھیں ہم صحیح طور پر پہچان لیں اور محتاط رہیں کیونکہ جب تک کسی کی حقیقت سے آگاہی نہ ہو جا ئے کسی کے تعلق سے مثبت یا منفی رائے دینا خود کو گناہ میں مبتلا کر نا ہوگا۔
بس ایک ہی مثبت نظریہ ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی خلقت ہمارے لئے ایک آزمائش ہے ، اورآزمائش کی تحقیق نہیں ہوتی بلکہ تبعیت و تقلید ہوتی ہے اور الله تعالٰی کی عطا کردہ نعمتیں ہمارے لیے شکر گزاری اور آزمائش کے لیے ہوتیں ہیں جہاں تک ہوسکے ہم اس آزمائش میں کھرے اترے کھوٹے نہ رہ جائیں ...
فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ