اک سونچ
کہاں چلے گئے وہ دن رات سونچ کر رہ جاتی ہوں
ہر پل خوشیوں کے لمحات سونچ کر رہ جاتی ہوں
چاند کو تکتے تکتے گزرتی گرمیوں کی وہ راتیں
برگد کی چھاؤں میں دوپہر سونچ کر ره جاتی ہوں
اٹھ کر خوش ہونا سحر میں جلداور سب کو اٹھانا
بلا ناغہ پھر اداے تہجد ہونا سونچ کر رہ جاتی ہوں
مشین سینے آدھی رات تک ساتھ امی کا دیتے رہنا
عید کا لباس پہن کر خوش ہوناسونچ کر ره جاتی ہوں
کہاں سے لاؤں وہ خوشیاں دوباره وه لمحات پیارے
اب نہ امی ہے نہ ان کے کپڑے سونچ کر ره جاتی ہوں
یوں توڈھیر لگی کپڑوں کی گھر میں میرے بھی
پر خوشبو ان ہاتھوں کی نہیں سونچ کر ره جاتی ہوں
ماں باپ کا سایہ رہنا خدایا بوڑھی اولاد کے سرپر
امی ابو کیوں اللہ کو ہوئے پیارے سونچ کر رہ جاتی ہوں
نہ کرسکی خدمت تھی جب میری ضرورت انھیں
سعی کروں کر سکوں نہ کچھ سونج کر رہ جاتی ہوں
ان کے ہیں پیارے جو کر جاؤ دل جان سے خدمت ساری
اک یہی راستہ میرے خدا نے بتایا سونچ کر کر جاتی ہوں
فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ