اتالیق

آج چوتھا دن  ہے ، اور آج بھی کالج کا مین گیٹ اس کے لئے بند کردیا گیا ، وہ چوکیدار سے عاجزی کررہی تھی اور منت سماجت کرنےلگی مگر پھر بھی نا امیدی اسے ہاتھ لگ رہی تھی ، بابا آخر کیوں اس طرح کا رویہ ہمارے لیے یہ لوگ اختیار کرنے لگے ہیں ؟ وه ہرروز سوالات کرتی پھر بھی لا حاصل کوئی جواب اسے نہیں ملتا ، چوکیدار بابا بھی مسلمان ہی ہیں مگر وہ کالج اتھاریٹی سے بھلا کیسے الجھتے ، انھیں اگر نوکری سے نکال دیا جائے گا تو ان کا گھر بھوکے مرے گا، وه سب تماشہ دیکھ رہے تھے مگر چپ کی گولی منہ میں لیے گیٹ پر کھڑے رہتے 
 ساری لڑکیاں کچھ وقت باہر کھڑی رہتی اور مایوس ہوکر گھر لوٹ جاتیں مگر یہ کالج کا وقت پورا ہونے تک وہیں رہتی 
 ہمیں اس ملک میں آزادی سے جینے اور تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے . ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے کا قانون کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے ، یہاں پر کئی مذاہب کے لوگ بستے ہیں سب کی اپنی الگ ایک تہذیب ہے اور سب کا الگ مذہب ، وه آج پھر آ کر چوکیدار بابا کو لکچر دینے لگی .
 آپ بھی انھیں لوگوں میں شامل ہيں جو ہمارے مذہب کو ہم سے چھیننا چاه رہے ہیں بولیے بابا ؟
نہیں نہیں بیٹی ! ایسا مت کہو یہ الزام مجھے مت دینا میں مجبور بے بس اور لاچار ہوں مجھے میری روزی روٹی کی فکر ہے ورنہ میں کبھی کہ اس نوکری کو خدا حافظ کہہ دیتا آج میرا ضمیر مجھے ہی ملامت کررہا ہے افسوس کہ میں ایک مسلمان ہو کر یہاں حجاب کی مخالف سمت کھڑا ہوا ہوں اللہ مجھے معاف کرے مگر دل سے ان لوگوں کے لئے بددعا نکلتی ہے جب مجھے وہ حکم دیتے ہیں کہ " اگر کوئی باحجاب لڑکی آئی ہے تو گیٹ بند کردینا اور برقعہ اتار کر اندر آنے کو کہنا ورنہ واپس لوٹا دینا .. "
منصور بابا کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ رومال سے اپنی آنکھیں صاف کرنے لگے .
آپ بھی دوسری لڑکیوں کی طرح کیوں چلی نہیں جاتی بیٹی ؟ وہ تبسم سے سوال کرنے لگے . مجھے ایسا لگتا ہے بابا کہ شائد الله تعالٰی کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکالے گا اور ہم بھی اعلی تعلیم حاصل کریں گے یہی آس اور امید لے کر آتی ہوں اور ہم اس جنگ میں فتح حاصل کریں گئے یہ حق اور باطل کے درمیان میں واقع ہوئی جنگ ہے جیت حق کو حاصل ہوگی انشاء اللہ تمھاری دلیری اور ہمت کو دیکھ کر مجھے بھی اب یقین ہوگیا ہے کہ الله تعالى ضرور کوئی نا کوئی راستہ نکالے گا وہ مسبب الاسباب ہے .
 اے کیا ہو رہا ہے یہاں کون ہے ؟ اے لڑکی یہاں کیا کررہی ہو؟ چلو جاؤ یہاں سے ورنہ پولیس کو کال کروں گا اور تم اس لڑکی سے کیا باتیں لگائے بیٹھے ہو کچھ کام وام نہیں ہے کیا چلو لاک ڈال کر دوسرا کام دیکھو ہاں وہ گارڈن میں پانی ڈالو جاؤ جاکرکالج کے پرنسپل نے آکر منصور بابا کو جھڑکنے والے انداز میں حکم صادر کیا .
سر پلیز مجھے اندر آنے کی اجازت دیں تبسم نے پرنسپل سے عاجزی کی ۔
تمھارا دماغ ٹھیک سے کام نہیں کررہا ہے شائد یہاں سے دفع ہو جاؤ ورنہ پولیس آکر لے جائے گی سمجھی؟
 تبسم  نڈھال قدم ڈالتی ہوئی گھر کی طرف لوٹ آئی
" کیا ہوا آج بھی کالج میں آنے کی اجازت نہیں ملی ؟" امی نے سوال کیا ، ہاں امی
وه اپنے کمرے کا رخ کرتی ہوئی کہنے لگی۔
مسلمانوں میں اضطراب و ہیجان کی کیفیت طاری ہے لیکن کوئی اس اہم مسلہ کا حل کیوں نہیں ڈھونڈتے وہ پلنگ پر لیٹی لیٹی اپنے خیالوں میں بہت دور جاچکی تھی ، آخر کو ہمارے دین سے ہمیں کیوں کر جدا کرسکتے ہیں کوئی ؟ یہاں پر غلط كون ہیں وہ یا ہم ؟ آج کالج انتظامیہ انھیں حجاب ، اسکارف پہننے میں روک نا حق بہ جانب سمجھ رہی ہے ، حجاب اسلامی شعار ہے عدالت بھی فیصلے جانبداری کے کر رہی ہے کل کو کسی اور رکن اسلام کی طرف اپنی عقابی نظریں ڈال کر ہمیں پریشان کریں گے . یا الله خیر کا معاملہ فرما بس ہر شر سے امت مسلمہ کی حفاظت فرما آمين .
دوسرے دن وہ تیار ہوکر کالج کو روانہ ہوگئی ، گیٹ بند ، اسلام عليكم منصور بابا ! کیا آج بھی آپکو وہی تاکید کی گئی ہے ؟ ہاں بیٹی بابا نے سلام کا جواب دیتے ہوئے اپنے سر کو مثبت انداز میں ہلاتے ہوئے کہا. اچھا وہ وہیں پر بیٹھ گئی ، اب یہاں بیٹھنے سے کیا حاصل ہوگا ؟جاؤ ، بیٹی گھر واپس لوٹ جاؤ ، ہاں ہاں کچھ دیر کالج کو دیکھ لوں پھر چلی جاؤں گی وہ مسکراتی ہوئی کہنے لگی . مگر اس کی مسکراہٹ کے پیچھے کرب و درد بلا کا چھپا ہوا تھا .
  ایک بات کہوں بیٹی ؟ ہاں بابا کہیے وہ تجسس سے ان کی طرف دیکھنے لگی " آپ کے والد مولانا احمد علی صاحب ہے نا ؟ " حلیمہ نسوان کے صدر صاحب ؟
ہاں بابا وه تشويش سے جواب دینے لگی ، میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی شائد اس سے آپ سب کو کچھ فائده حاصل ہو اور اللہ تعالی مجھ سے راضی بھی ہو جائے گا . وہ کیا ہے بولیے بابا ؟ تبسم نے بے چین ہوکر پوچھا !
کیوں نہ آپ کے ابو لڑکیوں کی عصری تعلیم کا انتظام بھی شروع کرلیں انٹر تک تو ممکن ہے الله نے چاہا تو ڈگری کالج کے لئے بھی پرمیشن لے آسکتے ہیں اب دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم بھی ہونگے نا ، ہاں بابا پانچویں جماعت تک تبسم نے خوشی سے کہا تو پھر سہولت اگر ہے اور اپنی قوم کو لے کر چلنا ہے تو راستہ بھلے ہی کھٹن ہو منزل بہت جلد حاصل ہوگی ،
اچھا میں ابو سے کہہ کر دیکھتی ہوں ! کہہ کر نہیں ضد کرنا اور میری اگر کہیں ضرورت پیش آجائے تو بتادینا .
 آج بڑی خوش نظر آرہی ہو کالج میں داخلہ مل گیا کیا ؟ امی نے اس کے شگفتہ چہرے کو پڑھتے ہوے سوال کر ڈالا ، امی آج ایک انکشاف ہوا ہے مجھے پہلے ابو سے بات کرنی ہے ، وہ بغیر برقعہ اتارے مدرسہ کا رخ کرنے لگی ، ذرا مجھے بھی تو بتاتی جاؤ امی پیچھے سے آواز دینے لگی مگر تبسم یہ جا وہ جا
اسلام عليكم ابو ! وه اپنے ابو کے مدرسہ کے صدر صاحب کے روم میں داخل ہوتی ہوئی کہنے لگی ، ارے آپ وعليكم السلام ! کیا ہوا کچھ نرمی آئی یا وہی سخت رویہ ہے کالج والوں کا ؟ نہیں بابا ان کے دل تو سخت ہوتے ہیں وہ کہاں بدلنے والے ہیں ، ہاں مولانا احمد علی صاحب نے فکر مند انداز سے جواب دیا ،
ابو میرے پاس ایک ایڈیا ہے ! اچھا جلدی بتادو وہ بیٹی کو مسکراکر دیکھنے لگے .
" ابو کیوں نہ ہم اسی مدرسہ کو آگے کی تعلیم کے لئے کشادہ کریں " اور حکومت سے پرمیشن لے کر انٹر کالج تک قائم کرلیں ؟ " تبسم نے اپنی بات کہہ کر مولانا کے چہرے کو تکنے لگی . مگر اس کے لئے تدریسی عملہ اور لیا بس سب کہاں سے انتظام ہوگا بیٹی ؟ اور اردو و انگلش میڈیم کے لئے الگ الگ  فیکلٹی مشکل ہے وہ سنجیدگی سے کہنے لگے .
کچھ مشکل نہیں ہے ابو آپ تمام احباب جو آپ کے خاص ہیں بات ان کے درمیان رکھیے انشاء اللہ ہمت کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور ملے گی .
سب سے پہلے پلان اس کے بعد عمل ابو پلیز پوچھ کر تو دیکھیں کمیٹی کے ممبران سے وہ مولانا کو منانے لگی 
اچھا اچھا ٹھیک ہے میں سب سے بات کرکے رائے مشوره کرکے کچھ حل ضرور نکالوں گا اب جاؤ گھر میں امی پرشان ہو رہی ہونگی ، جی ابو الله حافظ 
 آج بچی ہے چاری نہیں آئی شائد گھر والے بھی اجازت نہیں دیئے ہونگے منصور بابا نے تبسم کے بارے میں سونچا !
 پورا ایک ہفتہ بعد وہ کالج کا رخ کر رہی تھی دل میں جوش ولولہ آنکھوں میں کامیابی کی چمک اور قدموں میں جیت حاصل ہونے کی مضبوطی وہ بہت مطمئن نظر آرہی تھی ، دور سے ہی اسے آتے دیکھ کر منصور بابا نے بھانپ لیا کہ یہ ضرور کچھ ٹھان کر آئی ہے .
اسلام عليكم بابا ! وعيكم اسلام آج بہت دنوں بعد آئی ہو اور ویسے بھی آنے سے فائده کیا ہے ؟ وہ دو سوالات کرنے لگے .
مت پوچھیے ہم سے ہمارا حال لوگو
ہم تمھارے پرسان حال بن کر آئے ہیں
 بابا آپ کی تجویز کامیاب ہوگئی اب حلیمہ نسوان دینی و عصری تعلیم کا مرکز ، عصری علوم بھی انٹر تک پڑھائے جائیں گے .
سچ !ہاں بابا یہ دیکھئے ورقیہ یہی آپ کو دینے آئی ہوں وہ ہنستے ہوئے پامپلٹ بیگ سے نکالنے لگی .
 اور اللہ کا بڑا کرم ہوا کے سب کے تعاون سے میرے ابو نے یہ انتہائ مضبوط قدم اٹھایا ہے اور اب داخلے جاری ہیں ! اچھا اب میں چلتی ہوں !
 نہیں رکو باہر نکلنے والی طالبات کو یہ ورقیے تقسیم کرکے جانا ـ
اوکے وہ کچھ دیر وہیں کھڑی رہی اور کالج کا گیٹ کھلتے ہی ساری لڑکیوں کو پامپلیٹ دینے لگی نہ ہندو نہ مسلمان سب میں تقسیم کرنے لگی .
ارے یہ کیا مجھے تو یقین ہی نہیں ہو رہا ہے کہ غیر مسلم لڑکیاں بھی ہمارے کالج میں ایڈ مشین کے لئے آئین گیں ؟ مولانا تعجب کرنے لگے .
وه تبسم کی طرف حیران کن نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگے .ہاں ابو حجاب سب کی ضرورت ہے اور سب لڑکیوں کا حصار ہے اسلام کا جز ہے اور اسلام ساری انسانیت کے لئے راہ نجات ہے اور رہی بات غیر مسلم لڑکیوں کی تو وہ میری سہلیاں ہے جومیرے ساتھ پڑھنے کی ضد کررہی تھیں . دھیرے دھیرے یہ بات سب کو ذہن نشین ہو جائے گی کہ ہمارا دین آسانیاں پیدا کرنے والا مذہب ہے انشاء اللہ 
اللہ تعالیٰ ہم سب پر خیر و عافیت کا سایہ برقرار رکھے اور شر سے ہماری حفاظت فرمائے مولانا نے ہاتھ اٹھا کر دعاکی اور تبسم نے آمين کہہ دیا .
آج سماج میں ہر عورت کو حجاب کی ضرورت درپیش ہے اس بات کو جن والدین نے سمجھا انھوں نے اپنی بچیوں کو " اتالیق " کالج میں داخلہ دلوادیا . اس کالج کا ڈرس کوڈ برقعہ ہے اور غیر مسلم طالبات کے لئے صرف اسکارف .
 " اتالیق " کالج کا چرچہ ہر جگہ ہونے لگا اہل خیر حضرات نے آگے بڑھ کر خود سے جو بھی بن پڑا  امداد کے ذریعہ سے اس کالج کو قائم رکھنے میں تعاون کیاغریب اور پسماندہ طبقات کے طالبات کو آدھی فیس کی معافی رکھی گئی ، اور ہر ممکنہ طور پر ماحول کو مذہبی روایات سے پاک رکھا گیا کیونکہ یہ عصری تعلیم حاصل کرنے کا مرکز ہے یہاں دیگر مذاہب کے طالبات بھی آتے ہیں ہم اپنے مذہب کے حدود میں رہہ کر دوسروں کے لئے مشعل راہ بننا ہے . دینی مدرسہ کا انتظامیہ پوری طرح سے الگ قائم کیا گیا اور عصری تعلیم کا انتظام علحیدہ سے رکھا گیا۔ بے روزگاری کا کچھ حد تک خاتمہ ہونے لگا . اور اپنی قوم کے بچوں کو روز گار کے مواقع فراہم ہونے لگے .نظم و نسق کی پابندی اور بہتر تعلیم نظام صاف ستھرا ماحول پاک صاف اور مثبت ذہنیت کے لوگ اس عمارت کی بنیاد کو بلندی کی طرف لے جانے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جارہے ہیں بس اور کیا چاہیے اندھے کو دو آنکھ !
 اگر ارادے مصمم ہو تو کوئی راہ کٹھن و ناممکن نہیں
جہاں ضمیر وکالت سچ کی کرے وہاں کوئی دستور ممکنہ نہیں .
 اپنی ذمہ داریوں کو خود ہی اٹھانا چاہیے سمجھنا چاہیئے اور ایک خوشحال پرسکون ماحول کے شوونما میں ہم اپنا اہم کردار نبھانا چاہیے ، اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو پتہ چلے گا عربوں کی جہالت کا وہی منظر دوہرا یا جارہا ہے بس فرق اتنا ہے کہ اس دور کے مسلمان سچے مومن تھے اور اب کہ ...
ارے بابا آپ یہاں وہ منصور بابا کو آفس روم سے نکلتے ہوئے دیکھ کر پوچھنے لگی ہاں بیٹی اب میں بھی اسی کالج میں نوکری کرنے والا ہوں اور میری فيملی کو بھی یہیں رہنے کا انتظام ہوچکا ہے دیکھا اللہ نے کتنا اچھا صلہ عطا کیا صرف میری ایک چھوٹی سی نیکی کا ، ہاں بابا اللہ کا فرمان ہے کہ تم میرے بندوں کو آسانیاں پیدا کرو میں تمہارے لیے آسانیاں پیدا کرونگا .
تو کرلے لاکھ حربے استعمال اے باطل
آخر میں جیت تو تنہاحق کی ہی ہوگی 
    
  فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ
 روزنامہ منصف مورخہ 11 / مئی 2022 .. گھر آنگن


Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]