اسلام علیکم میڈیم !ارے آئیے سلو خالہ اندر آجائیے ، جی شکریہ ہاں ہاں یہاں بیھٹے !جی شکریہ میڈیم
کہیے سلو خالہ کیا لیں گئیں آپ ؟ نہیں پہلے آپ میری ساری تصاویر دیکھئے پھر پینا کھانا سب کرلونگی ، نہیں نہیں سلو خالہ آپ ذرا کچھ کھا پی لیں کیونکہ کافی دھوپ میں آئی ہیں اور وہ بھی پیدل چلکر شائد ؟ جی میڈیم آپ کو اللہ اچھا رکھے بڑا خیال کرتی ہیں آپ میرا سلو خالہ دعا دینے لگیں . میں نے آپ کو کئی بار کہا کہ آپ آٹو میں آجائیے میں کرایہ ادا کردونگی مگر آپ ہیں کہ پیدل چلنے کی ضد میں دھوپ چھاؤں کو دیکھے بغیر نکل پڑتیں، حمیره میڈیم یہ تو آپ کا بڑکپن ہے ورنہ آج کے زمانے میں کون ہم جیسے غریبوں کی پرواہ کرتا ہے اور تو اور مشاطہ ہونا تو مصیبت ہے کہ ناحق کہ بدنامی کا ٹوکرا سر پر سجانا جیسا ہے ، سب یہی کہتے ہیں کہ چند گنے چنے تصاویر رکھ کر لوگوں کو لوٹتی ہیں یہ مشاطيں ، گھر گھر جاکر کھانا سیکھ لیا ہے انھوں نے وغیره وغيره .
ایسی بات نہیں سلو خالہ رشتے تو آسمان پر ہی طے ہو جاتے ہیں آپ لوگ تو صرف ذریعہ یعنی اسباب ہیں ، قسمت کا جوڑا جہاں ہو وہیں ہوگا نا ؟ حميره میڈیم نے دھیرے سے سمجھاتے ہوئے سلوخا لہ کو ناشتہ نکالنے لگیں .
ہاں اب بتائیے آپ کونسی فوٹوز لائی ہیں ؟ ، حمیرہ اکبر نے شائستگی سے سلمی خالہ کو پوچھا ! ہاں یہ دیکھے وہ اپنے بوسیده بیاگ سے ڈھیر ساری تصویریں نکال کر حمیره اکبر کے سامنے رکھنے لگیں .
اس میں جو تصویر آپ کو بھائے مجھے دیجیے میں اس لڑکے کا سارا شجره بتادو نگی سلمی خالہ اطمينان سے کہنے لگیں . جی خالہ میں دیکھ رہی ہوں . حمیره اکبر ساری تصاویر کا بغور جائزہ لینے لگیں .
اب ہم جیسی غریب مشاطہ کو کون اہمیت دیگا میڈیم آج کا دور تو موبائل فون کا ہے سب واٹس اپ میں ڈاؤنلوڈ کرلینا ہے اور پسند نا پسند بتا دینا ہے ، یہ فون کیا آیا کی ہماری تو روزی روٹی ہی ماری گئی . فون پے پر رجسٹریشن فیس ڈالو اور وہاں سے فوٹوں کی بھرمار، ہاں ! آپ سچ کہہ رہی ہیں خالہ حمیرہ اکبر بھی ان کی تائید کرنے لگیں .
یہ فوٹو مجھے پسند آئی خالہ حميره اکبر نے ایک نہایت سادہ لباس زیب تن کئے لڑکے کی تصویر دیکھاتے ہوئے سلمی خالہ کی طرف ہاتھ بڑھا دیا .
یہ .. یہ لڑکا آپ کی لڑکی کے لائق نہیں میڈیم ! کیوں ؟ حمیرہ اکبر نے تعجب سے پوچھا؛ آپ اس لڑکے کا بائیو ڈاٹا بتائیے میں دیکھ لونگی ! جی ابھی نکالتی ہوں یہ لیجے وه ایک کاغذ پر درج ساری تفصیلات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہنے لگیں .
حمیرہ اکبر نے فوٹو اور بائیوڈاٹا دونوں ساتھ میں رکھ لیے اور شوہر سے رائے مشوره کرکے اطلاع دینے کا کہہ کر سلو خالہ کو وداع کردیا
اکبر صاحب کو شہر کے بیچوں بیچ کپڑوں کی دکان تھی ، نیک ایمان دار اور صوم و صلوٰۃ کے پابند شخصیت کے مالک تھے اور بیوی حمیره بھی انکی برابر کی شریک حیات تھیں ہر وقت ہر کسی کی مدد کرنے کو تیار رہتی.
ایک اکلوتی اولاد وہ بھی لڑکی صفورا جوکہ ماں باپ کی تربیت پر پوری طرح سے اترتی تھی یک دم سادگی پسند اور پڑھنے میں بہت ہوشیار گھر آئے مہمان کی ہر طرح سے خاطر مدارت کرنا اس گھر کے مکینوں کا اولین فرض تھا یہی ادا شائد قدرت کو بھاگی جو اس گھر میں بے حساب دولت اور صحت و خوشحالی نازل ہوتی رہتی ..
ہر وقت خیر خیرات اور صدقات وزکوٰۃ کو ترجیح دینے والے ، اور اپنے گھر کو خدا کی رضا مندی سے بسنے والے گھر الله کی حفظ و امان میں قائم رہتے ہیں . . آج دنیا جدت پسندی اور ترقی کے نام نہاد آزاد خیالات کو لے کر بتاہی کی دوڑ میں شامل ہوتی چلی جارہی ہے اور امیر گھرانے پیسے کے نشے میں ایمان مذہب اور اخلاق سب کو نظر انداز کرتے ہوئے مغربی طرز زندگی کو زیاده اہمیت دینے لگے اور فحش اور بدکاریوں کو ٹکنا لوجی اور ترقی کے نا م کا بیاچ لگا کرنسلوں کو معدوم کرتے جارہے ہیں .
ایسے بھیانک دور میں اگر کہیں ہمیں ایسے دیندار گھرانے نظر آ جائیں گے تو یہ ہماری نظروں کا صدقہ سمجھ لینا چاہیے اور ان جیسوں سے اللہ تعالٰی ابھی دنیا میں خیر کا معاملہ جوڑے ہوئے ہے جان لینا چاہیے
اکبر صاحب کے سامنے حميره اکبر نے مدثر کی تصویر اور بائیوڈیٹا رکھ دیئے؛ یہ کیا ہے ؟ اکبر صاحب نے لا علمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا اپنی صفورا کے لئے آج سلمی خالہ سے لی ہے ؛ اچھا دیکھاؤ تو سہی اکبر صاحب نے تصویر کو بغور دیکھا پھر بائیو ڈیٹا لے کر پڑھنے لگے .اس کے بعد بیوی کو مسکرا کر دیکھا ، تو آپ نے صفورا سے بات کرلی ہے ؟ جی نہیں پہلے آپ کی رضا مندی ضروری ہے نا اس کے بعد ، ... اچھا خیال ہے آپ کا ہم آپ کی پسند کی داد دیتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہماری بچی بھی ہمارے اس فیصلے سے مطمئن ہوگی .. جی ، ٹھیک ہے کل بات کر لینا اس کے بعد دیکھیں گے . ہاں میں کل صفورا سے بات کرلونگی حمیره اکبر نے شوہر کو شائستگی سے جواب دیا .
امی آپ آئیے صفورا کمرے میں بیٹھی لکھنے میں مصروف تھی . کیا لکھ رہی ہو بیٹی جی کچھ نہیں وہ نوٹس بنارہی تھی ، وہ سب بند کرکے ماں کی طرف متوجہ ہوگئی آپ بتائیے ! یہ تصویر اور بایوڈیٹا ہے اسے دیکھ لو بیٹی اگر پسند آجائے تو کہہ دینا اور پسند نہ بھی آئے تو بلا جھجک کہہ دینا ! جی ! مجھے اور آپ کے ابو کو پسند ہے . تو پھر امی میری پسند بھی آپ لوگوں سے الگ تھوڑی ہے ؟ آپ میرے والدین ہیں میرے مستقبل کے بارے اور زندگی کے بارے اللہ تعالٰی کے بعد بہتر سونچنے والے آپ لوگ ہی ہیں نا؟ ہاں بیٹی پھر بھی ... نہیں امی آپ فیصلہ مجھ پر چھوڑ کر مجھے شرمنده کررہے ہیں اور آپ لوگوں کی تربیت کی توہین بھی . ارے ایسی بات نہیں ہے صفورا آپ کا بھی حق بنتا ہے کہ زندگی کے اس اہم فیصلے میں پورا پورا کہنے کا اللہ تعالی نے خود یہ اختیار تمھیں دیا ہے تم قابل شعور ہو اور بھلے ، برے کے فرق کو سمجھتی ہو اس لئے اپنی آگے کی زندگی کا فیصلہ تم خود کر و کوئی جلدی بازی کا کام نہیں آپ اطمينان سے جواب دینا بیٹی
جی امی ! وہ شرماتی ہوئی اپنے چہرے کا رخ دوسری جانب کرنے لگی .
امی مجھے یہ رشتہ منظور ہے ! صفورا نے دوسرے ہی دن اپنا فیصلہ سنادیا ، ارے اتنی جلدی آپ نے فیصلہ لے لیا حمیره اکبر نے مسکراتے ہوئے بیٹی کو دیکھا ـ امی فیصلہ تو میں نے اسی وقت لیا تھا جب آپ اور ابو دونوں کی پسند دیدگی بتائ تھی . اچھا تو پھر یہ بھی بتادو کہ آپ کو اس لڑکے میں کیا اچھا لگا ؟ وہ شرارت سے پوچھنے لگی .
امی مدثر کے والدین کوویڈ میں انتقال کرگئے ، مدثر گھر کے بڑے بیٹے ہیں ان پر دو بھائی اور دو بہنوں کی ذمہ داری ہے گھر کو سنبھالنے کے لئے شادی کا ارادہ کیا تاکہ چھوٹے بہن بھائیوں کو ماں باپ کی کمی پوری کرسکے . اور بزنس بھی سارے انھیں کو سنبهال نا ہے .
مجھے ان کا ساتھ دینا ایک نعمت سمجھ میں آرہا ہے ان کی فیملی کو ہماری ضرورت ہے امی فنانشیل اور فزیکل دونوں طرح کی . ہاں بیٹی اس لیے ہمیں یہ رشتہ پسند آیا اور آپ کو ؟ مجھے بھی وہ اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھتی ہوئی وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی ، ارے صفورا سنبھل کر گر جاؤ گی حمیره اکبر ہنسنے لگیں .
جو گرتے ہو وں کو تمام لیتے ہیں
خدا انہیں گرنے کہاں دیتا ہے
فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ