غزل

عشق کر کے دل بہکتا ہے

مست ہر دن وہ چہکتا ہے

ختم نہ ہو جو چمٹتا ہے

زخم دل جب بس سلگتا ہے

نگاہ سے اس کی جھلکتا ہے

کرن بن ہم پر دمکتا ہے

پاس آنے سے وہ کھٹکتا ہے

ناز سے ہم پہ برستا ہے

تلک اس کا جب چمکتا ہے

ادا سے وہ تو مٹکتا ہے

ہائے دل یہ جو تر ستا ہے

شوق سےجب وہ بگڑتا ہے

ورنہ یہ دل جو بچھڑتا ہے

خود سے ہی وہ جھگڑتا ہے

 فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ



Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]