دعوت

دعوت کے مزے لے کر آپ تو سوتے رہے
ہم یہاں خالی برتنوں کی آوازیں سنتے رہے

بھوکے پیٹ رات گزاری تارے گنتے گنتے
خیال بھی نہ کیا ہم آپ کے پڑوس میں رہے

کبھی بریانی تو ، کبھی چكن اور پراٹھا
 ساتھ میں خوشبو میٹھے کی سونگتے رہے

ہر لقمہ پر داد و تحسین باورچی کو اور
ہوکر خوب سیر لینا ڈکارآپکا سنتے رہے

 رات ہڈیوں کی کھوج میں بلیوں کی میاؤں 
اور صبح صادق کتوں کا بھونکنا سنتے رہے

گلی کے نکڑ پر کھڑے صادق چاچا ہر کسی سے
بیکار دعوت تھی رات کی کہتے ہنستے رہے

مزه تو جب آتا کوئی بن بلائے مہمان آجاتے
سمجھ کر برہانی ، کھیر کو ملا کر کھاتے رہے

دعوت ہویا نہ ہو کوئی کیا فرق پڑھتا ہے
 بیٹھو کھانے تو پڑوس کا خیال کرتے رہے

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]