بے وفا محبت
رندگی کبھی کسی کے لئے کہاں رکتی ہے . نور بیگم اور دو حقیقی بیٹیاں ساتھ میں دو سوتیلے بیٹے ، انور میاں کی موت کو بھلا نے کی کوشش کررہے تھے . طاہر اور یاسر ماں بہنوں کو ہر طرح کی آرامی دینے کی سعی میں لگے رہتے ، لاڈلی گھر کا سارا کام کاج کرتی اور اسکول بھی پابندی سے جاتی ، پیاری ماں کے ساتھ رہتی اور دن بھر ٹی وی میں خود کو مگن رکھتی
ماں کے عدت کے دن پورے ہوئے اور پیاری بھی اسکول جانے لگی . حنا بھی اس کے ساتھ ساتھ رہتی پیاری ظاہری طور پر خوش نظر آتی لیکن باطن میں وہ اداس رہتی ، کسی سے اپنے دکھ کو بیان نہ کرتی ، کیونکہ اسے ڈر سا تھا کہ کوئی اسے سمجھے گا بھی یا نہیں ، چنچل اور شوخ لڑکی کی طرح اس نے سب میں پہچان بنائی تھی اب اگر کچھ حساسیت کا وہ مظاہرہ کرتی تو کون یقین کرتا اس لئے وہ خود ہی میں گھٹ گھٹ کر جی رہی تھی ، اسے اپنے والد کی موت کا بہت بڑا اثر ہوا پر سب کے سامنے لاپرواہ کی طرح برتاؤ کرتی اور ماں سے ہر بار کچھ نہ کچھ سنتی رہتی
دسویں جماعت میں آگئی تھی ، مگر ذہن اچھا ہونے کے باوجود پڑھائی میں دلچسپی کہاں رکھتی ، ماں نے گھر کے قريب ٹیوشن رکھا، شائد کچھ پڑھ لکھ کر اچھے نشانات حاصل کرلے گی تو کہیں اچھی جگہ بیاہ کردونگی. حنا بھی وہیں ٹیوشن لے رہی تھی دونوں ساتھ میں جاتے ، وہاں گلی کے نکڑ پر جو بنیے کی دوکان ہے وہاں وہی کھڑا نظر آتا . اور ساتھ میں دوست بھی ہوتے ، پیاری کو اب اس سے کوئی لگاؤ نہیں رہا وہ تو بدل چکی تھی ،
کہتے ہیں نا کہ محبت ختم نہیں ہوتی صرف دبی رہتی ذرا سی چنگاری سلگی پھر دوبارہ آگ بھڑک اٹھی ، یہی حال پیاری کا تھا . وہ لاکھ کوشش کرتی کہ اسکا خیال دل میں نہ آئے ، پر وہ ظالم نظروں کے سامنے آ کر اس کے دل کو بار بار سونچنے پر مجبور کر رہا ہے ، وہ محبت نہیں کرنا چاه رہی ہے وہ تو اپنی زندگی کو بدلنا شروع کرے گی ، اسے اچھا پڑھ لکھ کر کچھ حاصل کرنا ہے ، وہ ماں کو خوش دیکھنا چاه رہی ہے ، مگر اس کے سارے ارادوں پر وہ سامنے آکر پانی پھیر رہا ہے .
...... باقی آئندہ
***********************************