نظم




ذرا سا تم جو مغموم ہونے لگے

راز ہم کو سب معلوم ہونے لگے

قسم سے ہم تو نجوم ہونے لگے

غیب سے جب سب علوم ہونے لگے

بات ہر اک کی معصوم ہونے لگے

 پاک جب سے جو مفہوم ہونے لگے
 
  ارض پر اس کے جروم ہونے لگے
  
 کتب سے جب جو محروم ہونے لگے
 فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ
 







Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]