غزل

راس جنھیں آتی ہے محبت بڑے نصیب والے

 اسی کا ساتھ وہی ہم سفر بڑے نصیب والے

مل جاتی جو لیلی بھی قیس کی چاہت سے

یاد کرتی دنیا انھیں بھی بڑے نصیب والے

تیرے حکم سے تجھ سے گفت و شنید يارب

 طور نے دیکھا کہاموسی بڑے نصیب والے

ماں نے پلو سے اپنے منہ جو پونچا میرا

دیکھ کر بولا دوست یا ر بڑے نصیب والے

بیٹی تو روٹی ہے اسے نہ کہو منحوس

جو ہو پیدا تمھارے گھر بڑے نصیب والے

کسی بے بس کی مدد کرلینا آتے جاتےتبسم

اپنے ہاتھ لے کسی کی دعا بڑے نصیب والے


Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]