غزل ١٢نمبر

خود ہی سےسوال خود سے ہی جواب طلب کر لیتے ہیں
 اکثر خود کو صبر و تحمل میں یوں ہم ڈھال لیتے ہیں


تلخیاں پیدا کرنے والے بہت سے دیکھے اس جہاں میں
حسرت پھول کی رکھ کر چمن سے ہم خار چن لیتے ہیں

وہ دیکھیں گےغیر ارادی طور پر ہی سہی
آرزو خام سے یوں ہم اپناکام چلا لیتے ہیں

جانے والے جا چکے کب لوٹ کر آئے ہیں کبھی
چشم تر لیے پھر بھی جانے کیوں انتظار کر لیتے ہیں

مسرت ہوتی مل جا ئے کہیں وہ دوباره تبسم
بھول کر ساری جفا ئیں انکی ارادے باندھ لیتے ہیں

  ✍️ فہمیدہ تبسم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ
  
  

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]