نساء
جو تم نہ ہوتی جہاں میں اے نساء
ہر سوچھا ئی رہتی تاریکی اے نساء
یہ علم کے جوہر ، جوہر ہنر بے شمار
کہاں دھونڈ پاتے تیرے بغیر اے نساء
دیا تو نے دنیا کو ولی اور انبیاء
کہیں با یا زید تو کہیں مرتضی
تیرے علم سے ہے آراستہ دین و دنیا
تیرے علم سے ہے پیرستہ جنت نشاں
جوتو نے اٹھایا قلم تو وہ تلوار بے زبان
کہ جس سے کئے تونے فتح ہر میدان
جو تم نہ ہوتی جہاں میں اے نساء
ہر سو ہوتی نفرتوں کی زبان ہی زبان
اک ترا پڑھنا تیرا اپنا نہیں یہ جان لے
تونے پڑھایا کئی نسلوں کو یہ مان لے
جہالت کے گھپ اندھیروں کی تو دیا
نیلے گگن میں چمکتا ہوا تو ضیاء
علم کی قدر تو نے جب ہے جانی
ہوا تہذیب کا بول بالا لا فانی
دین پھیلا ، اسلام پھيلا تیرے جہد سے
زن کی عزت کی دنیا نے تیرے ہی و جد سے
جوتم نہ ہوتی جہاں میں اے نساء
ہر سو ہوتی نفرتوں کی زبان ہی زبان
خبر جب تونے اولاد کی لی کس کر کمر اپنی
پتھر کو تراش کر ہیرا نکالا کاوش علم سے اپنی
چاہے ہیرا ، چاہے موتی تیرے نیک ارادے
روندے جانا مٹی بن کر جو تو نہ ٹھانے
پڑھی لکھی نساء چاہے جو ہو جس روپ
گھر کو دیتی ہے وہ فردوس بریں کا روپ
اے نساء تو اہم تیرا وجود اہم اور تیرا علم بھی اہم
تیرے پڑھنے سے ہوگا ہر رشتہ اور سماج کا کردار اہم
آ پھر آ تو لوٹ آ ، چودھویں صدی کی تو عائشہ بن کر لوٹ آ
آ تو بی بی آسیہ بن کر کہ تری پڑھائی سے کرفرعون کا خاتمہ
تو پھر آجا ہماری ضرورتوں ، حاجتوں کو کرنے ختم
ترے علم سے روشن کر جہاں اور ، کرباطل کے ارادے ختم
اے نساء اے مہرباں اے مادر ملت تو بن پھر فاطمہ
تری آمد سے اٹھ کھڑے ہو جائے محفل تمام کی تمام
ـ تو آئی ہے علم پھیلانے جہاں میں ترا پڑھنا لازم ہے
تو آئی ہے محبت لوٹانے ترا علم حاصل کرنا لازم ہے
تری پڑھائی مٹائے گی جہیز کی لعنت
کوئی بیٹی نہ کرے گی خود پر ملامت
سماج میں کوئی ہے عزت نہ کرپائے گا
عورت کو تکلیف نہ کبھی دے پائے گا
بس تری پڑھائی ہی تری ڈهال ہے
ترے تانیث کی تو خود مثال ہے
چھوڑ دے یہ پرانے رسم و رواج
علم سے ترے سدھار دے تو سماج
خود پڑھ ، بہو بیٹی کو بھی پڑھا
علم کی بيل کو اپنی تو آگے چڑھا
فہمیدہ تبسم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ