غزل

آتے آتے آئے گی برسات کی رت
جا تے جاتے جائے گی خزاں کی رت

موسم جب سہانا ہو جائے تو یاد کرنا
 بہار میں کوئل گاتی ترانہ تو یاد کرنا

اب کے موسم بہار سب کا سب بیکار
تو نہیں تو یہ گلشن حیات سب بیکار

خوابوں میں سجا رکھنا ہر موسم کو
یاد آئی تو بلا لینا نیندوں میں مجھکو

ائے بہاراں ترا شکریہ ، مہربانی بہت
اشاره دے گئی میرے ہم دم کے آنے کی

خودی میں مگن رہتا وہ ہرجائی دیکھو
اسی ادا پر کیا نچھاور ہم نے دل اپنا

مسکراتے سبھی ہیں پر اس کا تبسم جدا
اک لمحہ میں آجاتی واپس ہوکر جان جدا

( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)


Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]