تنویر حمد ... ڈاکٹر خلیل صدیقی کا حمد یہ قطعات کا مجموعہ

  " تنویر حمد " قرب روحانی سے لبریز اور باری تعالیٰ کی بزرگی بیان کرنے والی غیر معمولی خاصیت و تابندگی رکھنے والے حمد یہ قطعات کا مجموعہ ہے جس کو جناب ڈاکٹر محمد خلیل الدین صدیقی قاضی صاحب نے بندہ کو خالق حقیقی سے جوڑنے والی ایک زبردست کڑی کے طور پر ہمارے روبرو پیش کیا ہے 
    جملہ 112 صفحات پر مشتمل اس حمدیہ قطعات کا مجموعہ ایک کتاب نہیں بلکہ خلقت کو خالق سے روحانی اور ذہنی طور پر قریب کرنے والی ایک دعا ہے ایک ذریعہ ہے
     انتساب : ... ڈاکٹر خلیل صدیقی صاحب کی ایک سے بڑھ کر ایک اخلاقی خوبیاں ہمیں انکی ہر ایک نئی اشاعت سے اجاگر ہوتی نظر آرہی ہیں ، جس میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اپنی " ماں " ہی نہیں بلکہ ان کے دل میں دنیا کی ہر ماں کے لئے اتنی ہی عزت ، عقیدت و احترام نمایاں پایا گیا ہے جتنا کہ خود وہ اپنی ماں کی تکریم بجالاتے ہیں، یوں تو تخلیقی صلاحیت میں وہ بے انتہا مقبول ہیں ہی اخلاقی اقدار میں دو ہاتھ آگے ہیں .
     ڈاکٹر صاحب کی تعلیمی قابلیت کسی بھی قلمی خاکہ کی متقاضی نہیں ہے جیسا کہ انھیں کاحمد یہ قطعہ پیش خدمت ہے
       آگ میں پھول کھلاتا ہے کرشمہ تیرا
       رات کو صبح بناتا ہے اُجالا تیرا
       جب کبھی کرتا ہے قرآن کی تلاوت قاضی ٓ
       راستہ اُس کو دکھاتا ہے صحیفہ تیرا ( ڈاکٹر خلیل صدیقی ،تنویر حمد).
       تنویر حمد کی نورانیت : ... الله تعالٰی اپنے برگزیدہ بندوں کو دنیا میں رزق حلال عطا فرماتا . اور کسی عظیم ہستی کے جستہ جستہ حالات لکھنا مانو جیسے قلم کو نادم کرنے کے مترادف ہے کیونکہ قلم اس قابل نہیں کہ وہ اس ہستی یا شخصیت کے بارے میں پورے انصاف سے کام لے سکے ـ
       یوں تو قطعہ کے لغوى معنى ٹکڑے کے ہوتے ہیں . ، لیکن ڈاکٹر خلیل صدیقی صاحب نے ایک حمدیہ قطعہ میں پوری ایک حمد ، ایک دعا اور ایک فریاد اور الله تعالٰی کی ثنا و بڑائی کو بیان فرمایا ہے . اور یہ کوئی عام نوعیت کا فعل نہیں ہے اس کار پاک کے لئے اپنا باطن بھی پاک و صاف اور ریا کاری سے دور رہنا بے حد ضروری ہو جاتا ہے . بقول عقیل ہاشم صاحب( سابق صدر شعبہ اردو ، عثمانیہ) کہ " ان قطعات کا بالا سے تاب مطالعہ سے یہ بات بھی اجاگر ہوگی کہ سراپا عجز و انکساری فدو بت کے ہمراہ حق تعالیٰ کے صفات عالیہ اس کی قدرت احسانات انعامات کے علاوه رحمت الٰہی ، مشیت ایزدی ، مغفرت خداوندی افعال کبریائی کو قرآنی فکر ونظر کے آئینہ میں اپنی مکمل عقیدت و محبت سے رقم کیا ہے( تنویر حمد ، کی نورانیت ، تنویر حمد از ڈاکٹر خلیل الدین صدیقی قاضی). 
       ایک ایسے دور میں جبکہ امت مسلمہ ایک کمزور دوراہے ہے پر کھڑی ہے ایک طرف کفر و شرک ، منافقت تو دوسری طرف بدعت و توہم پرستی کے وسیع دائرے میں خود کو مقید کرتی آرہی ہے ایسے میں یہ حمدیہ قطعات مانو جیسے ایک گناہ کبیرہ کا ارتکاب اور دین کی ہتک کے کفارہ کا موجب ذریعہ ہے ۔ اور خاص کر اردو زبان میں اس کی اشاعت اردو سے وفا ہی نہیں بلکہ اردو داں طبقہ سے ہمدردی کا جیتا جاگتا ثبوت پیش کرتی ہیں . یہ اردو کی خوش قسمتی سمجھ لیں یا پھر اہل اردو کی خوش نصیبی جو کہ ڈاکٹر خلیل صدیقی صاحب کی جد و جہد کی وجہ سے ساری دنیا میں اردو کو امتیازی حیثیت حاصل ہے اور رب کائنات کی برتری بیان کرنے کا موقع فراہم ہوا ہے . یہ قطعہ دیکھئے 
      مسجدوں میں اذان تجھ سے ہے
      گلشن دیں کی شان تجھ سے ہے
      سر پہ قاضی خلیل کے يارب
      رحمتوں کی مچان تجھ سے ہے ( تنویر حمد ، ڈاکٹر خلیل صدیقی). اس میں قاضی صاحب نے اللہ تعالیٰ کو کس خوبصورت انداز سے مخاطب فرمایا ہے .
      
       پیش لفظ: ..... ڈاکٹر محمد صدر الحسن ندوی مدنی رقمطراز ہیں کہ " اس وقت پورے ہندوستان میں صوبہ مہاراشٹر ا اردو کی ترویج و اشاعت اور اسکی سرپرستی میں امتیازی حیثیت کا حامل ہے "( پیش لفظ ، تنویر حمد ، ڈاکٹر خلیل صدیقی) بیشک اس اردو دوستی کا سہرا ڈاکٹر محمد خلیل الدين صدیقی قاضی صاحب کے سر جاتا ہے کہ جھنوں نے مرہٹی جيسى علاقائی ، زبان کے تئیں اردو کا ساتھ دیکر اپنی مادری زبان کی سرپرستی کا حق ادا کیا اور اسے ایک بہترین مقام دلوایا اور خود ایک مرد مجاہد بن اس زبان کو مضبوط حصار بن کر تمام لیا۔
       " تنویر حمد " کا فکری و فنی جائزہ : ... میں ڈاکٹر الیاس صدیقی ببان فرماتے ہیں کہ وہ محترم قاضی خلیل صدیقی سے متعارف نہیں ہیں . باوجود اس کے ڈاکٹر صاحب طويل فاصلہ طے کر کے انہیں دریافت فرمایا تاکہ تبصره لکھوایا جاسکے ، اتنے خفیف سے کام کو اتنی طویل مسافت کرکے آنا اس بات کی گواہی ہے کہ کا م اہم ہے " میری خیال سے خلیل صدیقی صاحب کی نظر میں کام، کام نہیں مہا کاج ہے ، اور ایک اور جگہ ڈاکٹر الیاس صدیقی رقمطراز ہیں کہ مہاراشٹرا حکومت اور اردو اکیڈمی کو ڈاکٹر خلیل صدیقی صاحب کی چار زبانوں پر عبور رکھنے کی خاصیت سے فیض یاب ہونا لازمی ہے . دوسرا ذکر یہ ہے کہ 251 قطعات کا مجموعہ تنویر حمد میں شائع کیا گیا ہے جس سے ڈاکٹر خلیل صدیقی صاحب کی زبان و بیان سے ان کے علم ریان اور فن شاعری سے واقفیت کا اندازه کیا جاسکتا ہے .. "
     میری نظر میں ربطور " تنویر حمد " کے شاعر جناب ڈاکٹر قاضی صاحب خود فاضل دینیات ديوبند ہیں جس کی تمام تر وحدانیت انکی اس کتاب میں نظر آتی ہے . " حمد " کہنا ایک صوفی سرمد کی شناسائی میں داخل ہے بہ الفاظ دیگر حمد کہنے کے حق پر کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا.
     ڈاکٹر محمد علامہ اقبال کا یہ شعر جناب ڈاکٹر خلیل صدیقی صاحب پر پورا اترتا ہے .
       توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
       آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا ۔
         ڈاکٹر محمد خلیل الدین صدیقی قاضی کا حمدیہ قطعات کا مقدس مجموعہ تنویر حمد بہ یک نظر: .... جس میں ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی صاحب ( ناندیڑ) رقمطراز ہیں کہ ڈاکٹر خلیل صدیقی صاحب آسمان ادب کا چمکتا ستاره ہیں وہ کم عمری میں کافی بلند وبالا شاعر کا مقام حاصل کرگئے . تمام اصناف شاعری اور اصناف نثر میں قاضی صاحب نے اپنی بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کے بل حاصل کیا ہے . وہ بیک وقت بچوں کے ادیب ، محقق نقاد ، تبصره نگار مترجم اور شاعر ہیں . ڈاکٹر صاحب کی اس تخلیقی صلاحیت کو اقبال کا یہ شعر مجھے ان پر جچتا نظر آرہا ہے .
         حسن کردار سے نور مجسم ہو جا
        کہ ابليس بھی تجھے دیکھے تو مسلماں ہو جائے
         ( اقبال) .بقول ڈاکٹر یوسف خان صابر " محمد خلیل صدیقی کا تخلیقی کام دیکھکر حیرت ہوتی ہے جو کام چاریا پانچ قلمکار مل کر نہیں کرسکتے ہیں وہ کام اکیلے کرگئے ہیں . " اور ڈاکٹر محمد کلیم ضیاء جیسے ہمہ جہت قلمکار ڈاکٹر محمد خلیل صدیقی کو بنجر صحراؤں میں چراغ روشن کرنے والا فنکار کہتے ہیں .
         ڈاکٹر صاحب کے تمام حمدیہ قطعات میں الله تعالٰی کی ذات سے ان کی بے پناہ والہانہ وابستگی کا پتہ چلتا ہے .
           " تنویر حمد " .. واقعی تنویر حمد ہے : ... ( مفتی) محمد خالد شاکر قاسیمی خطیب و امام مسجد خواجگان ناندیڑ ، مفتی صاحب تنویر حمد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حمد و مناجات میں ایک عظیم الشان مٹھاس پائی جاتی ہے . جس بندے کو یہ لذت نصیب ہو جاتی ہے وہ پھر دنیا کی لذت بھول جاتا ہے . اور وقت گزرنے کا پتہ نہیں چلتا اور وہ اپنی شاعری میں ناقص ہے جس کی تخليق رب کی تحمید وتکبیر میں نہ ہو. یہی وجہ ہے کہ حمد نام ہے رب کے احسان شناسى کا ، حمد دروازه ہے رب تک پہنچنے کا ، حمد ذریعہ ہے رب کی طرف سے دامن بھرے جانے کا رب کریم کے رحمت کے دروازے وا ہو جانے کا مظہر میرے دوست اور رفیق مکرم ڈاکٹر خلیل صدیقی ہیں . جو اپنی بے پناہ جد و جہد اور مسلسل محنت سے رب کریم کی حمد کا یہ مجموعہ قطعات کی شکل میں مرتب فرمایا . خدا وند کریم جب کسی کو نوازنا چاہتا ہے تو اپنی تکبیر و تہلیل کی صلاحیت اپنے خاص بندوں کو عنایت فرما تا ہے .
             طواف آرزو کے بعد : ..... ڈاکٹر محمد خلیل الدين صدیقی اس میں خود شاعر تنویر حمد رقمطراز ہیں کہ وہ الله تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان اور شکر بجا لاتے ہیں کہ جس نے انھیں لکھنے پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے نوازا ہے . جس کی وجہ سے اردو دنیا سے وہ متعارف ہوئے ہیں . اور اہلیان اردو کی قدر شناس نظروں نے انہیں جس درجہ بلند مقام عطا فرمايا اسکو وہ لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہیں . ساتھ میں وہ اطلاع بہم پہنچاتے ہیں کہ تنویر حمد موصوف کی انیسویں تخلیق ہے اور چوتھا شعری مجموعہ ہے 
             آخر میں وہ استاذالاساتذہ ڈاکٹر عقیل ہاشمی صاحب حیدر آباد ، ڈاکٹر محمد صدر الحسن ندوی اورنگ آباد ، ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب مالیگاؤں ، ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی صاحب ناندیڑ اور رفیق دیرینہ مفتی خالد شاکر صاحب کی خدمت میں مشکور ہیں اور دعا گو ہیں کہ الله تعالیٰ ان تمام قابل قدر شخصیتوں کو ہمیشہ با صحت رکھے( آمين)
             اور ساتھ میں زیر نظر حمد یہ قطعات کا مجموعہ " تنویر حمد " کی ترتیب اور انتخاب کلام کے سلسلے میں نامور ادیب و شاعر جناب مسرور عابدی ، ڈاکٹر نسرین ايمن ، ڈاکٹر روف خیر ، جناب اشفاق عمر جناب افتخار عابد ، جناب سید مجاہد حسین، حافظ محمد شفیع الدین ، جناب ایف ایم سیلم ، جناب انجینر قاضی جنيد ، جناب سلم کبیر ، جناب سید احمد جیلانی اور شیخ سراج کے گراں قدر مشوروں کا ہم تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ عزیزم سید ریاض پاشاہ نے کمپیوٹر کتابت کی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا ان کے لئے صرف دعائیں دے سکتا ہوں ...
             اور ساتھ میں پر امید ہیں کہ گذشتہ تین شعری مجموعوں کی طرح ان کا یہ چوتھا شعری مجموعہ " تنویر حمد " بھی قارئین کی خوب داد حاصل کرے گا ـ اور قارئین کے زرین تاثرات کے منتظر ہیں 
             میں ڈاکٹر محمد خلیل الدین صدیقی قاضی صاحب کی بہت ممنون ہوں کہ انھوں نے ہمیں "تنویر حمد " کی شکل میں اسمائے حسنیٰ کی تسبیح پکڑا دی ہے اور شاعر مشرق نے جس طرح سے ہر عمر کے حساب سے اپنی شاعری سے تبليغ کی اشاعت میں اپنے اہم کردار کو ادا کرتے ہوئے قوم کو دین کی دعوت دی ہے بالکل اسی طرح ڈاکٹر محمد خلیل الدین صدیقی قاضی صاحب کہ جن کو شاعر جنوبی ہند کہنا میرے خیال سے بجا ہوگا . اپنی دلکش اور پرکشش تصوف شاعری سے قارئین کے دل میں ڈھیر ساری جگہ بنالی ہے . اور کوشش کی کہ اس پیغام کو ہمارا معاشره قبول کرے اور اپنی سوئی ہوئی غفلت کی دنیا سے بیدار ہو کر رجوع الی الله ہو جائے ـ جیسا کہ قاضی صاحب کا یہ حمدیہ قطعہ ہے ...
             منظر ہے روشنی پس منظر ہے روشنی
             ذکر خدائے پاک کی گھر گھر ہے روشنی
             حمد خدا کہی تو یوں قاضی لگا مجھے
             اوراق جاں پہ حرف معطر ہے روشنی (تنویر حمد ، ڈاکٹر خلیل صدیقی قاضی)
             اور آخر میں دربار باری تعالٰی میں دعا گو ہوں کہ اس طرح کہ ظاہر و باطن پاک بندوں کو اللہ صحت و تندرستی عطا فرمائے اور دین و دنیا کی کامیابی سے سرفراز کرے آمين يا رب العالمین ...
             شکریہ ... فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ۔۔
      

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]