١١غزل
وہ محرومیاں وہ مصبیتیں یاد آتی ہیں
اچھے دن کے ساتھ وہ بے بسی یاد آتی ہے
رشتوں کی پکی ڈور، ناطوں کی سچائیاں
ریاکاری کے مراسم اور وہ پرہیز گاری یاد آتی ہے
خوشی کی خاطر ان کی آتش مصیبت کا سہنا
ماں باپ کی وہ مر مٹنے کی ادا یاد آتی ہے
نہ فکر دنیا داری کی نہ پرواہ دنیا کی
احکام الہی کی پرواہ بات وه یاد آتی ہے
اسلاف کے احسان کون یہاں چکا سکے گا
کسے ہے فرصت یہاں جو آخرت یاد آتی ہے
چکا چوند آنکھیں اس ہیرے پر تبسم سب کی
جوہری کی مہارت کب کہاں کسے یاد آتی ہے
( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)