زندگی کے رنگ ‏قسط ‏٥٤


یہ کیا بات ہوئی تاریخ کو ہما کی موت سے دور ہٹا دیا گیا لیکن اب ثقلین رضا بضد ہیں کہ شادی کی تاریخ کو قریب کردیں جلد مقرر کریں ، پتہ نہی کیا بات ہوگئی آسیہ نے تشويش ظاہر کی ، معز صاحب نے بھی سنا، ٹھیک اب ساری تیاریاں ہوچکی ہیں ہو جانے دو نا تمھیں کیا اعتراض ہے وہ بیوی کو آگاه کرنے لگے ،
 عاصمہ تک یہ خبر گردش کرتی چلی گئی ، وہ بہن سے ملاقات کے بہانے آئیں ، تیاریاں تو مکمل ہوچکی ہیں اب صرف تاریخ مقرر کرکے فنکشن ہال بک کرنا باقی رہ گیا آسیہ نے بہن کو تفصیلات دیتے ہوئے کہا اور ثقلین رضا نے جلد نکاح کا پیغام بھیجا ہے ہمیں بھی یہی مناسب لگ رہا ہے آپا ، ہاں ہاں تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے آجکل ہر چیز آسانی سے دستیاب ہے اور ہر کام سہل اور آسان ہے ، اور ویسے بھی لوگ بھی بہت چالاک ہیں کہ خود کے اندرونی معاملات سے آگاہی نہ ہو جائے چٹ منگنی اور پٹ بیاه رچا دیتے ہیں ۔
 کیا مطلب ہے آپ کا آسیہ نے بہن کے اشارے کو سمجھ کر نہ سمجھتے ہوئے سوال کرڈالا ، اری میرا مطلب ہے اچھے خاصے رشتوں کو توڑوا نے میں لوگ پس وپیش کہاں کرتے ہیں ، ہاں میں بھی آپ سے متفق ہوں ، چلئے وقت مقرر رہتا ہے اللہ نے جس کے سہرا کے پھول جب کھلائے تب نکاح ہو جائے گا ہمارا کیا عمل دخل ، آسیہ نے اطمينان سے کہا ، ہاں یہ بات سولہ آنے سچ کہی تو نے عاصمہ بھی قائل ہوئیں ،  ساره کہاں ہے ، اپنے کمرے میں ہو نگی شائد ، اچھا اچھا ۔ 
  ساره اگر تمہارے من میں کچھ بات ہے تو کہہ ڈالو ابھی ورنہ بعد میں سب بیکار ہو جائے گا، عاصمہ  ساره کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھنے لگیں ۔ 
ساره نے خالہ کی بات کو تعجب سے سنا ، آنٹی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ، ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں جوکہ آئندہ سب کو پریشان کرے ، میں ہر طرح سے اس رشتہ کے لئے رضا مند ہوں ، ہاں ہاں بیٹی بہت اچھی بات ہے بلا شبہ تم اس رشتے کو اپنی پسند سے اپنائی ہو لیکن پھر بھی , رشتہ جڑ جانے  سے پہلے دل میں اگر کوئی گمان ہوتو بتاسکتی ہو، ایسا کہا میں نے عاصمہ نے سٹپٹاتے ہوئے بھانجی کو سمجھایا ،۔
     ******************************
 ہائے الله میری بچی کی قسمت تو کھوٹی نکلی ، یہ ہر وقت اچانک کچھ نہ کچھ رکاوٹیں کیوں آرہی ہیں ، یا میرے خدا تو قادر ہے میری ساره کے حق میں بہتر سے بہترین عطا فرما ، آسیہ رونے لگیں ، معز صاحب کو زیادہ پریشان ہونا صحت کے لئے مضر تھا ، ساره تو ہکا بکا سی سب دیکھ رہی تھی ، امی پاپا آپ لوگ پریشان مت ہوئیے ، سب الله پر چھوڑ دیجے ، وه اپنے والدین کو دلاسہ دے رہی تھی . مگر بیٹی یہ ثقلین رضا نے آخر اپنا فیصلہ کیوں تبدیل کرڈالا ، پہلے تاریخ کو سامنے کیا اب رشتے سے منحرف کیوں ہوگئے آخر وجہہ کیا ہے معلوم تو ہو ، ہمارا قصور کیا ہے ؟ آسیہ نے ساره سے سوال کرڈالا ، پتہ نہیں امی مجھے خود گہرا کرب ملا ہے ، کیا بات مخفی ہے کسی کو خبر نہیں ، رشتے سے انکار کی کوئی تو وجہ ہونی چاہیے ،
اب کارڈز چھپنے کو دیئے اور فنکشن بک ہوچکا شادی کی ساری تیاریاں مکمل ہو گئیں ایسے میں وہ انسان رشتہ توڑ نا میرے لئے اس سے بڑی توہین اور کیا ہوگی آسیہ نے آنسو کو اپنے آنچل سے صاف كرتے ہوئے بیٹی سے کہا ، نہیں ساره میں اس طرح سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے تھوڑے ہی بیٹھو نگی ، سید ها رخسانہ آپا سے بات کرونگی ، فون لگاؤ ذرا ، جی امی ساره نے کال کنکٹ کرکے دیا ۔ 
             **************************
جی اسلام علیکم آپا! وعلیکم اسلام آسیہ ! آ پا یہ میں کیا سن رہی ہوں ؟ آپ نے جو کہلوا بھیجا کیا یہ سچ ہے ؟ ہاں آسیہ، مگر اس طرح سے آپ رشتہ توڑ کر ہمارے منہ پر طمانچا مارنے کے مترادف کام کیا ہے ، ارے نہیں بہن میری مجبوری کو تم نے دیکھا نہ سنا ، کیا مجبوری ہوسکتی ہے جو آپ لوگوں نے رشتہ ہی ختم کرڈالا ، آخر کوئی نقد رقم چاہیے تھی تو کہہ دیتی میں دے ڈالتی ، آپ کی ہر مانگ پوری کردیتی آ پا مگر آپ نے ذکر تک نہیں کیا اور راست رشتے کو ہی ختم کردیا ، آسیہ تم نے اپنا سنایا اب میرا بھی سن لو ذرا ، ہاں بتائیں . ثقلین کو پرسوں یک ساتھ تین چارvomitings  ہوگئے ، اچھا آسیہ ذرا سا فکرمند ہوگئی پھر ، میرے بچے کو تم نے غلط سمجھا آسیہ ؟ وہ رونے لگیں ارے آپا آپ بات تو بتائیں کیا بات ہے ، Ctscan میں اسےbrain tumor بتایا رخسانہ بیگم زاروقطار رونے لگیں ، یا اللہ آسیہ نے حیران ہوکر دوبارہ گویا ہوئیں ، اب کیا ہوگا آپا ؟ وہی تو اس نے یہ سنتے ہی مجھ سے کہہ دیا کہ اب ساره میری شریک حیات نہیں بن سکتی امی ، ان سے کہہ دیں کہ رشتہ منظور نہیں ، یا خدا مگر یہ اچانک سے ایسا ہونا میری تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے ، میرا بیٹا بہت صاف دل اور نیک ہے آسیہ اس پر تہمت مت لگاؤ ، تمھاری بیٹی کی زندگی خوشیوں سے رنگنے کے لئے اس نے خود کنارہ کشی اختیار کرلی ، وہ بہت چاہتا ہے ساره کو مگر دیکھو قدرت کے فیصلے ہمارے ارادوں سے مختلف ہوتے ہیں ۔ ہاں آپا علاج تو ہوگا نا ، بیکار ہے سب علاج ، ایسا نہ کہیے آپا خدا کی ذات سے ناامید مت ہوئیے ، بس یہی خیال دل میں لاکر میں نے چپ سادھ لی ہے ورنہ ، ہمارے اختیار میں کچھ ہے نہیں جس سے ہم ثقلین کی بیماری کو صحت میں تبدیل کرسکیں ۔
             **************************
تم پاگل ہو گئی ہو ساره ؟ یا کچھ اور امی آپ جو بھی کیے مجھے برا نہیں لگے گا بس میری التجا ہے آپ میرا نکاح ثقلین رضا سے کرا دیں ، اری وہ اب چند مہینوں کا مہمان ہے اور تو اس کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا سونچ رہی ہو ، ہاں امی بس ان چند مہینے ہی میری خوشیاں بھری زندگی ہوگی مجھے اور کچھ نہیں چاہیے پلیز آپ ان سے کہہ دیں مجھے منظور ہے وہ جیسے بھی ہیں بس آپ مجھ پر ایک مہربانی کردیں امی ، اف خدا اس دیوانی لڑکی کو میں کیسے سمجھاؤں ، آسیہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا ، معز الدین نے سنا تو بہت اپ سٹ ہو گئے اور بیٹی کو سمجھانے لگے، آپ خواه مخواه کیوں اپنی زندگی کو اندھیروں میں دھکیلنا چاه رہی ہیں بیٹیا ؟ پاپا بس مجھے اور کسی سے نہیں ثقلین رضا سے ہی نکاح کرنا ہے ، آپ لوگوں کو ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتی ہوں پلیز مان جائیے ، وہ رونے لگی ، آخر تمھیں ہوا کیا ہے ہوش میں تو ہو ؟ آسیہ نے بیٹی کی طرف ناراضگی سے دیکھتے ہوئے پوچھا ، ہاں امی میں پورے ہوش و حواس میں رہ کر ہی بات کررہی ہوں ،
      ******************************
 ساره آپ نے غلط فیصلہ لیا ہے ! ثقلین نے راست ساره کو کال کرکے تنبیہہ کی ، میں اپنے فیصلے پر اٹل ہوں اب آپ کا فیصلہ کیا ہے ؟ اس نے بھی الٹا سوال کرڈالا  ، آپ نادانی  اور جذبات میں آکر فیصلہ نہیں لے سکتیں ، میں اپنے صحیح فیصلہ سے خوش اور مطمئن ہوں ، اور آپ ؟ یہ کیا حماقت ہے ساره آپ سمجھتی کیوں نہیں ، میرے ساتھ چلنے سے آپ کو اندھیروں اور ناکامیوں کے راستوں کے سوا کچھ نہیں ملے گا ، اپنی خوبصورتی ، جوانی کو کیوں داؤ پر لگانا چاه رہی ہو ، میں مانتا ہوں پہلے جیسے ارمان  تم نے قائم کر رکھے ہیں مگر افسوس اب میں اس قابل نہیں رہا ، پلیز ساره میری بات مان لو اور .. بس آپ اب بس کیجے مجھے اور کچھ نہیں سننا ہے ، یہ کیوں نہیں کہتے کہ میں پسند نہیں ہوں ؛ ساره ..... ثقلین رضا کی گرجتی آواز نے ساره کے کانوں پر بجلی کی طرح کام کیا ، وہ سہم سی گئی ، میری چاہت ، محبت اور عقیدت ہو تم ، یہ تم نے کیا کہہ دیا ساره وه رونے لگے ، پلیز آپ مجھے انکار نہ کریں میں اتنا چاہنے والے کو فراموش نہیں کرسکتی ، میری آرزو ، ارمان اور مان ہیں آپ، ہم جیلیں گے جب تک اللہ نے ہمیں ساتھ جینے کا تحفہ دیا ، بس ایک بارمجھے اپنا لیجےثقلین پلیز رحم کرم ... ٹھیک ہے ساره آپ کی ضد کے آگے میں ہار گیا  آپ نے اپنی باتوں سے مجھے قائل کر دیا ساره . جیسی آپ کی مرضی ہوگی ویسا ہی ہوگا ۔ انشاء اللہ ، شکریہ آپ کا ...  ساره نے خوش دلی سے کہا ،پاگل لڑکی وہ ہنس کر فون رکھنے لگے  . 

رم جھم برسات کتنی شفاف ہے
 چاہت بھی تیری اتنی ہی شفاف ہے

کرنہ غم تو میرے ہم نوا میرے حضور
 ہم ساتھ چلیں گے تو ستارے روشن ہونگے

کسی کی چاہت میں ڈوبے رہنا محبت نہیں
کسی کی چاہت قبول کرنے کا نام  محبت ہے

وہ کیا سمجھے نگے عشق وفا ، اور قربانی
جن کے دل پتھر اور لوہے جیسے ثقیل کے ہیں

         **************************



Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]